دبئی کے مدرسہ عمر بن الخطاب کے سالانہ پروگرام میں طلباء کا شاندار مظاہرہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 26th April 2017, 3:49 AM | خلیجی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

دبئی 26 اپریل( ایس او نیوز/ جیلانی محتشم) مدرسہ عمر بن الخطاب تحفیظ القران جو حکومت دبئی کے اوقاف کے زیر نگرانی ایک عرصے سے دبئی میں چل رہا ہے اس کا سالانہ پروگرام بروز جمعہ مسجد بن نایم میں بعد نماز عصر محمد دانش محمد عاصم قاضیا کی تلاوت قران سے شروع ہوا ۔ مدرسہ کے کنوینر مولوی مولاکرانی نے تعارف اور استقبالیہ پیش کیا اور پروگرام کی غرض و غایت بیان کی انہوں نے کہا کہ اس مدرسہ میں جملہ آٹھ ملکوں کے طلباء زیر تعلیم ہے ۔ اس کے بعد مدرسہ کے طالب علموں کے درمیان ایک پارہ حفظ ‘ دو پارہ حفظ اور مدرسہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ پارہ حفظ کے مسابقے ہوئے ۔ جس میں طالب علموں نے اچھا مظاہرہ پیش کیا ۔ مدرسہ کے روزانہ کی کارکردگی پر ایک مکالمہ جس میں استاد کی مدرسہ میں سختی سے طالب علموں کی نگرانی اور ان کی ہمت آفزائی کو خوب سراہا گیا ۔ اس کے بعد کوئز مقابلہ بھی ہوا جو روزانہ کے دعائیات اور اسلامی تاریخ پر مشتمل تھا ۔

 مدرسہ کے ذمہ دار مولوی عبدالمتین منیری نے مدرسے کی تاریخ کے پس منظرمیں چند باتیں بتائیں اور مدرسہ کے لئے کاوشیں کرنے والوں کی سراہنا کی ۔ مدرسہ کے مدیر عبدالباری محتشم نے بھی تمام کمیٹی خصوصا استاد اور محترم منیری صاحب کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی بدولت یہ مدرسہ الحمد اللہ ا بھی تک چل رہا ہے مزید تمام والدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں کو اس میں داخلہ کریں۔

خصوصی مہمان کے طور پر بھٹکل سے تشریف فرما مولانا یونس برماور نے مختصر لیکن جامع انداز میں سامعین اور طالب علموں سے خطاب کیا ‘ موصوف نے مدرسہ کی جملہ کارکردگی کی خوب تعریف کی اور کہا کہ یہاں قرآن کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی دعائیں اور دوسری ضروری چیزیں پڑھائی جاتی ہیں اور حاضرین میں موجود تمام لوگوں سے درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں کو اس مدرسہ میں داخل کرائیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو انجننئر اور ‘ ڈاکٹر بنانے سے پہلے حافظ قران بنائیں ۔ حافظ قران بنانے سے قوت حافظہ میں اضافہ ہوتا ہے ۔ عمر گذرنے کے بعد زبان سے صحیح لفظ نکلنا مشکل ہوجاتا ہے اسکے لئے ضروری ہے کہ بچوں کو قرآن کی تعلیمات اولین فرصت میں دے ۔

جناب محمد اشفاق سعدا صاحب نے بھی اپنے مختصر خطاب میں اس پروگرام میں زیادہ طالب العلموں کی شرکت پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا اور مدرسے کے ذمہ داران اور والدین کا شکریہ ادا کیا ۔ نائب کنوینر مولوی مصدق ہلارے نے مسابقہ کے نتائج کا اعلان کیا اور کلمہ تشکر پیش کیا ۔ پروگرام کی نظامت استاد مولوی عبدالحئی ائیکری نے کی ۔ اول دوم اور سوم آنے والے طالب علموں کو سند اور رقم انعام کے طور پر پیش کی گئی۔ کثیر تعداد میں لوگوں نے پروگرام میں شرکت کی اور تواضع کے ساتھ جلسہ برخواست ہوا ۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔

جموں و کشمیر میں برفانی تودے میں دفن ہوئے پانچ فوجی جوان، تلاشی مہم شروع 

جموں اور کشمیر میں ہوئی سموار کی شب ہوئی تازہ برفباری میں گریج خطہ سے دو جوان اور کپواڑہ ،12؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کے نیل گاؤں سے تین فوجی جوان کے لا پتہ ہونے کی دردناک خبر مل رہی ہے ۔

’’بھگوا غنڈہ گردی ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ‘‘: آل انڈیا امامس کونسل

ہندوتواوادی اور فسطائی غنڈے نے پھر سے ملک کو شرمسار کر دیا۔ ایک نہتے اور بے قصور مزدور افراز الاسلام کو مزدوری دینے کے بہانے بلاکر پھاوڑے سے قتل کر دینا اور پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا کر جلا دینا ملک کے لیے ایک انتہائی شرمناک معاملہ ہے۔