سنگھ پریوار کی مورل پولیسنگ کے خلاف ایک ہندو طالبہ اور اس کی ماں نے کھولا محاذ۔ پولیس میں درج کی شکایت

Source: S.O. News Service | Published on 11th January 2018, 1:40 PM | ساحلی خبریں |

منگلورو 11؍جنوری (ایس او نیوز) ساحلی علاقے اور خاص کر جنوبی کینرا میں ہندو لڑکیوں کے ساتھ مسلم لڑکوں کی دوستی یا جان پہچان کے معاملے میں سنگھ پریوار کے کارکنان کی جانب سے اخلاقی پولیس کے طور پر مداخلت کرنے، ڈرانے دھمکانے اور مارپیٹ کرنے کے واقعات دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ اسی طرح کی مورل پولیسنگ کے نتیجے میں ابھی دو چار روز قبل موڈوگیری میں ایک نوجوان طالبہ نے خود کشی بھی کرلی تھی۔ مگر اب ایک غیر مسلم لڑکی اور اس کی ماں نے مورل پولیسنگ کرنے والوں کے خلاف محاذکھولتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے۔

موصولہ تفصیلات کے مطابق مادھوری بولار نامی ایک طالبہ کا مسلم نوجوان کے ساتھ فوٹو سوشیل میڈیا پر مختلف گروپس میں اس پیغام کے ساتھ پوسٹ ہورہا ہے کہ:’’حمزہ کینیا ہماری ہندو لڑکیوں کے ساتھ دن دہاڑے بائک پر گھوم پھر رہا ہے۔اگر وہ آئندہ کبھی ہندو لڑکیوں کے ساتھ گھومتا ہوا دکھائی دیا تو ہندو تنظیموں کو اس کا جواب دینا ہوگا۔‘‘

مادھوری بولار کا کہنا ہے کہ یہ اس کا ایک سال پرانا فوٹو ہے جس میں وہ اپنے کالج کے ساتھی حمزہ کے علاوہ سہاس اڈیگا اور گنیش بولار کے ساتھ ایک کیمپ میں شرکت کے لئے گئی تھی۔ چونکہ وہ اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کی ڈسٹرکٹ سکریٹری ہے اور حمزہ جوائنٹ سکریٹری ہے اس لئے ان کو اس طرح کے پروگرامات میں شرکت کے لئے ایک ساتھ جانا پڑتا ہے۔لیکن کچھ لوگ اس کو نشانہ بناکربدنام اور ذہنی طور پر ہراساں کررہے ہیں۔ 

مادھوری نے اپنی ماں کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچ کر جو شکایت درج کروائی ہے اس میں کم ازکم چھ وہاٹس ایپ گروپس اور اس کے ارکین کے ساتھ دیگر دو لڑکوں اور ایک لڑکی کو ملزم بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی طرف سے اس کو رسوا کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔مادھوری کی ماں بھارتی بولارنے کہا ہے کہ و ہ اپنی بیٹی کی حمایت میں اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جنوبی کینرا میں مورل پولیسنگ کرنے والے گروہوں کے جانب سے نوجوانوں کو تنگ کرنے کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس لئے اس طرح کی مذہبی نگرانی کا سلسلہ اب بندہوجانا چاہیے۔

پولیس کمشنر ٹی آر سریش نے پانڈیشور پولیس اسٹیشن میں داخل کیے گئے اس کیس کو سائبر کرائم برانچ کے پاس بھیج دیا ہے تاکہ اس سلسلے میں تحقیقات اورکارروائی کی جاسکے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل رکن اسمبلی کی کار روک کر بی جےپی کارکنان نے کی نعرے بازی

پیر کو جب دوحریف سیاسی پارٹیوں کے امیدوار پرچہ نامزدگی داخل کرنےکے دوران کچھ انہونی واقعات پیش آئے ۔ کانگریس امیدوار منکال وئیدیا اے سی دفتر میں پہلے پہنچ کر اپنا پرچہ داخل کرنےمیں مصروف تھے تو اسی وقت بی جے پی امیدوار سنیل نایک بھی اپنےلیڈران کے ساتھ پرچہ داخل کرنے کے لئے ...

بھٹکل بی جےپی میں عدم اطمینانی کا دور : امیدوار کے پرچہ نامزد گی کے دوران اہم اور سنئیر لیڈران غائب

پیر کو بی جے پی امیدوار سنیل نائک جب پرچہ نامزدگی کے لئے ہزاروں حمایتوں کے ساتھ روڈ شو کرتے ہوئے نکلے تو سابق وزیر اور بی جے پی لیڈران شیوانند نائک، سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک، بھٹکل کے ہندو برانڈ لیڈر ،بی جےپی ضلع نائب صدر گوند نائک کا نظر نہیں آنااورپروگرام کے بالکل آخر میں ...

بھٹکل رکن اسمبلی منکال وئیدیا اور بی جے پی امیدوار سنیل نائک دونوں کروڑوں جائیداد کے مالک

ریاست کے مختلف مقامات پر وزراء اور ارکان اسمبلی کی جائیداد میں دوگنا ، تگنا اضافہ ہواہے تو بھٹکل کے رکن اسمبلی منکا ل وئیدیا اپنی ذاتی سواریوں ، ڈامبر پلانٹ، ٹپر ، ہٹاچی وغیرہ کو فروخت کرتے ہوئے اپنی جائیداد میں 57،85410 روپئے کا اضافہ کر لیا ہے۔

اننت کمارہیگڈے کو فون پر ملی جان سے مارنے کی دھمکی۔سرسی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج

مرکزی وزیر برائے اسکل ڈیولپمنٹ اننت کمار ہیگڈے کو مبینہ طور پرکسی نے انجان نمبر سے فون کرکے جان سے مارنے کی دھمکی دی ، جس کے تعلق سے اننت کمار کے پرسنل اسسٹنٹ سریش شیٹی نے سرسی ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے۔

بھٹکل میں کانگریس کی طرف سے منکال وئیدیا اوربی جے پی کی طرف سے سنیل نائک نے داخل کیا پرچہ نامزدگی

کرناٹکا ودھان سبھا انتخابات کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے لئے آخری تاریخ 24/ اپریل ہے اور آج پیر کو دو اہم سیاسی حریف پارٹیوں کے طرف سے پرچہ نامزدگی داخل کی گئی ہے۔ کانگریس کی طرف سے آج منکال وئیدیا نے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا تو بی جے پی کی طرف سے سُنیل نائک نے  سینکڑوں ...