مینگلور میں بھاری بل ادا نہ کرنے پر اسپتال نے تین دن تک لاش وارثین کو نہیں سونپی 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 21st September 2017, 11:38 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

منگلورو 21؍ستمبر (ایس او نیوز)منگلورو میں اسپتالوں کے بے تحاشہ بل اور اس کے نتیجے میں کمزور اور متوسط طبقے کی بے بسی کا ایک تاہ واقعہ پیش آیا ہے جسے ایک غیر انسانی رویہ ہی کہا جاسکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ راشیل سالیان (25سال) نامی نوجوان کونمونیہ کے لئے چند دن قبل منگلورو کے اسپتال میں داخل کیا گیا تھااورعلاج کارگر نہ ہونے سے 18ستمبر کو اس نوجوان کی موت واقع ہوگئی۔ مگر اس کے والدین کے قدموں تلے سے اس وقت زمین کھسک گئی جب اسپتال نے8لاکھ روپے کا بھاری بل ان کو تھما دیا۔ بے بس والدین یہ بل ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس لئے انہوں نے صرف دو لاکھ روپے تک انتظام کرنے اور بقیہ رقم دھیرے دھیرے ادا کرنے کی مہلت  مانگی۔ لیکن اسپتال والوں نے انتہائی غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے مکمل بل کی ادائیگی کے بغیراس نوجوان کی لاش والدین کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ اس طرح تین دنوں تک اسپتال والوں نے گویا لاش کو یرغمال بناکر رکھا۔

اس دوران ایک سماجی تنظیم"یواواہینی" سے وابستہ کارکن سنیل بجال نے مداخلت کرتے ہوئے اسپتال والوں سے گفت و شنید کی اس کے بعد ایک مہینے کے اندر بقیہ رقم ادا کرنے کی شرط کے ساتھ اسپتال والوں نے سالیان کی لاش اس کے گھر لے جانے کی اجازت دی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی اور سنگھ پریوار کے احتجاج اور تشدد کے چلتے بالاخر کرناٹک سرکار کا ہوناور کے پریش میستا کی موت کا معاملہ سی بی آئی کے حوالے کرنے کا اعلان

ریاست میں کافی بحث کا موضوع بنے ہوناور کے پریش میستا کی موت کی گتھی سلجھانے کے لئے بالاخر اب ریاستی حکومت نے   اس  معاملے کو سی بی آئی کے ذریعہ تحقیق کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ رام لنگا ریڈی  نے کہا کہ سچائی کو منظر عام پر لانے کے لئے ...

ضلع اُتر کنڑا میں وہاٹس ایپ پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے پر 28 معاملات درج

ہوناور میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعدبی جے پی اور سنگھ پریوار کی حمایت میں  اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات روانہ کئے جارہے تھے، ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا کے ذریعے مختلف علاقوں میں بند منائے جانے اور احتجاج کے پیغامات پھیلائے جارہے تھے، جس پر ...

ہوناور پریش میستا کی موت کا معاملہ؛ وہاٹس ایپ پراشتعال انگیز افواہیں پھیلانے کے الزام میں ہائی اسکول ٹیچر گرفتار

ہوناور فساد کے پس منظر میں سوشیل میڈیا اور خاص کر وہاٹس ایپ پر افواہیں پھیلا کر ماحول خراب کرنے کے الزام میں کاروار کے ایک ہائی اسکول ٹیچر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

پریش میستا کے پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ ابھی نہیں ملی ۔ دیشپانڈے

ہوناور میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پریش میستا نامی نوجوان کی جو لاش دستیاب ہوئی تھی اور اس سے پورے ضلع میں نفرت کی آگ بھڑکائی گئی تھی، اس تعلق سے ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے نے کہا ہے کہ پریش کے پوسٹ مارٹم کی قطعی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔

ضلع اُتر کنڑا میں وہاٹس ایپ پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے پر 28 معاملات درج

ہوناور میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعدبی جے پی اور سنگھ پریوار کی حمایت میں  اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات روانہ کئے جارہے تھے، ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا کے ذریعے مختلف علاقوں میں بند منائے جانے اور احتجاج کے پیغامات پھیلائے جارہے تھے، جس پر ...

ہوناور پریش میستا کی موت کا معاملہ؛ وہاٹس ایپ پراشتعال انگیز افواہیں پھیلانے کے الزام میں ہائی اسکول ٹیچر گرفتار

ہوناور فساد کے پس منظر میں سوشیل میڈیا اور خاص کر وہاٹس ایپ پر افواہیں پھیلا کر ماحول خراب کرنے کے الزام میں کاروار کے ایک ہائی اسکول ٹیچر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

پریش میستا کے پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ ابھی نہیں ملی ۔ دیشپانڈے

ہوناور میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پریش میستا نامی نوجوان کی جو لاش دستیاب ہوئی تھی اور اس سے پورے ضلع میں نفرت کی آگ بھڑکائی گئی تھی، اس تعلق سے ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے نے کہا ہے کہ پریش کے پوسٹ مارٹم کی قطعی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔

امن کے باغ میں تشدد کا کھیل کس لئے؟ خصوصی اداریہ

ضلع شمالی کینر اکو شاعرانہ زبان میں امن کا باغ کہا گیا ہے۔یہاں تشدد کے لئے کبھی پناہ نہیں ملی ہے۔تمام انسانیت ،مذاہب اور ذات کامائیکہ کہلانے والی اس سرزمین پر یہ کیسا تشددہے۔ ایک شخص کی موت اور اس کے پیچھے افواہوں کا جال۔پولیس کی لاٹھی۔ آمد ورفت میں رکاوٹیں۔ روزانہ کی کمائی سے ...

سرسی فساد کے9 ملزمین کی ضمانت پر رہائی؛ 62کو بھیجا گیا عدالتی حراست میں

سرسی فساد کے پس منظر میں جن ملزمین کو حراست میں لیا گیا تھا ان میں ایم ایل اے وشویشور ہیگڈے کاگیری سمیت  9 ملزمین کو ضمانت پر رہا کردیا گیا جبکہ 62 ملزمین کو عدالتی حراست میں دھارواڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔