کرناٹک کا پیغام: جہد وجہد سے ہی کامیابی ملتی ہے ........ تیشہ فکر عابد انور

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 21st May 2018, 5:24 PM | اسپیشل رپورٹس |

کہاوت ہے’ جیسے راجہ ویسے پرجا‘ اس کا نظارہ ہندوستان میں خوب دیکھنے کو مل رہا ہے۔لوگوں نے سر عام اور سوشل میڈیا پر گالیاں دینا سیکھ لیا ہے، عورتوں کی عزت و عصمت اور اس کے وقار کو کیسے مجروح کیا جاتا ہے یہ بھی سیکھ لیا ہے، فراٹے سے جھوٹ کیسے بولا جانا ہے اس  فن میں حکمرانوں کی طرح عوام بھی طاق ہوگئے ہیں۔بدعنوانی  ایمانداری میں کیسے تبدیل کی جاتی ہے یہ ہماری حکومت کا تاریخی ریکارڈ ہے۔ لوگوں کو کیسے بے وقوف بنایا جاتا ہے اس فن میں حکمراں طبقہ ید طولی رکھتا ہے۔بے شرمی کا مظاہرہ کیسے کیا جاتا ہے اس میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا اور ہر غلط کاریوں کو ہندو مسلم بحث میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے اس میں اس حکومت کی پی ایچ ڈی ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے جسے اچھائی کے کھاتے میں ڈالا جائے۔یہی وجہ ہے کہ سیاست کی سطح اس قدر نیچے گرگئی ہے کہ اسے اٹھانے میں دہائی چاہئے۔

کانگریس نے اپنی حکمرانی کے دوران بہت ساری غلطیاں کی ہوں گی ، امن و قانون اور جمہوری اقدار کو بھی پست پشت ڈالا ہوگا ، گورنروں کا  غلط استعمال کیا ہوگا ، سی بی آئی کا بھی استعمال کیا ہوگا اور دوسری ایجنسیوں کا بھی اپنے حق میں استعمال کیا ہوگا لیکن ایک دائرے میں رہ کر ان سب کاموں کو انجام دیا جاتا  تھا لیکن اب صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ سی بی آئی ہو یا عدالت، پولیس ہو یا این آئی اے، آئی بی ہو یا دیگر خفیہ ایجنسیاں حکومت کے وفادار ہونے کے بجائے پارٹی کا وفادار بن گئی ہیں۔ پارٹی کے مفاد کو حکومت کا مفاد سمجھ لیا گیا ہے۔ اس وقت  تقریباَ تمام سرکاری ادارے بھارتیہ جنتا پارٹی کے بازو کی طرح کام کررہے ہیں۔ لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ سی بی آئی کو اب طوطا کیوں نہیں کہا جارہا ہے ۔ ارے بھائی سی بی آئی کو طوطا کہنے والا خود بی جے پی کی گود میں چلا گیا ہے اور پارٹی کے مفاد کے حساب سے کام کرتا ہے اور فیصلے لکھتا ہے۔اسی طرح دیگر ادارے خواہ وہ الیکشن کمیشن ہو یا ویجلینس کمیشن، آڈیٹر جنرل ہو یا دیگر اتھارٹی، کسی کا نام آج لیا جارہا ہے۔ سابقہ قومی ترقی پسند اتحاد کی حکومت کے دوران کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی)  کی روز خبر چھپتی تھی اور آڈیٹ میں بتایا جاتا تھا کہ حکومت کے خزانے کا کتنا نقصان ہوا ہے اور کتنا کا گھپلہ ہوا ہے۔ یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کئے بغیر عوام کے درمیان پھیل جاتی تھی۔ اب کیا ہوا یہ ادارہ بند ہوگیا ہے یا کام کرنا چھوڑ دیا ہے کیوں کہ کوئی رپورٹ نہیں آرہی ہے۔ سابق آڈیٹر جنرل ونود رائے نے ٹو جی اسکیم کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک لاکھ ستر ہزار کروڑ روپے کے  سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا ہے لیکن سپریم کورٹ نے اس کے تمام ملزمین کو بری کردیا کیوں کہ ٹو جی گھپلہ ہوا ہی نہیں تھا یہ صرف ونود کی رائے کی ذہنی اپج تھی۔ اس گھپلے کے الزام میں سابق وزیر اے راجہ اور کروناندھی کی رکن پارلیمنٹ بیٹی کنی موزی کو جیل تک جانا پڑا تھا۔ اس کیس کی تفتیش میں کتنے پیسے خرچ ہوئے تھے اس کا سارا خرچ ونود رائے سے وصولا جانا چاہئے اور ان پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا جانا چاہئے لیکن وہ وہ بی جے پی کی گود میں بیٹھ کر ملائی کھارہے ہیں۔ بی جے پی نے ونود رائے کو انعام میں عہدے پر بٹھادیا ہے۔وہ اس وقت یو این پینل آف ایکسٹرنل آڈیٹر اور اعزازی مشیر کار برائے ریلوے اور ریلوے کایاکلپ کونسل کے رکن ہیں۔ ٹوجی کی وجہ سے یو پی اے دوم کی بہت بدنامی ہوئی تھی اور بدعنوان کا ایک دھبہ لگا تھا جس کی قیمت اسے 2014کے عام انتخابات میں ذلت آمیز شکست سے ادا کرنی پڑی تھی۔ 

کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اوراس کی پوری ٹیم جس میں نریندر مودی، تمام مرکزی وزراء، وزرائے اعلی، ممبران اسمبلی اور سنگھ پریوار کی پوری ٹیم لگی تھی اور خود پردھان سیوک نے حکومت کے تمام کام کاج چھوڑکر کرناٹک میں 21ریلیاں کیں۔تمام سرکاری مشنری کو لگایااس کے باوجود اکثریت تک نہیں پہنچ سکے  اور کانگریس سے دو فیصد کم ووٹ لے کر آئے، مگر  پھر بھی کہتے ہیں  کہ کرناٹک کے عوام نے کانگریس کو مسترد کردیا ہے۔ یہ اتنا ہی مضحکہ خیز ہے جتنا یہاں کا انتخابی نظام۔ ایک پارٹی 30فیصد ووٹ لیکر اکثریت کے ساتھ حکومت کر رہی ہے اور تمام الٹے سیدھے فیصلے کر رہی ہے جب کہ اس پارٹی کو 70فیصد لوگوں نے مسترد کردیا ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی 36فیصد ووٹ حاصل کرکے 104سیٹ لیکر آتی ہے اور کانگریس 38فیصد ووٹ لیکر صرف 78نشستیں حاصل کرپاتی ہے۔ دو فیصد ووٹ زیادہ اور 26نشست کم۔اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس سے ہی تقسیم کی سیاست پنپتی ہے ۔ ذات، پات، مذہب، علاقائیت اور طبقاتی نظام پیدا ہوتا ہے۔ اگر ووٹ فیصد کو نشست کے ساتھ مختص کردیا جائے تو یہ سارے لڑئی جھگڑے ختم ہوجائیں گے ۔ صرف اور صرف ترقیاتی، تعلیم، روزگار، صحت اور بنیادی سہولت کی دستیابی پر الیکشن لڑا جاسکے گا۔ موجودہ انتخابی نظام کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی نے اٹھایا ہے۔ کیوں کہ ان کے پاس سام ، دام ، ڈنڈ، بھید سب کچھ ہے۔ چت بھی اس کی ہے اور پٹ بھی اس کی ہے۔ جو چیز کانگریس کے لئے منفی پہلو ہوتی ہے وہی بی جے پی کے لئے مثبت بن جاتی ہے۔ خاص طور پر اس دور  میں جب جمہوریت کے سارے نظام بی جے پی کے سامنے سجدہ ریز ہے، اس میں کسی انصاف کی امید کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ کرناٹک کے سلسلے میں راج بھون نے جو ڈرامہ کیا ہے اور آئین کی آبرو تار تار کی وہ ہندوستانی جمہوریت کا سیاہ باب ہے۔ آئینی عہدہ پر بیٹھا شخص اس حدتک آئین کی دھجیاں  اڑاتے ہوئے کسی پارٹی کے حق میں لیٹ جائے گاایسا کسی جمہوری ملک میں نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود  ہمیں کثیر جمہوری ملک ہونے پر ناز ہے۔

فسطائی نظریہ کے حامل لوگوں کے ہاتھوں میں جمہوریت کبھی پنپ نہیں سکتی۔ وہ جمہوریت کو فسطائیت کے نفاذ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پورے ملک میں جس طرح فسطائیت کا عروج ہوا ہے یہ جمہوریت کے راستے ہی ہوا ہے۔ اس لئے جمہوریت کا راگ سب سے زیادہ یہی لوگ  الاپ رہے ہیں۔ درحقیقت جمہوریت کو کھوکھلا بنانے میں ان لوگوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ کرناٹک میں اسی کا کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ کانگریس کی مستعدی نے اس کا سارا کھیل بگاڑ دیا۔ کرناٹک کے سلسلے میں کس حد تک اعتماد سے بھرپور تھے اس کا اندازہ 15مئی کو بی جے پی کے صدر امت شاہ اور پی ایم مودی کے لب و لہجہ سے ہوتا ہے ۔ مودی اور امت شاہ کے زبان و بیان سے جس طرح رعونت و خشونت جھلک رہی تھی اس سے یہی لگ رہا تھا کہ کرناٹک میں کس کی ہمت ہے کہ بی جے پی کے علاوہ کوئی اور حکومت بنائے۔نتیجہ کے دن ایک ٹی وی ڈیبیٹ میں جب اینکر نے رام مادھو سے پوچھا کہ آپ کیسے حکومت بنائیں گے تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ’’ ہمارے پاس امت شاہ ہے‘‘۔ اس جملے سے پورے کھیل کو سمجھا جاسکتا ہے۔ 

امت شاہ ، بی جے پی اور مودی کی بے حسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسی دن مودی کے انتخابی حلقے میں پل کے پلر گرجانے سے ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے لیکن اسی دن وہ کرناٹًک اسمبلی میں جیت کی خوشی میں جشن منارہے تھے گرچہ ان کو کثریت نہیں ملی تھی اور جادوئی عدد سے آٹھ کم تھے اس کے باوجود جشن منارہے تھے۔ اگر بی جے پی اور اس کے صدر امت شاہ اور چوکیدار میں تھوڑی بھی انسانیت ہوتی تو وہ جشن کو ملتوی کردیتے اور فوراَ وارانسی کے لئے روانہ ہوتے لیکن افسوس کی بات ہے کہ پردھان سیوک نے اب تک وارانسی کی طرف رخ نہیں کیا ہے۔مودی کے انتخابی حلقہ بنارس میں اندوہناک حادثہ کے بعددہلی میں مودی اور امت شاہ کا پارٹی ہیڈکوارٹر میں جشن منانا کس انسانیت کے زمرے میں آئے گا۔ وارانسی کو کیوٹو بنانے کا دعوی کرنے والے مودی نے اتنا اچھا کام کیا ہے کہ ہندوستان کا تیسرا سب سے گند اشہر کی فہرست میں درج ہوگیا ہے۔ ہر بات پر دوسروں کا مذاق اڑانے والے ہمارے چوکیدار کو کسی چیز کا علم نہیں ہے لیکن وہ ہر چیز پر اپنا علم کا دریا ضرور بہاتے ہیں۔ کلکتہ کے پل حادثہ پر ممتا بنرجی کا مذاق اڑاتے ہوئے پردھان سیوک نے 7اپریل 2016کو مداری ہاٹ مغربی بنگال کے ایک انتخابی جلسے میں کولکاتہ میں پل ٹوٹنے کے حادثے کو بھگوان کی طرف سے علامت قرار دیا تھا ۔ اس لئے بھگوان نے لوگوں کو پیغام دیا کہ آج یہ برج ٹوٹا ہے کل پورے بنگال کو ختم کردے گی اسے بچاؤ اس لئے بھگوان نے  پیغام بھیجا ہے۔مودی نے اسے ایکٹ آف فراڈ قرار دیا تھا۔ یہ ایکٹ فراڈ کا نتیجہ ہے کیوں کہ انتخابی دنوں میں گرا ہے تاکہ پتہ چلے آپ نے کیسے سرکاری چلائی ہے۔ اب خود ان کے انتخابی حلقہ میں پل کا حصہ  گر گیا اس کے بارے میں مودی کیا کہیں گے۔ کیا بھگوان نے اُنہیں  سندیش دے دیا ہے کہ یہ مودی کا چل چلاؤ ہے یا مودی کی بدعنوانی کی علامت ہے۔ کیا بھگوان یہ کہنا چاہتا ہے کہ آج بنارس کے پل کا پلر گرا ہے کل پورا ملک گرجائے گا اگر مودی حکومت میں رہے ؟

کرناٹک انتخاب نے جہاں مودی اور امت شاہ کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا ہے وہیں کانگریس کو  ازسرنو زندہ ہونے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔کانگریس نے کرناٹک میں بی جے پی کو  ان کے ہی ہتھیار سے شکست دی ہے اور بی جے پی کے خوف و ہراس کے اسلحہ کو کند کردیا ہے۔ جو کانگریس لیڈران  اے سی روم سے باہر نہیں آتے تھے اُن ہی لیڈران نے کرناٹک اسمبلی کے مہاتما گاندھی کے مجمسہ کے سامنے لگاتار دھرنا دیا ہے۔اس کے ساتھ کرناٹک اسمبلی نے تمام حزب اختلاف کو متحد ہونے کا موقع فراہم کیا ہے اور یہ محسوس کرایا کہ اگر وہ ساتھ نہیں آئے تو بی جے پی سام ، دام ، ڈنڈ بھید سے اس کی زندگی ختم کردے گی۔ کانگریس نے بی جے پی کی غنذہ گردی اور گورنر کے غیرآئینی کام کے خلاف پورے ملک میں دھرنا دیا۔ چار پانچ ریاستوں نے اپوزیشن گورنر سے مل کر کرناٹک کے طرز پرحکومت بنانے کا اپنا دعوی پیش کیا۔ جس کی وجہ سے بی جے پی دباؤ میں آگئی اور مزید غیر آئینی کام کرنے سے باز آگئی۔ اس کے علاوہ کانگریس کی مستعدی سے سپریم کورٹ بھی سامنے آیا اور بی جے پی کے خلاف فیصلہ کرنے پر مجبور ہوا۔ ورنہ وہ رات کو ہی یڈی یورپا کے حلف پر روک لگاسکتا تھا لیکن خانہ پری کے لئے رات میں سماعت کی ا ور لسٹ فراہم کرنے کے باوجود اسٹے  نہیں لگایا۔ ورنہ تمام حالات ، واقعات اور شواہد کے بعد کورٹ یدی یورپا کو حلف لینے سے روک سکتا تھا۔ کرناٹک سے بی جے پی کے زوال کی کہانی لکھنی شروع ہوگئی ہے اور یہاں عوام اور اپوزیشن اگر سمجھداری کا ثبوت دیتے ہیں تو بی جے پی 2019میں صفحہ ہستی سے مٹ سکتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

عید الفطر کے پیش نظر بھٹکل رمضان بازار میں عوام کا ہجوم؛ پاس پڑوس کے علاقوں کے لوگوں کی بھی خاصی بڑی تعداد خریداری میں مصروف

عیدالفطر کے لئے بمشکل تین دن باقی رہ گئے ہیں اور بھٹکل رمضان بازار میں لوگوں  کی ریل پیل اتنی بڑھ گئی ہے کہ پیر رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ عید کی تیاری میں مشغول مسلمان ایک طرف کپڑے، جوتے اور  دیگر اشیاء  کی خریداری میں مصروف ہیں تو وہیں رمضان بازار میں گھریلو ضروریات کی ہر چیز ...

اگر حزب اختلاف متحد رہا تو 2019میں مودی کاجانا طے ........از: عابد انور

اگر متحد ہیں تو کسی بھی ناقابل تسخیر کو مسخر کرسکتے ہیں،کامیابی حاصل کرسکتے ہیں،مضبوط آہنی دیوار کو منہدم کرسکتے ہیں، جھوٹ اور ملمع سازی کوبے نقاب کرسکتے ہیں اور یہ اترپردیش کے کیرانہ لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں ثابت ہوگیا ہے۔ متحد ہوکر میدان میں اترے تو بی جے پی کو شکست ...

آئندہ لوک سبھا انتخابات: جے ڈی یو اور شیوسینا کے لیے چیلنج؛ دونوں کے سامنے اہم سوال، بی جے پی کا سامنا کریں یا خودسپردگی؟

شیوسیناسربراہ ادھو ٹھاکرے اور جے ڈی یو چیف نتیش کمار دونوں اس وقت این ڈی اے سے غیر مطمئن نظر آرہے ہیں۔ جس طرح سے اس باربی جے پی کا اثر ورسوخ بڑھا ہے، اس سے دونوں جماعتیں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔

اسمبلی انتخاب کے بعدبھٹکل حلقے میں کانگریس اور بی جے پی کے اندر بدلتا ہوا سیاسی ماحول؛ کیا برسات کا موسم ختم ہونے کے بعدپارٹیاں بدلنے کا موسم شروع ہو جائے گا ؟

حالیہ اسمبلی انتخاب میں کانگریسی امیدوار منکال وئیدیا کی شکست کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کے اندر ہی سیاسی ماحول ایک آتش فشاں میں بدلتا جارہا ہے ۔ انتخاب سے پہلے تک بظاہرکانگریس پارٹی کا جھنڈا اٹھائے پھرنے اور پیٹھ پیچھے بی جے پی کی حمایت کرنے والے بعض لیڈروں کو اب ...

ہندو نیشنلسٹ گروپ سے اقلیتی طبقہ خوفزدہ، امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ

امریکی وزارت خارجہ نے منگل کے روز بین الاقوامی مذہبی آزادی پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں 2017 کے دوران ہندو نیشنلسٹ گروپ کے تشدد کے سبب اقلیتی طبقہ نے خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کیا۔

مودی حکومت کے چار سال: بدعنوانی، لاقانونیت،فرقہ پرستی اور ظلم و جبر سے عبارت ......... از: عابد انور

ہندوستان میں حالات کتنے بدل گئے ہیں، الفاظ و استعارات میں کتنی تبدیلی آگئی ہے ، الفاظ کے معنی و مفاہیم اور اصطلاحات الٹ دئے گئے ہیں ،سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہا جانے لگا ہے، قانون کی حکمرانی کا مطلب کمزور اور سہارا کو ستانا رہ گیا ہے، دھاندلی کو جیت کہا جانے لگا ہے، ملک سے ...