موت اسکی ہے کرے جسکا  زمانہ افسوس.................. از:احتشام الحق قاسمی رامپوری  

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th December 2016, 11:09 AM | اسپیشل رپورٹس |

پچھلے دوروز میں دو عظیم حادثے ہوئے  جس نے بر صغیر ہندوپاک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک چینائی کی وزیراعلی  جے للیتا طویل علالت کے بعد اپولو استپال میں زندگی کی جنگ ہار گئیں اور اس دارفانی سے کوچ کرگئیں دوسرے پاکستان کے مشہور مبلغ اسلام  جنید جمشید ایک طیاره حادثہ میں شہید ہوگئے۔ دونوں کا بیک گرائونڈ قریب قریب ایک ہی جیسا تھا  لیکن میدان عمل جدا جدا تھا ایک کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا سیاست بن گیا تو دوسرے کا اوڑھنا بچھونا صرف اور صرف مذہب اور دعوت و تبلیغ تھا  ایک جہاں سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے فلمی دنیا میں اداکاری کا کام انجام دے رہی تھی تو دوسرا بھی اس دنیا کی موسیقی کا بادشاه تھا  مذہبی حد فاصل کے باوجود ایک چیز دونوں میں قدر ے مشترک تھی وه تھی لوگوں کے دل و دماغ پر حکومت ۔ آنجھانی جے للیتا کا سیاسی کیریر تقریبا تین دھائیوں پر محیط تھا  اپنے طویل سیاسی کیریر میں جہاں انہوں نے اپنے صوبے کو ہندوستان میں اہم مقام دلایا  ترقی کی شاہراه پر اسے سرپٹ دوڑایا وہیں انکی خصوصیت یہ رہی کہ غریبوں پچھڑوں قبائلیوں دبے کچلے لوگو ں پر بھی خاص توجہ دی انکی کوشش رہی کہ کوئی غریب بھوکا نہ مرے اور کوئی مریض اپنی غربت کی وجہ سے بغیر علاج کے نہ مرنے پائے اس دور میں جبکہ ہرسیاستدان اور ہرسیاسی پارٹیوں کا مرکزو محور جہاں بڑے بڑے بیوپاری مہاجن ساہوکار اور بزنس مین ہیں وہیں جے للیتا کی زندگی کا محور اور ان کی ترجیح غریب طبقہ رہے ہیں۔ انکی فلاح و بہبود ی کیلئے درجنوں اسکیم انہوں نے شروع کی اور اس پر شدومد سے عمل کرکے دکهلایا  اسی طرح انہوں نے  لاء اینڈ آڈر پر بھی خاص توجہ رکھی  سیکوریٹی پر بھی خوب توجہ دی  یہی وجہ ہے کہ شام ہوتے ہی عام طور پر ہر دوسو تین سو میٹر پر پولس موجود رہتی تھی ان جیسی اور بھی بہت ساری خصوصیات اس عظیم خاتون کے اندر پائی جاتی تھی جسکی وجہ سے انکا لقب ہی اماں پڑگیا تھا  وه اول وآخر اماں تھیں اور اماں ہی رہیں  اس ملک کی خصوصیت رہی ہے کہ اس نے اپنے عظیم قائد اور رہنما کوہمیشہ عزت بخشی ہے کسی کو باپو اور مہاتما بنایا تو کسی کو شیخ الہند اور شیخ الاسلام بنایا کسی کو بابا بنایا تو کسی کو اماں ۔

 آنجہانی جے للیتا  نے اپنے سیاسی سفر کاآغاز جہاں سے کیا تھا وہی جگہ انکی آخری آرام گاه قرار پائی وه اب دنیا میں نہیں رہیں، تاریخ کا حصہ بن گئیں اب صرف انکی یادیں اور کہانیاں ہی ره گئیں ہیں اگر کسی کی عظمت کا گواه  اس کا انتم سنسکار اور اس کا جنازه ہوتا ہے، تو اس اعتبار سے بھی جے للیتا واقعی عظیم خاتون تھیں ملک کو اس پر سدا فخر رہےگا۔

رہی بات جنید جمشید کی تو وه بھی اب رحمہ اللہ علیہ ہوگئے کل ایک طیاره کے سفر میں اہلیہ کے ساتھ محو سفر تھے لیکن یہ سفر انکا آخری سفر ثابت ہوا اور 47افراد کے ساتھ انہوں نے بھی جام شہادت نوش فرمالیا اللہ انکے درجات کو بلند فرمائے۔ جنید جمشید نے اپنا کیریر فلمی گیت گانے سے شروع کیا تھا  پاکستان کے مبلغ اعظم مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتھم کی نگاه انتخاب پڑگئ جنہوں نے ان پر توجہ دی اسی طرح انکے حق میں ہدایت کی دعا کی ، مسلسل ان پر محنت کرتے رہے، اسکے گانے کے اسٹیج کا چکر لگاتے رہے، گاڑی لے لے کر جنید کے انتظار میں کھڑے رہتے وه اسٹیج سے گاکر اتر تے ادھر حضرت طارق جمیل صاحب اپنی کا ر کا دروازه کھولے انتظار کرتے انکو اپنی کار میں بٹھا کر انہیں دعوت دیتے بالآخر خدا کی رحمت جوش میں آئی اور اس نے ہدایت و معرفت کے دروازے جنید کیلئے کھول دئے  پھرکیا تھا یکلخت دنیا بدل گئ کل تک لوگوں کو اپنی آواز سے مسحور کرنے والا خود قرآن کی تلاوت سے مسحور ہوگیا لوگوں کی دلبستگی کا سامان پیدا کرنے والا خود  داعی اسلام کو دل دے بیٹھا کل تک لوگوں کو ھنسانے رلانے والا خود بارگاه رب العزت میں جب ساری دنیا سوتی تھی اس وقت اٹھ کر رونے والا بن گیا جوکل تک اپنی زبان کو فلمی نغموں سے آلوده کرنے والا تھا اب  نعت نبی پڑھ کر مشک و عنبر بکھیرنے لگا  قرآن کریم نے کیا خوب کہا کہ جسکو اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراه نہیں کرسکتا جسے گمراه کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا جنید جمشید اسکی واقعی عملی تفسیر تھے اللہ انہیں غریق رحمت کرے انکے درجات بلند فرمائے  آج انکی شہادت سے پورا عالم اسلام سوگوار ہے۔ اللہ اجر عظیم عطا فرمائے اس داعئ کبیر اور عالم اسلام کے اس فرد فرید مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتھم کو کہ اس گوھر یگانہ نے  دعوت دین کو عام کرنے اور لوگوں کو دین کی طرف متوجہ کرنے میں پوری زندگی وقف کردی  پورے پاکستان کا چپہ چپہ چھان مارا کبھی فلمی اداکاروں کو دعوت دی کبھی کرکٹ کھلاڑیوں تک خدا کا دین پہنچایا کبھی پاکستان کے وزراء سے خطاب کیا کبھی وکلاء اور ججوں سے خطاب کیا کبھی دین لیکر طوائف کے کوٹھوں پر پہنچےاور انکی بے آبروئ کو اسلام اور حیا کی چادرعنایت کی کبھی اسکول و کالج اور یونیورسیٹیوں میں اپنے بیانات سے دلوں میں ایمانی حرارت پیدا کی  کوئی یوسف یوحانا سے محمد یوسف بنا کوئی سعید انور کرکٹر سے  داعی سعید انور بن گیا کوئی حاجی انضمام الحق بن گیا تو کوئی جنید جمشید رحمہ اللہ علیہ ہوگیا اللہ نے ہرطبقے میں مولانا طارق جمیل کے ذریعے اپنے بندوں کو ہدایت بخشی   جنید جمشید انکی توجہ کے خاص مرکز رہے۔    

آنجھانی جے لیلتا جہاں چینائی کے عوام کےدلوں پر حکومت کرتی تھیں  وہیں جنید جمشید نے عالم اسلام کے دلوں پر حکومت کی  آج پورا عالم اسلام انکی شہادت سے  سوگوار ہے اور ہرمدارس میں دعا ہورہی ہے اور ہرآنکھیں نم ہیں۔  وہیں جنید جمشید رحمہ اللہ علیہ کی حکومت عالم اسلام کے دلوں پر تھی ۔جودلوں کو فتح کرلے وہیں فاتح زمانہ۔

ایک نظر اس پر بھی

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...