ٹکٹ سے محروم کانگریسیوں کو احتجاج نہ کرنے ملیکارجن کھرگے کی اپیل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 12:58 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 16؍اپریل(ایس او نیوز) کانگریس پارٹی اعلیٰ کمان کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد ریاست کے بعض حصوں میں پارٹی کارکنوں کی طرف سے کئے گئے احتجاج پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی لوک سبھا میں کانگریس پارٹی لیڈر ملیکارجن کھرگے نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کا کوئی احتجاج نہ کریں۔ کیونکہ اس سے انتخابات میں پارٹی کی ساکھ متاثر ہوگی ۔

کھرگے  نے کہاکہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی خاطر پارٹی کے جن لوگوں کو ٹکٹ ملا ہے ان تمام کو کامیاب بنانے کے لئے تمام ارکان اسمبلی اور کارکنوں کو مل جل کر کام کرنا چاہئے، انہوں نے یقین دلایا کہ جن لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملا ہے اقتدار ملنے کے بعد پارٹی ان کے لئے مناسب مقام اور مرتبے کا خیال ضرور رکھے گی۔

ملیکارجن کھرگے نے کانگریسیوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کرکے بلاوجہ پارٹی کی ساکھ کو متاثر نہ کریں۔ اس دوران بتایاجاتاہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے میں وزیراعلیٰ سدرامیا کے غلبے کو لے کر ملیکارجن کھرگے سمیت پارٹی کے بعض لیڈر خوش نہیں ہیں، لیکن صدر کانگریس راہول گاندھی نے تاکید کی ہے کہ کسی بھی حال میں پارٹی کو اقتدار پر لانا تمام لیڈروں کی ذمہ داری ہوگی، اس میں اگر کسی سے بھی کوتاہی ہوگی تو انہیں جواب دہ بنایا جائے گا، اس کی وجہ سے کوئی بھی لیڈر اپنی ناراضی کھل ظاہر نہیں کرپارہا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ملیکارجن کھرگے امیدواروں کے انتخاب کے مرحلے میں اعلیٰ کمان کے پاس اپنی ایک الگ فہرست کے ساتھ پہنچے تھے ، لیکن سدرامیا کی فہرست کے آگے ان کی ایک نہیں چلی ، کانگریس پارٹی نے جن 218امیدواروں کااعلان کیا ہے ان میں سے 150 سے زائد امیدوار ایسے ہیں جن کے ناموں کی سفارش سدرامیا نے کی ہے، جبکہ دیگر لیڈران کے تجویز کردہ بیشتر امیدواروں کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد قدیم کانگریسیوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ سدرامیا جنتادل کے اپنے پرانے ساتھیوں کو کانگریس میں لاکر ان کی باز آباد کاری کی کوشش کررہے ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں سدرامیا پھر غالب، ہنگامہ خیزی کے اندیشوں کے برعکس میٹنگ میں کسی نے بھی زبان نہیں کھولی

حسب اعلان 22دسمبر کو ریاستی کابینہ میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے آج سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر سدرامیا نے تمام کانگریسی اراکین کو خاموش کردیا۔

مندروں کو دئے جانے والے فنڈز کو فرقہ وارنہ رنگ دینے بی جے پی کی مذموم کوشش، اسمبلی میں اسپیکر نے فرقہ پرست جماعت کی ایک نہ چلنے دی

وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن اسمبلی سی ٹی روی کی طرف سے سوالات تک خود کو محدود رکھنے کی بجائے ایک معاملے پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو جب اسپیکر رمیش کمار نے روک دیا تو اس بات پر بی جے پی اراکین اور اسپیکر کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی۔

ریاست کرناٹک میں 800 نئے سرویرس کا تقرر

وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے آج ریاستی اسمبلی کو بتایاکہ ریاست بھر میں اراضی سروے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے محکمے کی طرف سے 800نئے سرویرس کا تقرر کیا گیا ہے۔

پسماندہ طبقات کے سروے کی رپورٹ تیاری کے مراحل میں: پٹ رنگا شٹی

ریاستی وزیر برائے پسماندہ طبقات پٹ رنگا شٹی نے کہا ہے کہ سابقہ سدرامیا حکومت کی طرف سے درج فہرست طبقات کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے جو سماجی ومعاشی سروے کروایا گیا تھا اس کے اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کرنے کا عمل جاری ہے۔