کیا بی جے پی میگاکنونشن‘میں شریک ہونگے یوگی آدتیہ ناتھ؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th February 2018, 12:03 PM | ساحلی خبریں |

اڈپی 13؍فروری (ایس او نیوز)ریاست میں ہندو نوجوانوں کے قتل کے معاملات کو اجاگر کرنے اوراس کی مذمت کے لئے بی جے پی کی طرف سے دو پیدل ریالیوں کا اہتمام کیا جارہا ہے جو3مارچ سے 6مارچ کے درمیان منعقد ہونگی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ایک ریالی شمالی کینرا کے کمٹہ شہر سے شروع ہوگی جبکہ دوسری ریالی کورگ ضلع کے خوشحال نگر سے شروع کی جائے گی اور دونوں کا اختتام اڈپی ضلع کے سورتکل میں ہوگا۔اس موقع پر ایک’ میگا کنونشن‘ کا پروگرام بنایاجارہاہے جس میں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو شریک کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس میگاکنونشن یا زبردست اجلاس عام کی شدت اور رنگ کیسا ہوگا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کنونشن کی تیاری اور نگرانی کی ذمہ داری اپنی نفرت اور اشتعال انگیز تقاریر کے لئے بدنام اراکین پارلیمان پرتاپ سنہا، شوبھاکرندلاجے، نلین کمار کٹیل او راننت کمار ہیگڈے کو سونپی گئی ہے۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کنونشن کی قطعی تاریخ جلد ہی طے کی جائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کیخلاف کانگریس کا جاری کردہ ٹیپ جعلی، کرناٹک کانگریس رکن اسمبلی کابیان، کانگریس پریشان 

بی جے پی کے خلاف کانگریس کے ایک جاری کردہ ٹیپ سے کانگریس کی ٹکٹ پر جیت درج کرنے والے یلاپور کے رکن اسمبلی شیورام ہیبار نے پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ٹیپ کو جعلی قرار دیاہے۔ اور اس بات کو غلط قرار دیا ہے کہ بی جے پی کی طرف سے انہیں رقم کی پیشکش کی گئی تھی اور وزارتی عہدہ دینے کا بھی ...

فتح کے جشن میں پاکستان نواز نعرے بازی کا جھوٹا ویڈیو۔ مینگلور پولس اسٹیشن میں کانگریس کی طرف سے شکایت درج

بی جے پی کے وزیراعلیٰ ایڈی یورپا کے استعفیٰ دینے اور کانگریس جے ڈی ایس محاذ کے لئے حکومت سازی کی راہ ہموار ہونے کی خوشی میں منگلور و کے کانگریس دفتر میں جشن فتح منایاگیاتھا۔ لیکن اس تعلق سے ایک ویڈیو کلپ سوشیل میڈیا پر عام ہواتھا جس میں جشن کے دوران پاکستان نواز نعرے بازی ...

بھٹکل میں گائیوں سے بھری دو لاریوں پر حملے کے الزام میں گیارہ افراد گرفتار؛ کیاجانوروں کو بی جے پی لیڈر کے ڈیری فارم لےجایا جارہا تھا ؟

  تعلقہ کے مرڈیشور نیشنل ہائی وے پر کل رات ہوئی ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں کی غنڈہ گردی کے واقعے کے بعد پولس متحرک ہوکر اب تک گیارہ لوگوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے، جبکہ دیگر حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔