ملائیشیا : حزب اختلاف کی اہم ترین شخصیات کے لیے عام معافی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 1:01 PM | عالمی خبریں |

کوا لالمپور 16 مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) ملائیشیا میں قید سیاسی رہ نما انور ابراہیم کو آج بدھ کے روز مکمل معافی دے دی گئی ہے۔ وہ کوالا لمپور کے اْس ہسپتال سے آزادانہ طور پر رخصت ہو گئے ہیں جہاں وہ زیر علاج تھے۔اس موقع پر کالے کوٹ میں ملبوس ٹائی باندھے ہوئے 70 سالہ انور ہسپتال سے باہر آئے تو انہوں نے اپنے حامیوں کو مْسکراہٹ کا تحفہ پیش کیا۔ وہ اپنے اہل خانہ ، وکیلوں اور جیل کے محافظین کے گھیرے میں گاڑی میں سوار ہوئے اور پھر ملائیشیا کے شاہ سے ملاقات کے لیے ان کے محل روانہ ہو گئے۔انور کے وکیل نے بتایا کہ شاہ کی جانب سے عام معافی کا اعلان جاری کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ انور ابراہیم کے خلاف گزشتہ تمام الزامات ختم ہو چکے ہیں۔ادھر ملائیشیا کے نو منتخب وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ وہ اپنے منصب پر ایک یا دو سال رہ سکتے ہیں۔ مہاتیر نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ وہ سبک دوشی کے بعد بھی پس پردہ رہ کر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔انہوں نے یہ بات منگل کے روز کوالا لمپور سے براہ راست وڈیو لنک کے ذریعے ٹوکیو میں وال اسٹریٹ جرنل اخبار کے لیے منعقد کانفرنس میں کہی۔حالیہ انتخابات میں مہاتیر کے سیاسی اتحاد نے حیران کن طور پر سابق وزیر اعظم نجیب عبدالرزاق کے مقابل کامیابی حاصل کر لی۔ مہاتیر نے امید ظاہر کی ہے کہ انور ابراہیم اتحاد میں موجود بقیہ تین جماعتوں کے سربراہان کی طرح اپنا کردار ادا کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

نیویارک کے مرکزی علاقے میں زیر زمین بھاپ پائپ لائن پھٹنے سے دھماکے

نیویارک شہر کے فائر ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ مین ہیٹن کی گلیوں میں زیر زمین گزرنے والا ایک ہائی پریشر بھاپ کا پائپ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ففتھ ایونیو کے مرکز میں واقع ایک سوراخ سے بھاپ نکل کر ہوا میں پھیلنا شروع ہو گئی۔

ترک بچوں اور خواتین کا جنسی استحصال کرنے والا خود ساختہ مذہبی رہنما گرفتار

استنبول کی ایک عدالت نے بزعم خود ایک اسلامی فرقے کے رہنما اور ٹی وی پر تبلیغ کرنے والی شخصیت عدنان اوکتار کو 115 دیگر پیروکاروں سمیت مختلف الزامات کی مزید تفتیش کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدنان اوکتار پر جرائم پیشہ گینگ قائم کرنے، دھوکادہی اور جنسی استحصال کے الزامات ہیں۔

مقتدیٰ الصدر نے مظاہرین کی حمایت کردی ،نئی حکومت کی تشکیل مُوَخَّر کرنے کا مطالبہ

عراق کے سرکردہ شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے ملک کے جنوبی صوبوں میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کی حمایت کردی ہے او ر تمام متعلقہ سیاست دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے بہتری شہری خدما ت کی فراہمی کے مطالبات پورے ہونے تک نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیں ۔