میرٹھ لو جہاد: ہندو لڑکی نے مسلم لڑکے سے کی محبت تو پولس نے کر دی پٹائی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 26th September 2018, 2:00 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

میرٹھ،26؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) لو جہاد جیسے معاملوں میں اتر پردیش کی بی جے پی حکمراں ریاست کی پولس بھی فرقہ وارانہ ذہنیت کی حامل نظر آنے لگی ہے۔ اس کی تازہ مثال ایک وائرل ویڈیو ہے جس نے یو پی پولس کی شبیہ کو بری طرح داغدار کر دیا ہے۔ دراصل منگل کو سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں میرٹھ پولس کے جوان ایک ہندو لڑکی سے نہ صرف مار پیٹ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں بلکہ وہ اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور غیر اخلاقی زبان کا استعمال کرتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں۔ ایسا وہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ لڑکی نے مسلمان لڑکے سے محنت کرنے کا گناہ کیا ہے۔ حالانکہ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد واقعہ میں شامل ایک خاتون پولس اہلکار سمیت 4 پولس والوں کو معطل کر دیا گیا ہے، لیکن معاملہ سامنے آنے کے بعد پولس کٹہرے میں کھڑی نظر آ رہی ہے۔

پولس جیپ میں بنائے گئے 19 سیکنڈ کے اس ویڈیو میں چار پولس اہلکار کے ساتھ متاثرہ لڑکی بیٹھی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں دو پولس اہلکار آگے کی سیٹ پر ہیں جب کہ پیچھے کی سیٹ پر دو پولس اہلکار کے درمیان متاثرہ لڑکی بیٹھی ہے۔ اس کی دائیں جانب ایک خاتون پولس اہلکار ہے۔ ویڈیو میں آگے بیٹھا پولس اہلکار اس لڑکی سے کہتا نظر آ رہا ہے کہ ’’تجھے مُلّے زیادہ پسند آ رہے ہیں جو تو ہندو ہوتے ہوئے مسلم لڑکے کے ساتھ رہ رہی ہے۔ تجھے شرم نہیں آتی...۔‘‘ اس پر متاثرہ لڑکی کہتی ہے کہ ’’نہیں انکل ایسا نہیں ہے۔‘‘ لیکن اتنے میں ہی لڑکی کے بغل میں بیٹھی خاتون پولس اس پر تھپڑوں کی بارش کر دیتی ہے۔ خاتون پولس متاثرہ کو کافی زور سے کئی تھپڑ مارتی ویڈیو میں صاف نظر آ رہی ہے۔

دراصل یہ واقعہ اتوار کا ہے جب الگ الگ مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکی اور لڑکا ایک ساتھ کمرے میں پڑھائی کر رہے تھے۔ دونوں ہی میڈیکل کے طالب علم تھے۔ جب دونوں کمرے میں تھے تو اچانک وشو ہندو پریشد کے کارکنان نے انھیں پکڑ لیا اور لو جہاد کا نام دے کر نہ صرف ان کے ساتھ مار پیٹ کی بلکہ لڑکی کے ساتھ زد و کوب بھی کیا۔ وی ایچ پی کارکنان صرف اتنے پر ہی نہیں رکے۔ وہ دونوں کو گھسیٹتے ہوئے پولس اسٹیشن لے گئے اور وہاں پولس کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔ الزام ہے کہ وہاں پر تو پولس نے لڑکی کو وی ایچ پی کارکنان سے بچا لیا لیکن خود ہی پ ولس جیپ میں اس کے ساتھ مار پیٹ اور بدسلوکی کی۔ اتنا ہی نہیں، پولس والوں نے اپنی اس حرکت کا ویڈیو بھی بنایا جو آج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اتوار کو پیش آئے اس واقعہ کے بعد پولس نے وی ایچ پی کارکنان پر کوئی کارروائی کرنا تو دور، الٹے متاثرہ لڑکی اور اس کے دوست کو ہی حراست میں لے لیا۔ بعد میں پولس نے دونوں کے گھر والوں کو تھانہ میں بلا کر لڑکی اور لڑکے کو ان کے حوالے کر دیا۔

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔

بھٹکل کے مرڈیشور میں دو لوگوں پر حملے کی پولس تھانہ میں دو الگ الگ شکایتیں

تعلقہ کے مرڈیشور میں کل جمعرات کو  دو لوگوں پر حملہ اور پھر جوابی حملہ کے تعلق سے آج مرڈیشور تھانہ میں دو الگ الگ شکایتیں درج کی گئی ہیں اور پولس نے دونوں پارٹیوں کی شکایت درج کرتے ہوئے چھان بین شروع کردی ہے۔