کیا کابینہ کی توسیع میں آر ایس ایس کا دخل تھا ؟

Source: S.O. News Service | Published on 4th September 2017, 7:14 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی،4ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتوار کے روزہونے والی کابینی رد وبدل میں محض وزیر اعظم نریند مودی کی ہی مرضی نہیں بلکہ اس میں آر ایس ایس کا بھی دخل نظر آرہا ہے۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس توسیع میں وزیر اعظم کی مرضی اتنی نظر نہیں آرہی ہے،  جتنا سنگھ کا اثر دکھائی دے رہا ہے۔ توسیع کے کسی بھی فیصلے سے ایسا محسوس نہیں ہوتا ہے کہ وزیر اعظم حکومت کی کارکردگی کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وزارت دفاع جیسا قلمدان نرملا سیتارمن کو نہیں دیا جاتا۔ توسیع سے قبل اس بات کی عام چرچا تھی کہ نرملا سیتا رمن کو خراب کارکر دگی کی وجہ سے ہٹایا جا سکتا ہے اور جو وزارت ان کے پاس تھی اس میں بھی کوئی نمایاں کارکردگی نظر نہیں آئی پھر نہ جانے ان کو اتنی بڑی ذمہ داری کے لئے کیوں منتخب کیا گیا۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب بہت کم لوگوں کے پاس ہے، کیونکہ اگر یہ فیصلہ انتخابی سیاست کو ذہن میں رکھتے ہوئے لیا گیا ہے تو بھی اس میں وزن نظر نہیں آتا کیونکہ نرملا سیتارمن جس ریاست سے آتی ہیں وہاں پر این ڈی اے اتحادی چندرا بابو نائڈو کی حکومت ہے اس لئے بی جے پی کے لئے اس ریاست میں زیادہ کچھ نہیں ہے۔

 نرملا سیتارمن کی سب سے بڑی خصوصیت صرف یہ ہے کہ اپنی بات کو پیش کرنا بہت اچھی طرح جانتی ہیں اور اسی لئے ان کا شماربی جے پی کے کامیاب ترجمان میں ہوتا ہے۔یہ بہت ممکن ہے کہ کارپوریٹ امور کی وزارت کے دوران کارپوریٹ گھرانوں سے ان کے مراسم اچھے بنے ہوں اور کیونکہ وزارت دفاع اب ایک ایسی وزارت ہے جہاں اندرونی اور بیرونی ممالک کے کارپوریٹ گھرانوں کی دلچسپی زیادہ بڑھ رہی ہے۔ اس لئے بہت ممکن ہے کہ ان گھرانوں نے ان کے لئیبلے بازی کی ہو۔ مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیکہ نرملا سیتا رمن کی غیر معمولی ترقی میں کچھ تو ایسا ہے جو نظر نہیں آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نرملا سیتا رمن کی تعریف میں زیادہ کچھ نہ کہہ کر اس بات کی تشہیر زیادہ کی جا رہی ہے کہ وہ دوسری خاتون وزیر دفاع ہیں۔نرملا سیتارمن کے علاوہ اوما بھارتی کو وزارت سے نہ ہٹا پانا اور پرہلاد پٹیل کو کابینہ میں شامل نہ کر پانا اپنے آپ میں واضح اشارہ ہے کہ وزیر اعظم اتنے مظبوط نہیں ہیں کہ وہ اپنی مرضی چلائیں۔ اقتدار کے گلیاروں میں یہ بھی چرچا ہے کہ وزیر اعظم نے سشما سوراج اور راج ناتھ کو ان کے قلمدان تبدیل کرنے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ بات سنگھ تک پہنچی جس کے بعد فیصلہ بدلا گیا۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ اس توسیع میں ارون جیٹلی کے قریبیوں کو زیادہ جگہ ملی ہے اور اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ نہ صرف جیٹلی اپنے قریبی ہردیپ پوری کو وزیر بنوانے میں کامیاب رہے بلکہ ان کو شہری ترقی کا آزادانہ چارج دلوانے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ واضح رہے دہلی کی سیاست میں شہری ترقی کی وزار ت کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس کے تحت ہی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے)آتی ہے۔

دھرمیندر پردھان کو کابینہ وزیر بنانے کے ساتھ ان کی وزار ت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جس کی بڑی وجہ اس وزارت میں ایک خاص کارپوریٹ گھرانے کا دخل ہے۔ دھرمیندر پردھا ن کی ترقی میں سنگھ کے اس مقصد کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ بی جے پی اب اپنا دائرہ شمالی ہندوستان سے آگے بڑھانا چاہتی ہے اور اڈیشہ، تمل ناڈو اور کیرالہ کا اس توسیع میں اہم کردار ہیں۔ کیرالہ کی وجہ سے الفانسو آر ایس ایس کی پسند رہے ہیں اور تمل ناڈو کے تعلق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا فیصلہ جب لیا جائے گا جب وہاں پر اے آئی ڈی ایم کے کے تمام دھڑوں میں اتحاد ہو جائے گا۔تیسری کابینہ کی توسیع جس کی بہت زیادہ تشہیر کی گئی تھی اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ اس ردو بدل میں آر ایس ایس کا اثر زیادہ دکھائی دیا۔ آر ایس ایس مودی حکومت پر اس قدر حاوی ہے کہ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی خود بونے ہیں۔اس میں بھی کو ئی دو رائے نہیں ہے کہ ابھی تک بہترین تقاریر کے علاوہ وزیر اعظم نے ملک کو کچھ نیا نہیں دیا ہے بلکہ جس جانب ملک کی معیشت گامزن ہے اور نئی نسل میں بڑھتی بے روزگاری کی وجہ سے اس کی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے وہ ملک کے مستقبل کے لئے اچھا نہیں ہے۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ کابینہ کی توسیع ہو یا کوئی بھی حکومت کا فیصلہ اس کو ایونٹ بناکر پیش کرنے کے بجائے عوام کو زمین پر کچھ راحت پہنچایئں، کیونکہ وہ مضبوط جب ہی ہوں گے جب ملک اور ملک کی عوام مضبوط ہوگی، مگر کیا وہ ایسا کر پائیں گے۔کیا مودی سرکار پرسے سنگھ کا کبھی سایہ ہٹ پائے گا!۔
 

ایک نظر اس پر بھی

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

لوک سبھا انتخابات؛ آخری مراحل کے انتخابات جاری؛ 918 اُمیدواروں کی قسمت داو پر؛ ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں؛ بنگال میں دو کاروں پر حملہ

لوک سبھا انتخابات کے ساتویں  اور آخری مرحلہ کے لئے اتوار کی صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔جس میں  918 امیدواروں کی قسمت دائو پر لگی ہوئی ہے۔آج جاری انتخابات میں  وزیر اعظم نریندر مودی کا حلقہ انتخاب وارانسی بھی شامل ہے۔ 

دہشت گرد ہر مذہب میں ہیں: کمل ہاسن

تنازعات میں گھرے اداکار لیڈر کمل ہاسن نے جمعہ کو کہا کہ ہر مذہب میں دہشت گرد ہوتے ہیں اور کوئی بھی اپنے مذہب کوبہترین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

بی جے پی کو280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی، این ڈی اے کی سیٹیں 300 سے متجاوز ہوں گی: پی مرلیدھر راؤ

بی جے پی لیڈر رام مادھو کے تخمینے کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر پی مرلیدھر راؤ نے کہا کہ بھگوا پارٹی کو 280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی جبکہ این ڈی اے کے سیٹوں کی تعداد 300 کے پار ہوں گی۔

مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملہ: اے ٹی ایس کی عدالت سے غیر حاضری کے معاملے میں عدالت کا دخل دینے سے انکار

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ متاثرین جانب سے خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل عرضداشت جس میں اس معاملے کی سب سے پہلے تفتیش کرنے والی تفتیشی ایجنسی ATSکی عدالت سے غیرحاضری پر سوال اٹھایا گیا تھا کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ اے ٹی ایس کو پابند کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ...

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری ...

بھٹکل کے نشیبی علاقوں میں کنووں کے ساتھ شرابی ندی بھی سوکھ گئی؛ کیا ذمہ داران شرابی ندی کو گٹر میں تبدیل ہونے سے روک پائیں گے ؟

ایک طرف شدت کی گرمی سے بھٹکل کے عوام پریشان ہیں تو وہیں پانی کی قلت سے  عوام دوہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بلندی والے بعض علاقوں میں گرمی کے موسم میں کنووں میں پانی  کی قلت  یا کنووں کا سوکھ جانا   عام بات تھی، مگر اس بار غالباً پہلی بار نشیبی علاقوں میں  بھی پانی کی شدید قلت ...

مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی 2008کے بعد ہونے والے بم دھماکوں اور قتل کااصل سرغنہ۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس کا خلاصہ

مہاراشٹرا اینٹی ٹیرورازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ سن  2008 کے بعد ہونے والے بہت سارے بم دھماکوں اور پنسارے، دابولکر، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے ادیبوں اور دانشوروں کے قتل کا سرغنہ اورنگ آباد کا رہنے والا مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی ہے۔

اب انگلش میڈیم کے سرکاری اسکول ؛ انگریزی میڈیم پڑھانے والے والدین کے لئے خوشخبری۔ ضلع شمالی کینرا میں ہوگا 26سرکاری انگلش میڈیم اسکولوں کا آغاز

سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلے میں کمی اور والدین کی طرف سے انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اب سرکاری اسکولوں میں بھی انگلش میڈیم کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...