لوک سبھا انتخابات 2019: چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخابات کے ووٹ فیصد سے کانگریس کو بڑی امید

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th February 2019, 12:50 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12 ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات 2019 میں جہاں پرینکا گاندھی کے اترنے سے اتر پردیش میں کانگریس کو تھوڑی طاقت ملی ہے، وہیں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں حکومت بنانے کے بعد کانگریس کے لئے تھوڑی راحت اور تھوڑی تشویش کی بات دونوں ہو سکتی ہے۔

راجستھان میں جہاں گوجر ریزرویشن تحریک سے ریاستی حکومت پریشان ہے وہیں کسانوں کے قرض معافی کے معاملے پر مدھیہ پردیش میں بھی حکومت کو کئی مقامات پر ناراضگی جھیلنی پڑ رہی ہے۔حالانکہ گزشتہ دو ماہ میں چھتیس گڑھ میں کانگریس حکومت کے سامنے کوئی بڑا مسئلہ کھڑا نہیں ہوا ہے۔سی ایم بھوپیش بگھیل نے کسانوں کے قرض معافی کااعلان کر دیا ہے اور اس کے علاوہ قبائلیوں کی زمینیں بھی لوٹانے کام شروع کیا گیا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اس بار بی جے پی کی 15 سالوں کے اقتدار کو اکھاڑ پھینکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔اس نے اس بار 90 میں سے 68 سیٹیں جیتی ہیں جبکہ بی جے پی کو 15 اور دیگر کو 7 سیٹیں ملی ہیں۔

بات کریں گزشتہ اسمبلی انتخابات کی تو سال 2013 میں بی جے پی نے 49 اور کانگریس کو 39 سیٹیں ملی تھیں، دو سیٹیں دیگر کو ملی تھیں۔ووٹ فیصد کے حساب سے دیکھیں تو بی جے پی کو 41 فیصد اور کانگریس کو 40.3 فیصد ووٹ ملے تھے۔سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 10 اور کانگریس کو 1 سیٹ ملی تھی۔اس انتخاب میں بی جے پی کو 49.7 فیصد اور کانگریس کو 39.1 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اگر دسمبر مہینے میں آئے اسمبلی انتخابات میں ووٹ فیصد کو دیکھیں تو کانگریس کو 43 فیصد (68 سیٹ)، بی جے پی کو 33 فیصد (15 سیٹ) ملے تھے۔اگر اس نتیجے کو لوک سبھا انتخابات کے حساب سے دیکھیں تو کانگریس کو لوک سبھا کی 11 سیٹوں میں سے کانگریس کو 10 اور بی جے پی کو 1 سیٹ ملتی دکھائی دے رہی ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے

وزیر اعظم نریندر مودی پہلے چائے و الا، اب چوکیدار بن کر کر رہے تشہیر: مایاوتی

وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے شروع کی گئی’میں بھی چوکیدار‘ مہم پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے منگل کو طنز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں چائے والا اور اب چوکیدار...، ملک واقعی بدل رہا ہے،