امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کو واضح برتری حاصل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th November 2018, 12:48 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 8نومبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) امریکہ میں منگل کے وسط مدتی انتخابات (مڈ ٹرم الیکشن) مکمل ہو چکے ہیں اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ اب تک کی گنتی کے مطابق ڈیموکریٹس نے اب سے کچھ دیر پہلے تک 193 جبکہ ری پبلیکنز نے 178 نشستیں حاصل کرلی تھیں۔

وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق، ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ ڈیموکریٹس، ری پبلیکنز سے ان کی 23 نشستیں چھین لیں اور ڈیموکریٹس ایسا کرنے میں کامیاب رہے۔ یہی نہیں بلکہ ڈیموکریٹس، ری پبلکنز سے گورنرز کی 4 نشستیں چھینے میں بھی کامیاب رہے۔

گورنرز کے انتخاب میں 50 میں سے ری پبلکنز کے 23 اور ڈیمو کریٹس کے 19 گورنر کامیاب ہوئے۔ امریکی ایوان نمائندگان 435 ارکان پر مشتمل ہے اور ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے لیے 218 نشستیں درکار ہیں۔

ڈیموکریٹس نے آج سب سے پہلی اہم کامیابی ورجینیا کے مضافاتی علاقے میں حاصل کی جہاں سے جینیفر ویکسٹن سینیٹر منتخب ہو گئی ہیں۔

سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو 51 سیٹوں کی ضرورت تھی تاہم ری پبلکن پارٹی نے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرلیا اور 51 نشستیں جیت لیں جب کہ ڈیموکریٹس نے 42 سیٹں حاصل کیں۔ ڈیموکریٹس کے پاس پہلے سے 23 نشسیں موجود تھیں۔

دوسری جانب ری پبلیکنز کے پاس پہلے سے 42 نشستیں موجود تھیں اور انہیں بالادستی کے لیے محض 9 ارکان کی ضرورت تھی۔ ری پبلیکنز کے دو سینیٹر کامیاب ہو ئے ہیں۔

سی این این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غالب امکان یہ ہے کہ سینیٹ بدستور ری پبلیکنز کے کنٹرول میں رہے گی اور ممکنہ طور پر ان کے سینیٹرز کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ کا کنٹرول ڈیموکریٹ کے لیے بہت مشکل ہے۔ البتہ ان کے پاس ایوان نمائندگان جیتنے کا امکان موجود ہے، کیونکہ کئی ایسے حلقوں میں جنہیں ری پبلیکنز کے حلقے سمجھا جاتا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گنتی میں سبقت کے پیش نظر یہ امکان موجود ہے کہ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کی 235 کے لگ بھگ نشستیں جیت سکتے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کے لیے 237 خواتین امیدوار بھی میدان میں ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ جب کہ سینیٹ کے لیے 23 خواتین مقابلہ کر رہی ہیں۔ ان میں 185 کا تعلق ڈیموکریٹس اور 52 کا ری پبلیکنز سے ہے۔ خواتین کی کامیابی سے کانگریس میں ان کی نمائندگی پہلی بار 20 فی صد سے بڑھ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں خواتین کے انتخابی اکھاڑے میں اترنے کی وجہ’ می ٹو‘تحریک، خواتین کی جانب صدر ٹرمپ کا رویہ، جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات اور اسقاط حمل کے حق سے متعلق ری پبلیکنز پارٹی کی پالیسیاں ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

امریکہ میں بھارتی طلباء کی تعداد میں مسلسل پانچویں سال اضافہ

 بین الاقوامی تعلیمی ایکسچینج سے متعلق آج جاری اوپن ڈورس رپورٹ  2018  کے مطابق، گزشتہ سال میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد 5.4 فیصد بڑھکر 196،271 ہو گئی۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہے کہ امریکہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد میں اضافہ ...

سویفٹ کا ایرانی بنکوں کو الگ کرنے کا اعلان

عالمی سطح پر رقوم کی ترسیلات کے سب سے بڑے نیٹ ورک "سویفٹ سسٹم" نے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی بنکوں کو مرحلہ وار سسٹم سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کی صدی تقریب میں ٹرمپ کی شرکت 

امریکی صدر ڈونالڈ جمعے کی علی الصبح دورۂ یورپ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اور درجنوں دیگر عالمی سربراہان ’آرمزٹائس‘ معاہدے کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا۔