مشکل حالات سے گزر رہاہے جموں وکشمیر،محبوبہ نے مودی سے ملاقات کی،دفعہ370میں تبدیلی نہ ہونے پراتفاق کادعویٰ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th August 2017, 11:07 AM | ملکی خبریں |

 نئی دہلی،11/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کو لے کر چل رہی بحث کے درمیان جمعہ کو ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ پی ایم سے ملنے کے بعد مفتی نے کہا کہ ہمارے ایجنڈے میں یہ طے تھا کہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست کو مل رہے خصوصی درجہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی، پی ایم نے بھی اس معاملے پر اتفاق کیا ہے۔وہیں انہوں نے 35 اے کے معاملے پر کہا کہ ریاست میں صورتحال بہتر ہو رہی ہے، اس کے لئے کئی طرح کے فیصلے لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 35 اے کے ہٹنے سے ریاست میں منفی پیغام جائے گا، جس سے ریاست میں کافی اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ریاست میں کافی تغیرات ہیں۔ گزشتہ سال ریاست میں حالات کافی بگڑے تھے، اب 35 اے کے دوبارہ بحث میں آنے سے لوگ پھر فکر مند ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم کو کہا کہ کشمیر اب مشکل حالات سے گزر رہا ہے، لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے، ان کے لئے خصوصی درجہ ہونا چاہئے۔ وہیں جمعرات کو محبوبہ مفتی نے اسی معاملے پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی۔جموں و کشمیر کے آزاد ممبر اسمبلی شیخ عبد الراشد نے کہا کہ اگر ریاست میں لگی آرٹیکل 35 اے سے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے تو وہ حریت جوائن کر لیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں حریت سے جڑنے کے لیے تیار ہوں اگر وہ لوگ قائل ہیں تو۔1954 میں صدارتی حکم پر آئین میں یہ آرٹیکل شامل کیا گیا تھا، جس کے تحت جموں و کشمیر کے شہریوں کو خصوصی حقوق اور سہولیات دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی یہ آرٹیکل ریاست کے پالیسی سازوں کو ریاست کے لئے قانون بنانے کی پوری آزادی یتا ہے، جسے قانونی طور پر چیلنج نہیں دیا جا سکتااس آرٹیکل میں فراہم کردہ شقوں میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو چھوڑ کر ملک کے تمام شہریوں کو جموں و کشمیر میں رئیل اسٹیٹ خریدنے، سرکاری نوکری حاصل کرنے اور ریاستی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اسکالرشپ اسکیموں کا فائدہ لینے سے منع کیا گیا ہے۔دہلی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ”وی دی سٹیزنس“ نے عدالت عظمی میں اس آرٹیکل کو چیلنج کیا ہے اور کیس میں مرکزی حکومت نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اس آرٹیکل کو غیر آئینی قرار دینے سے پہلے اس پر وسیع بحث کی ضرورت ہے۔ درخواست گزار تنظیم کا کہنا ہے کہ 1954 میں صدر نے اس آرٹیکل کو شامل کرنے کے لئے آئین میں ترمیم نہیں کیا، بلکہ یہ صرف ایک عارضی بندوبست تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

سنیمامیں لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں،قومی گیت کولازمی نہیں کیاجاسکتا؛قومی ترانہ پرسپریم کورٹ نے کہا، ہمیں اپنے ہاتھوں میں حب الوطنی نہیں رکھنی چاہیے

سنیماگھروں میں قومی گیت لازمی بنانے کے فیصلہ کے ایک سال بعد ایک موڑ آیاہے۔اب سپریم کورٹ نے سینٹرکوبتایاہے کہ وہ اس معاملے میں خودفیصلہ کرتے ہیں، ہر کام کو عدالت میں داخل نہیں کیاجاسکتاہے۔