مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ: ملزمین کے وکلاء نے زخمی گواہوں پر این آئی اے کے دباؤ میں جھوٹی گواہی دینے کا الزام عائد کیا

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 16th March 2019, 2:23 AM | ملکی خبریں |

ممبئی:15 /مارچ(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) مالیگاؤں2008ء بم دھماکہ معاملے میں ہائی کورٹ کے حکم نامہ سماعت روز بہ روز جاری ہے ، آج ان بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے تین افراد کی گواہی عمل میںآئی جس کے دوران انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 29/ستمبر ۲۰۰۸ء کو وہ بھکو چوک میں چائے پینے کے لیئے گئے تھا جب اچانک بم دھماکہ ہوگیا جس کی وجہ سے انہیں شدید چوٹیں آئیں تھیں۔سرکاری گواہوں نے خصوصی جج ونود پڈالکر کو بتایا کہ زخمی ہونے کے بعد انہیں مقامی لوگوں نے فاران اسپتال اورعلی اکبر اسپتال میں پہنچایا تھا جہاں انکا علاج کیا گیا اور بعد میں پولس نے ان کا بیان بھی درج کیا تھا۔وکیل استغاثہ اویناس رسال کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہو ئے سرکاری گواہوں نے عدالت کو بم دھماکوں کے متعلق مزید تفصیلات بتاتے ہو ئے کہا کہ بم دھماکوں کے بعد علاقے میں افر ا تفری کو ماحول مچ گیا تھا اور موٹر سائکلیں بکھری پڑی ہوئی تھیں۔ سرکاری وکیل کے سوالات کے اختتا م کے بعد بھگوا ملزمین کے وکیل نے سرکاری گواہوں سے جرح کی اورحسب سابق ان پر این آئی اے کے دباؤ میں ملزمین کے خلاف جھوٹی گواہی دینے کا الزام عائد کیاہے۔اس معاملے میں ابتک 65 سرکاری گواہوں کی گواہی مکمل ہوچکی ہے جس میں ڈاکٹر اورزخمی شامل ہیں ۔ دوران کارروائی عدالت میں متاثرین نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کی جانب سے وکلاء شاہ ندیم، ایڈوکیٹ محمد ارشد، ابھیشک پانڈے، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ، ایڈوکیٹ عادل شیخ ودیگرموجودتھے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

وی وی پیٹ مشین کے تعلق سے عدالت اعلیٰ نے الیکشن کمیشن سے مانگا جواب 

سپریم کورٹ نے آج الیکشن کمیشن کوہدایت دی کہ 28مارچ تک سیمپلس کی تعدا د میں اضافہ کرے بارے میں جواب داخل کیاجائے اور فی اسمبلی حلقہ وی وی پی اے ٹی مشینوں کی تعداد میں اضافہ کے امکانات پر اظہار خیال کیاجائے ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک مشرا پر مشتمل سپریم کورٹد کی بنچ نے ...

الیکشن جیتنے پر کانگریس کا اعلان ، غریب خاندان کو ملے گا سالانہ 72 ہزار روپئے 

ایک زبردست انتخابی تیقن دیتے ہوئے صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج اعلان کیاکہ غریب ترین زمرہ سے تعلق رکھنے والوں کو فی کس 72,000روپئے سالانہ اقل ترین أجرت دی جائے گی بشرطیکہ ان کی پارٹی برسراقتدار آجائے ۔ نئی دہلی میں منعقد ہ ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہاکہ 5کروڑ ...