اجودھیا تنازع:مسجد کیلئے وقف جگہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے ، خواہ ڈھانچہ موجود ہو یا نہ ہو:مولانا ارشد مدنی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 11:56 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،16؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل جاری بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت منگل کو ایک بار پھر دو پہر دو بجے چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ کے سامنے شروع ہوئی ، جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئروکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے بحث کاآغاز کیا اور عدالت کو بتایا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسجد اللہ کا گھر ہے اور نماز کی ادائیگی بنیادی ارکان میں شامل ہے۔

جمعیۃ علما ہند کے وکیل کی دلیل پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ آج ہمارے وکلا نے عدالت میں بہت اچھی بحث کی اور مسجد کی شرعی حیثیت پر قرآن واحادیث کے دلائل بھی پیش کئے ۔انہوں نے کہا کہ شریعت کے نزدیک جو جگہ مسجد کے لئے وقف ہوجائے وہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہی رہتی ہے خواہ وہاں کوئی ڈھانچہ موجودہویا نہ ہو، مسجد کی شرعی حیثیت ختم نہیں ہوتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے تعلق سے یہ بات بھی کہیں جاسکتی ہے کہ اگر چہ 6 دسمبر 1992کو وہاں مسجد کی عمارت کو منہدم کیا جاچکا ہے ، لیکن جو زمین ہے وہ مسجد کے ہی صیغہ میں آتی ہے چنانچہ وہاں اب کوئی دوسری تعمیر نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ جب حتمی فیصلہ کے لئے معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو اس معاملہ میں زیادہ بیان بازی نہیں کی جانی چاہئے ۔

ایک نظر اس پر بھی

مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ، بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد نے گواہی دی، دفاعی وکلاء عدالت سے غیر حاضر ، جرح اگلے ہفتہ متوقع

مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملے میں سماعت روز بہ روز جاری ہے ، آج اس معاملے میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے دو افراد کی گواہی عمل میں آئی

مثبت فکر اورتوانائی سے ملک کی ترقی ہوتی ہے:ارون جیٹلی 

مودی حکومت کے ناقدین کو بات بات پر احتجاج کرنے والا بتاتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جمعرات کو ان پر جھوٹ گھڑنے اور ایک منتخب حکومت کو کمزور کرکے جمہوریت کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ طبی معائنہ کے لیے امریکہ دورہ پر گئے ارون جیٹلی نے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اظہار رائے کی ...

عد لیہ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار پر پابندی لگانے والی کئی تجاویزمستردکیں 

سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں ڈانس بار کے لئے لائسنس اور اس کاروبار پر پابندی لگانے والے کچھ تجاویز جمعرات کومنسوخ کردیئے۔ جسٹس اے کے سیکری کی صدارت والے بنچ نے مہاراشٹر کے ہوٹل، ریستوران اور بار ہاؤس میں فحش رقص پر پابندی اورعورتوں کے وقار کی حفاظت سے متعلق قانون 2016 کے کچھ دفعات ...