’’یہاں نابالغ بچیاں رہتی ہیں، بی جے پی اراکین ووٹ مانگنے کے لئے گیٹ کے اندر نہ آئیں!‘‘۔کیرالہ میں گھروں کے باہر لگ گئے پوسٹرس

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 14th April 2018, 9:44 PM | ساحلی خبریں | ملکی خبریں |

کوچی 14؍اپریل (ایس او نیوز) اتر پردیش کے اُناؤ اورجموں کے کٹھوا میں ہوئے عصمت دری معاملات میں بی جے پی لیڈروں کی شمولیت کی خبریں میڈیا میں عام ہونے اور اناؤ عصمت دری کیس کے اصل ملزم بی جے پی رکن اسمبلی کو گرفتار کیے جانے کے بعد کیرالہ کے بعض گھروں کے باہر انوکھے طرز کے پوسٹرز چسپاں کیے گئے ہیں، جس میں بی جے پی پر سیدھا نشانہ سادھا گیا ہے۔

سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انگریزی اور ملیالم زبان میں گھروں کے داخلی گیٹس کے پاس والی دیواروں میں جو پوسٹرز ہیں اس میں لکھا ہے کہ :’’اس خاندان میں نابالغ بچیاں رہتی ہیں۔ بی جے پی اراکین ووٹ مانگنے کے لئے گیٹ کے اندر داخل نہ ہوں۔#بلاتکاری جنتا پارٹی‘‘ اس طریقے سے بی جے پی کے راج میں نابالغ بچیوں کے محفوظ نہ ہونے کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اناؤ اجتماعی عصمت دری کیس میں بی جے پی کے رکن اسمبلی کو کلیدی ملزم بنایاگیا ہے اور اس کے بھائی و دیگر لوگوں کو بھی اس گھناؤنے جرم میں ملوث بتایا گیا ہے۔متاثرہ لڑکی کی طرف سے یوپی کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ کو چٹھی لکھ کر اپنی بپتا سنانے کے باوجود ملزم رکن اسمبلی کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا گیا تھا۔ الٹے متاثرہ لڑکی کے باپ کو گرفتار کرکے پولیس کسٹڈی کے دوران ہلاک کیے جانے کا الزام بھی سامنے آیاہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد ملزم رکن اسمبلی کو سی بی آئی نے ایک دن پہلے گرفتارکرلیا ہے۔

جبکہ جموں کے ایک علاقے میں بنجاروں کی بستی سے آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ کو اغواکرکے گینگ ریپ کرنے کے بعدجس حیوانی طریقے سے اس کی لاش کو چیرپھاڑ کر رکھ دیا گیا تھا، اس سے پورے ملک میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ طرفہ تماشہ تو یہ ہوا کہ مندر کے گربھ گڑھی (حجرہ مقدس ) میں قید رکھ کر مسلم بچی کے ساتھ حیوانیت کا سلوک کرنے والے ملزموں کے حق میں بولنے اور ان کا دفاع کرنے کے لئے بی جے پی کے اراکین اسمبلی اور دیگر لیڈروں نے محاذ بنایا۔پولیس کو ملزموں کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے سے روکنے کے لئے غیرمسلم وکیلوں نے مورچہ کھڑا کیا۔ جب یہ سارے حقائق میڈیا کے ذریعے عام ہوئے تو زندہ ضمیر شہریوں کی جانب سے ہندوستان کے کونے کونے سے اس کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں۔

بی جے پی کی اخلاقی پستی اور کردار کے کھوکھلے پن کے خلاف احتجاج اور اپنا ردعمل ظاہر کرنے کا جو سلسلہ چل پڑا ہے ،اسی کی ایک انوکھی مگر بہت ہی معنی خیز کڑی کیرالہ میں گھروں کے باہر لگے یہ پوسٹرزہیں۔اور یہ پیغام سوشیل میڈیا کے ذریعے ملک گیر پیمانے پر پھیل گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل رکن اسمبلی کی کار روک کر بی جےپی کارکنان نے کی نعرے بازی

پیر کو جب دوحریف سیاسی پارٹیوں کے امیدوار پرچہ نامزدگی داخل کرنےکے دوران کچھ انہونی واقعات پیش آئے ۔ کانگریس امیدوار منکال وئیدیا اے سی دفتر میں پہلے پہنچ کر اپنا پرچہ داخل کرنےمیں مصروف تھے تو اسی وقت بی جے پی امیدوار سنیل نایک بھی اپنےلیڈران کے ساتھ پرچہ داخل کرنے کے لئے ...

بھٹکل بی جےپی میں عدم اطمینانی کا دور : امیدوار کے پرچہ نامزد گی کے دوران اہم اور سنئیر لیڈران غائب

پیر کو بی جے پی امیدوار سنیل نائک جب پرچہ نامزدگی کے لئے ہزاروں حمایتوں کے ساتھ روڈ شو کرتے ہوئے نکلے تو سابق وزیر اور بی جے پی لیڈران شیوانند نائک، سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک، بھٹکل کے ہندو برانڈ لیڈر ،بی جےپی ضلع نائب صدر گوند نائک کا نظر نہیں آنااورپروگرام کے بالکل آخر میں ...

بھٹکل رکن اسمبلی منکال وئیدیا اور بی جے پی امیدوار سنیل نائک دونوں کروڑوں جائیداد کے مالک

ریاست کے مختلف مقامات پر وزراء اور ارکان اسمبلی کی جائیداد میں دوگنا ، تگنا اضافہ ہواہے تو بھٹکل کے رکن اسمبلی منکا ل وئیدیا اپنی ذاتی سواریوں ، ڈامبر پلانٹ، ٹپر ، ہٹاچی وغیرہ کو فروخت کرتے ہوئے اپنی جائیداد میں 57،85410 روپئے کا اضافہ کر لیا ہے۔

اننت کمارہیگڈے کو فون پر ملی جان سے مارنے کی دھمکی۔سرسی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج

مرکزی وزیر برائے اسکل ڈیولپمنٹ اننت کمار ہیگڈے کو مبینہ طور پرکسی نے انجان نمبر سے فون کرکے جان سے مارنے کی دھمکی دی ، جس کے تعلق سے اننت کمار کے پرسنل اسسٹنٹ سریش شیٹی نے سرسی ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے۔

بھٹکل میں کانگریس کی طرف سے منکال وئیدیا اوربی جے پی کی طرف سے سنیل نائک نے داخل کیا پرچہ نامزدگی

کرناٹکا ودھان سبھا انتخابات کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے لئے آخری تاریخ 24/ اپریل ہے اور آج پیر کو دو اہم سیاسی حریف پارٹیوں کے طرف سے پرچہ نامزدگی داخل کی گئی ہے۔ کانگریس کی طرف سے آج منکال وئیدیا نے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا تو بی جے پی کی طرف سے سُنیل نائک نے  سینکڑوں ...

بھیما کورے گاؤں تشدد:کنوئیں میں ملی 19سال کے چشم دید کی لاش

ایک جنوری کو پونے کے بھیما کوریگاؤں میں دو فرقوں کے درمیان فساد بھڑک گیا تھا۔اس تشدد میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی تھی۔وہیں اس تشدد کی گواہ ایک 19سال کی چشم دید کی لاش فسادات متاثرین کے لئے لگائے گئے ریلیف کیمپ کے پاس ہی ایک کنوئیں میں ملی ہے۔