زرخرید میڈیا .... از: مولانا آفتاب اظہر صدیقی

Source: از: مولانا آفتاب اظہر صدیقی | By I.G. Bhatkali | Published on 16th November 2016, 5:13 PM | آپ کی آواز | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

 آج کی صورت حال یہ ہے کہ بازار میں کچھ ہورہا ہے اور میڈیا کچھ اور دکھا رہا ہے، مظلوم کو ظالم، مقتول کو قاتل، محروم کو خوش بخت اور فقیر کو سرمایہ دار بنا کر پیش کرنا میڈیا کے لیے چٹکی کا کھیل ہوگیا ہے.

کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر دکھانا کوئی بھاری کام نہیں رہا، جس کا مکمل فائدہ الیکٹرانک میڈیا اٹھا رہا ہے، آج ٹیلیویژن پر نشر ہونے والے اکثر نیوز چینل فسطائی طاقتوں اور گھوٹالہ باز حکمرانوں کے زرخرید غلام ہیں، وہ نیوز اینکرز جن کا کام عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا، عام انسان کی پریشانیوں پر گفتگو کرنا اور کرپشن، فساد، غربت و حکمرانوں کی گندی سیاست پر سوال کھڑے کرنا تھا؛ آج وہ ملک کے مافیاؤں سے موٹی رقمیں وصول کرنے کے بعد سیاہ کو سفید کرکے دکھانے میں مصروف ہیں؛ یہ کوئی ذاتی قیاس آرائیاں نہیں ہیں؛ بلکہ ہر دماغ والا غور کر سکتا ہے اور اپنی منصف نگاہوں سے دیکھ کر نتیجہ نکال سکتا ہے کہ میڈیا کس قدر بکاؤ ہوچکا ہے.
تعجب تو یہ ہے کہ چند وہ چینل جنہیں فرقہ پرست اداروں اور بدکردار سیاست دانوں سے کچھ خاص فائدہ بھی نہیں ہے، لیکن پھر بھی وہ دوسرے چینلوں کی اندھی تقلید یا چند سکوں کی توقع میں وہی کاذبانہ اور منافقانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں.

در اصل ہمارے ملک ہندوستان میں سیدھے سادھے لوگوں کے ذہنوں کو مذہب یا ترقی کا جھانسا دے کر تشدد کا عادی بنا یا جارہا ہے، ان کی سوچ کا کارواں محبت کی راہ سے ہٹ کر نفرت کی پٹری پر چلنے لگا ہے، ان کو سچائی سے دور رکھا جارہا ہے اور جھوٹ کو اتنی بار دکھایا جارہا ہے کہ وہ  اسے سچ مان لیں.

بی.جے.پی کی حکومت بننے کے بعد اس جھوٹ کی دنیا کو کافی فروغ ملا ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ ایک بے قصور انسان کو گاؤں کے شر پسند افراد مل کر —صرف اس شبہ پر کہ اس کے گھر میں گائے کا گوشت ہے— قتل کر ڈالتے ہیں اور میڈیا اس مقتول اور اس کے اہل خانہ کو ہی مجرم بناکر پیش کرتا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ انسان کی جانوں کے دشمنوں کو "جانور سیوک" کا نام دے کر سراہا جارہا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ جے.این.یو کے بے قصور طلبہ پر— صرف اس لیے کہ انہوں نے ملک میں جاری عدم رواداری کے خلاف آواز اٹھائی— دیش دروہی کا الزام لگادیا جاتا ہے؟ آخر کس لیے فلمی اداکار عامر خان کے ایک چھوٹے سے جملے کو— جو حقیقت میں حکمرانوں کی کارکردگی سے بے اطمینانی کا اظہار تھا— بتنگڑ بنا کر اس کو ملک کا غدار تک کہہ دیا جاتا ہے؟ آخر کس لیے ملک میں غنڈہ راج کے خلاف آواز اٹھانے اور غریبوں و مظلوموں کے لیے لڑنے والے لوگوں کو مجرم بناکر کھڑا کردیا جاتا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ اس ملک میں حق کی آواز اٹھانے والوں کو میڈیا برداشت کرنے پر راضی نہیں؟ یہ سب دلائل و شواہد اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک کا اسّی فیصد میڈیا اور نوے فیصد نیوز اینکرز دل، دماغ اور زبان و قلم سمیت فروخت ہوچکے ہیں.

حال فی الحال کا منظرنامہ بھی عجیب تر ہے، ہزار پانچ سو کے نوٹ پر پابندی کے لیے مودی کے جاری کردہ فرمان کے بعد ملک کی پچاسی فیصد عوام طرح طرح کی پریشانیوں سے دوچار ہے، تجارت بند، دکانیں مقفل، کاروبار ٹھپ اور مزدور بے بس نظر آرہے ہیں، غریب کے گھر کھانے کو کچھ نہیں، میڈیم کلاس لوگوں کے پاس جو نقدی ہے وہ چلنے کے قابل نہیں، دکانداروں سے لے کر ٹھیکہ داروں تک سبھی پریشان ہیں؛ اور یہ سب کچھ لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہے؛ لیکن آپ ٹی.وی پر کوئی سا نیوز چینل آن کیجیے تو آپ کو "جے جے مودی" "واہ واہ مودی" کے نعرے سنائی دیں گے، ایک طرف عوام مودی صاحب کو گالیوں سے نواز رہی ہے اور ایک طرف ان نیوز اینکرز کا کہنا ہے کہ ہر آدمی مودی کے اس اقدام کی تعریف کر رہا ہے، حقیقت میں لوگ پریشان حال ہیں اور میڈیا کے مطابق سب خوش حال نظر آرہے ہیں، ایک طرف ملک کے اکثر شہروں کے اے.ٹی ایم ٹھپ پڑے ہوئے ہیں اور ایک طرف میڈیا کا دعوٰی ہے کہ ہر آدمی روزانہ اے.ٹی ایم سے دوہزار نکال سکتا ہے، ایک طرف شہروں کے بینکوں میں رقم ختم ہے یا نا کے برابر ہے جس کی وجہ سے چار ہزار کے بجائے لوگوں کو صرف پانچ پانچ سو روپے دے کر ٹرخا دیا جارہا ہے اور نیوز چینلوں کی رپورٹ کے مطابق ریزرو بینک کے پاس بےشمار پیسہ اور نوٹ ہیں، ایک طرف عوام سرکار کے اس جلدبازی کے فیصلے سے پریشان ہے تو دوسری طرف الیکٹرانک میڈیا، نیوز اینکرز، فلمی اداکار، بزنس مین، مافیا گروپ اور گھوٹالہ باز کمپنیاں اس اعلان سے بہت خوش ہیں اور اپنی خوشی کا اظہار بھی کر رہے ہیں، آخر کچھ تو دال میں کالا ہے!! یا پھر پوری دال ہی کالی ہے. دیش کی جنتا نے یہ پریشانی خود مول لی ہے، بی.جے.پی کے جھوٹے وعدوں کے سیلاب میں بہہ جانے والوں نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے جس کا احساس انہیں اب ہورہا ہے؛ لیکن حکومت کی گدی پر بیٹھنے والے الیکٹرانک میڈیا کو خرید کر عوام کے ذہنوں سے اس احساس کو ختم کر دینا چاہتے ہیں؛ لیکن ان کے اس منصوبے پر پانی پھیرنے کا کام بھی "سوشل میڈیا" اردو پرنٹ میڈیا اور چند غیر بکاؤ نیوز اینکرز کر رہے ہیں. ہمیں امید ہے کہ ہزار ہا چال بازیوں اور منصوبوں کے بعد بھی مکاروں کی مکاریاں اور لٹیروں کے اصلی چہرے سامنے آکر رہیں گے کیوں کہ جھوٹ کا میدان کتنا ہی وسیع ہوجائے جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے. اور تخت نشینوں کے لیے مثل مشہور ہے "ہر کمالے را زوالے"

نوٹ: اس کالم میں شائع مضامین، مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں، جس کا ادارئے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں طبی سہولیات کا ایک جائزہ؛ تنظیم میڈیا ورکشاپ میں طلبا کی طرف سے پیش کردہ ایک رپورٹ

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے منعقدہ پانچ روزہ میڈیا ورکشاپ میں جو طلبا شریک ہوئے تھے، اُس میں تین تین اور چار چار طلبا پر مشتمل الگ الگ ٹیموں کو شہر بھٹکل کے مختلف مسائل کا جائزہ لینے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس میں سے ایک  ٹیم جس میں  حبیب اللہ محتشم ...

بھٹکل کے سی سی ٹی وی کیمرے کیا صرف دکھاوے کےلئے ہیں ؟

شہر بھٹکل پرامن ، شانتی کا مرکز ہونے کے باوجود اس کو شدید حساس شہروں کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے یہاں سخت حفاظتی اقدامات کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔مندرنما ’’ناگ بنا ‘‘میں گوشت پھینکنا، شرپسندوں کے ہنگامے ، چوروں کی لوٹ مار جیسے جرائم میں اضافہ ہونے کے باوجود شہری عوام حفاظتی ...

امریکہ نے پھر سے کیوں بنایا افغانستان کو نشانہ؟ ........ آز: مھدی حسن عینی قاسمی

 کوئی بھی سرمایہ دار ملک  پہلے آپ  کو متشدد  بناتا ہے اور ہتھیار مفت دیتا ہے پھر ہتھیار فروخت کرتا ہے، پھر جب آپ  امن کی بحالی کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے اوپر بم گرا دیتا ہے. ٹھیک یہی کہانی ہے امریکہ اور افغانستان کی، پہلے امریکہ نے  افغانستان کو طالبان اور  القاعدہ ...

راستے بندہیں سب، کوچہ قاتل کے سوا؟ تحریر: محمدشارب ضیاء رحمانی 

یوپی میں مہاگٹھ بندھن نہیں بن سکا،البتہ کانگریس،ایس پی اتحادکے بعدیوں باورکرایاجارہاہے کہ مسلمانوں کاٹینشن ختم ہوگیا۔یہ پوچھنے کے لیے کوئی تیارنہیں ہے کہ گذشتہ الیکشن میں سماجوادی کی طرف سے کیے گئے ریزویشن سمیت چودہ وعدوں کاکیاہوا؟۔بے قصورنوجوانوں کی رہائی کاوعدہ ...

گجرات فسادات کے قاتل گاندھی جی کا قتل کرنے کے بعد نظریات کو بھی قتل کرنے کے درپہ،کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھولنے لگا ہے۔از:سید فاروق احمدسید علی،

جب سے نریندردامور مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ملک کے حالات میں جیسے بھونچال سا آگیا ہے۔ انہونی ہونی ہوتی نظر آرہی ہے۔وزیراعظم خود کو تاریخ کی ایک قدر آور شخصیت بنانے کے لئے پے درپے نت نئے فیصلے کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس میں چاہے کسی کا بھلا ہو یا نقصان ہو ویسے نقصان ہی زیادہ ...

منگلورومیں نوجوان کو اغوا کرکے تاوان وصول کرنے والے نکلے منشیات فروش۔ 2.89لاکھ روپے مالیت کی اشیاء ضبط

چند دن پہلے فالنیر علاقے سے شماق نامی نوجوان کو اغوا کرنے اور بعد میں 50ہزار روپے تاوان وصول کرکے چھوڑنے والے کے الزام میں گرفتار کیے گئے گوتم(۲۸سال) اور لوئی ویگس (۲۶سال)کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ منشیات فروشی کے دھندے میں ملوث ہیں۔

بی جے پی کی ہار سے سرمائی اجلاس میں بڑھے گا ہنگامہ، کانگریس کے پاس تین نکات 

ریاستوں میں بی جے پی کی شکست کا اثر پر سرمائی اجلاس میں بھی نظر آنے والا ہے۔ ویسے تو پہلے ہی اپوزیشن نے حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر لی ہے۔ لیکن مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے مینڈیٹ نے کانگریس میں نئی جان پھونک دی ہے۔کانگریس نے رافیل سمیت کئی مسائل پر حکومت کو بیک فٹ پر ...

واٹس ایپ گروپ میں اب اجازت کے بغیر ایڈ نہ کیا جاسکے گا 

واٹس ایپ کے یوزرس کو ہندوستان میں جلد بڑی راحت ملنے والی ہے. منسٹری آف الیکٹرانکس اینڈ انفرمیشن نے پیغام رساں اپلی کیشن واٹس ایپ سے ایک ایسا فیچر لانے کو کہا ہے، جس سے صارف کو کسی بھی واٹس ایپ گروپ میں شامل کرنے سے پہلے اس کی اجازت ضرور لی جائے۔ یعنی، صارف کو کسی بھی واٹس ایپ ...

3 ریاستوں میں ممکنہ شکست سے بی جے پی میں کھلبلی؛ یوگی کو خاموش کروائے پارٹی ہائی کمان : بی جے پی ایم پی 

مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کو ملی واضح برتری کے بعد بی جے پی کے رہنما سنجے کاکڑے نے پارٹی کے قدآور لیڈران پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا تھا کہ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں پارٹی کو ہار جھلینی پڑے گی۔لیکن مدھیہ پردیش کے نتائج نے چونکا دیا ...

اسمبلی انتخابات میں مایوس کن نتائج دلتوں کو آسمان پر چڑھانے کا شاخسانہ ہے : بی جے پی ایم ایل اے کا خیال

پانچ اسمبلی ریاستوں میں انتخابات کے مطلوبہ نتائج نہ آنے سے بی جے پی کے مرکزی اور ریاستوں کی قیادت حیران ہے۔ خاص طور پر مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے نتائج کو لے کر پارٹی لیڈروں نے جس طرح کے دعوے کئے تھے، نتائج اس کے برعکس آئے ۔اس صورتحال میں پارٹی کے اندر اور باہر اسے ...

منگلورو انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو نجی ٹھیکے پر دینے کے خلاف ایئر پورٹ ملازمین کی بھوک ہڑتال

مرکزی حکومت نے ملک کے جن 6 انٹرنیشنل ایئر پورٹس کو نجی ٹھیکوں پر دینے(پرائیویٹائزیشن) کا فیصلہ کیا ہے اس میں منگلورو کا ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔ مرکزی حکومت کے اس اقدام کے خلاف بطور احتجاج ایئر پورٹ ملازمین کی یونین (AAEU) نے تین دن کی بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔