مالدیپ میں ایمرجنسی نافذ، چیف جسٹس گرفتار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th February 2018, 12:14 PM | عالمی خبریں |

مالے 6فروری(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) مالدیپ میں عدلیہ اور حکومت کے درمیان شدید تناؤ کے بعد ایمرجنسی نافذ کرکے ملک کے چیف جسٹس کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین نے ملک میں 15 روز کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، جس کا اعلان صدارتی مشیر عظیمہ شکور نے ٹیلی ویڑن پر کیا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صدر عبداللہ یامین کو وسیع تر انتظامی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، اس کے علاوہ سیکیورٹی حکام کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت اسے الزام بتائے بغیر حراست میں لے سکتے ہیں۔ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی ملک میں بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ بھی شروع ہوگئی ہے، پولیس نے چیف جسٹس عبداللہ سعید کے علاوہ ایک اور جج علی حمید کو حراست میں لینے کی تصدیق کردی ہے تاہم ان پر عائد الزامات کے حوالے سے کسی قسم کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔دوسری جانب مالدیپ کے خود ساختہ جلاوطن سابق صدر محمد نشید نے صدر یامین اور حکومت سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ آئین کی پاسداری کریں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدلیہ کے احکامات کو ماننے سے انکار بغاوت کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے حکومت کو تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا تھا تاہم صدر عبداللہ یامین نے اسے ماننے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پارلیمنٹ کو تحلیل اور کئی سرکاری افسران کو نوکری سے برخاست بھی کردیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

ایران میں رواں سال تین کم سن بچوں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا:یو این

ایران میں کم عمر افراد کو سزائے موت دیے جانے اور ان سزاؤں پر عمل درآمد میں ماضی کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال 2018 کے پہلے ڈیرھ ماہ میں ایران میں تین کم عمر افراد کو پھانسی دے کر موت سے ہم کنار کردیا گیا۔