منگلورو قریشی پر ٹارچر اور پی ایف آئی پر لاٹھی چارج کے معاملے میں اچانک یو ٹرن؛ کانگریس لیڈران نے لگایا وزراء کو بدنام کرنے کا الزام

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 21st April 2017, 12:48 AM | ساحلی خبریں |

منگلورو:20/اپریل(ایس اؤنیوز) قریشی پر مینگلور پولس کے ہاتھوں تھرڈ ڈگری استعمال کرنے اور احتجاج کرنے والے پی ایف آئی کارکنوں پر لاٹھی چارج کرنے کے بعد گذشتہ روزیونائیٹیڈ مسلم فرنٹ نے اعلان کیا تھا کہ 2/ مئی کو مینگلور چلو پروگرام منعقد کیا گیا ہے جس میں 60 اداروں کی جانب سے 25 ہزار سے زائد لوگ شرکت کریں گے اور قریشی پر ہوئے ظلم پر انصاف ملنے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ لیڈران نے الزام لگایا تھا کہ ضلع میں 4لاکھ مسلم رائے دہندگان کے ووٹوں سے اقتدار حاصل کرنے والے  مسلم لیڈران ملت پر ہونے والے ظلم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھار ہے ہیں، انہوں نے اس بات کا بھی الزام لگایا تھا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت ہونے کے باوجود مسلمانوں پر ظلم وستم ہورہا ہے اور ضلع جنوبی کینرا کے کانگریسی لیڈران خاموش ہیں۔ مگر اب اس معاملے نے اچانک یو ٹرن لے لیا ہے۔ اور کانگریس نے آج پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے کچھ مسلم لیڈران پر اپنے ہی وزراء اور لیڈران کی بے عزتی اور توہین کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

مینگلور پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کے ذریعے بات کرتے ہوئے کانگریس سے تعلق رکھنے والے ضلع پنچایت ممبران ایم ایس محمد اور شاہ الحمید نے کہاکہمختلف موقعوں پر اعلیٰ عہدوں پر فائز رہتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے والے ہی آج وزراء اور لیڈران کی ہتک اور توہین کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سی سی بی پولس کے ذریعے احمد قریشی پر ہونے والے ظلم کے بہانے کانگریس پارٹی کے ہی چند لوگ ریاستی کابینہ کے وزراء رماناتھ رائی اور یوٹی قادر اور پارٹی لیڈران پر الزام تراشی کرتے ہوئے ان کی توہین کرنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رماناتھ رائی کی  سیکولر فکر کیاہے  یہ سبھی کوپتہ ہے، اقلیتوں کے متعلق انہیں جو فکر ہے وہ سب جانتے ہیں، اقلیتوں پر جب بھی ظلم ہواہے انہوں نے مضبوطی کے ساتھ آواز اٹھائی ہے ، یو ٹی قادر بھی اپنے وزارت کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے بہترین کام انجام دے رہے ہیں، کچھ لوگوں کو ان کی عوام میں مقبولیت  اور ترقی سے حسد ہورہاہے اسی لئے ان کو غلط طورپر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

کانگریسی لیڈران کے مطابق جہاں تک احمد قریشی کا معاملہ ہے ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ کی ذمہ داری سی آئی ڈی کے سپرد کی ہے، جانچ کے بعد پتہ چلے گا کہ سچائی کیا ہے۔ لیکن کچھ لوگ احمد قریشی کی صحت میں سدھار کے بجائے بگاڑ چاہتے ہیں، اور اسی کے ذریعے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش  کررہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں نائب میئر رجنیش ، ششی دھر ہیگڈے ، کارپوریٹر نوین ڈیسوزا، پارٹی لیڈران سنتوش کمار برکے وغیرہ موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریسی اراکین کی سرسی بلدیہ رکنیت منسوخی معاملہ؛ احتجاجی مظاہرہ میں کانگریسی لیڈروں کے پتلے نذر آتش

پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرسی بلدیہ صدر کے لئے باغی امیدوار کو ووٹ دینے کے نتیجے میں 6/اراکین کی بلدیہ رکنیت جو منسوخ کی گئی تھی، اس کے خلاف سرسی میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کے ضلعی صدر بھیمنا نائک اور بلاک کانگریس صدر رمیش دوبھاشی کے پتلے نذر آتش کئے گئے ہیں۔

بھٹکل میونسپالٹی ماہانہ میٹنگ میں بارش سے پہلے نالوں کی صفائی پر زور؛ ایک سڑ ک کا نام مرحوم مولانا عبدالباری کے نام موسوم کرنا بھی منظور

بھٹکل میونسپالٹی کی ماہانہ میٹنگ میں بارش سے پہلے برساتی نالوں کی صفائی پر کافی چرچہ ہوا اور گذشتہ سالوں میں نالوں کی نامکمل صفائی پر ممبران نے سخت اعتراض کیا،ممبران نے برساتی نالوں کی صفائی کے لئے تین لاکھ روپئے کے بجٹ کو ناکافی قرار دیا ۔کئی علاقوں بالخصوص شمس الدین سرکل، ...

کروپاڑی کے عبدالجلیل کے قاتلوں کی گرفتاری نہ ہونے پرناراض کانگریسی کارکنان کا ضلع دکشن کنڑا نگراں کار وزیرکاگھیراؤ

کروپاڑی گرام پنچایت کے نائب صدر اے عبدالجلیل جاں بحق ہوکر ہفتہ گزرگیا لیکن ابھی تک ملزموں کی گرفتار ی نہیں ہونے سے ناراض مقامی کانگریسی کارکنان اور عوام نے ضلع نگراں کار وزیر بی رماناتھ رائی کی کار گھیراؤ کرتےہوئے اپنے برہمی کا اظہار کیا۔

کاروار:60ہزارروپئے کی غیرقانونی شراب ضبط : ملزم فرار

مصدقہ خبر پر کارروائی کرتےہوئے محکمہ ایکسائز کے افسران نے گوا سے کاروار سپلائی کی جارہی غیر قانونی 60ہزار روپئے مالیت کی شراب اور سپلائی کے لئے استعمال کئے گئے آٹو کو شہر کے ایک ہوٹل کے قریب ضبط کرلینے کا واقعہ منگل کی رات پیش آیا ہے، جب کہ ملزم فرار بتایا گیا ہے۔

کاروار:بلدیہ وارڈوں کی دوبارہ ترتیب نو :17مئی تک اعتراضات داخل کرنےکا موقع

اترکنڑا ضلع کے مقامی انتظامیہ یعنی میونسپالٹی، بلدیہ ، پٹن پنچایت وغیرہ کے وارڈوں کی دوبارہ تشکیل کاری کا کام جاری ہے۔سال 2011کی مردم شماری کے تحت وارڈوں کی دوبارہ تشکیل کی گئی ہے۔ جن تعلقہ جات میں یہ تقسیم کاری کی گئی ہے انہیں 17مئی کے اندر اعتراضات سونپنے کی مہلت دی گئی ہے