انتخابی اخراجات پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ کمشنر سوشیل میڈیا کی تشہیری مہم بھی ضابطہ اخلاق کے دائرہ میں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th March 2019, 10:55 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍مارچ (ایس او نیوز) بنگلورسنٹرل ،نارتھ اور ساؤتھ لوک سبھا حلقوں میں انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کے اخراجات پر بنگلور ضلع انتخابی افسر خصوصی نظر رکھیں گے۔ 70؍لاکھ روپیوں سے زائد خرچ کرنے پر امیدواروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بنگلور شہری ضلع انتخابی افسر نے اعلان کیا ہے۔

بنگلور ضلع انتخابی افسرو بروہت بنگلور مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کمشنر منجوناتھ پرساد اور شہر کے پولیس کمشنر ٹی۔ سنیل کمار نے مشترکہ اخباری کانفرنس کے دوران بتایا کہ مذکورہ تینوں پارلیمانی حلقوں میں امیدواروں کے انتخابی جلوس ، جلسہ ، انتخابی مہم کے لئے خرچ کی جانے والی رقم پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور اس کی باقاعدہ نگرانی ہوتی رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی امیدوار70؍لاکھ روپیوں سے زائد کی رقم انتخابات کے لئے خرچ کرتا ہے تو ایسا امیدوار عدالت عظمیٰ کے حکم کے تحت اپنی رکنیت کھوسکتا ہے۔ ضلع انتخابی افسر نے بتایا کہ انتخابات کے دوران امیدوار کے اخراجات کی جانچ کے لئے مذکورہ تینوں پارلیمانی حلقوں میں 24؍چیف اکاؤنٹس افسر24؍اسسٹنٹ اخراجات مشاہدین اور24؍اکاؤنٹس ٹیموں کے افسر کڑی نظر رکھیں گے۔ ہر ایک امیدوار کے انتخابی جلسوں اور انتخابی مہم کی باقاعدہ طور پر ویڈیو گرافی کی جائے گی اور ہر امیدوار کو اپنے اخراجات کی تفصیلات ضلع انتخابی افسر، کو دینی ہوگی۔ منجوناتھ پرساد نے بتایا کہ کل عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوچکاہے اور ضابطۂ اخلاق لاگو ہوچکاہے۔ دوہزار سے زائد تمام علاقوں میں لگائے گئے حکومتوں کی تشہیری بورڈس ہٹادیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردہ وزیراعلیٰ ، نائب وزیراعلیٰ ، میئر اور ڈپٹی میئر کی تصاویر بھی نکال دی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ بی بی ایم پی بنگلور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) واٹربورڈ ، بنگلور میٹرو ریل کارپوریشن لمیٹیڈ (بی ایم آر سی ایل) سمیت دیگر محکمہ جات ،منتخب قائدین سے سرکاری کاریں واپس لے لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ اس مرتبہ پارلیمانی انتخابات میں جملہ تینوں پارلیمانی حلقوں میں 88؍لاکھ ،81ہزار ،66؍ووٹر اپنے ووٹ کا استعمال کرسکیں گے جن میں 46؍لاکھ 32؍ہزار 900؍مرد اور42؍لاکھ 48؍ہزار 166خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایم وجئے شنکر آئی اے ایس ، بنگلور شہری ضلع ڈپٹی کمشنر کو بنگلور نارتھ پارلیمانی حلقہ کے لئے بی بی ایم پی اڈیشنل کمشنر (انتظامیہ) ڈاکٹر ایم۔ لوکیش آئی اے ایس کو بنگلور سنٹرل اور بی بی ایم پی (ساؤتھ زون) اڈیشنل کمشنر ایس ایس نکھل کو بنگلور ساؤتھ لوک سبھا حلقہ کے لئے انتخابی افسر کے طور پر مقرر کیاگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی ضابطۂ اخلاق پر کڑی نظر رکھنے کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو مذکورہ تینوں پارلیمانی حلقوں میں 24؍گھنٹے نگرانی کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ کانٹیکٹ سنٹر (ڈی سی سی) بی بی ایم پی صدر دفتر میں قائم کیاگیا ہے جس کا ٹول فری نمبر1950ہے۔ شہری اس نمبر پر انتخابات سے متعلق شکایتیں اور اطلاعات دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ سوشیل میڈیا کے ذریعہ انتخابی تشہیری مہم کو بھی ضابطۂ اخلاق کے دائرے میں لایاگیا ہے۔ سوشیل میڈیا پر اشتہار کا مواد ڈالنے سے پہلے سرٹی فکیٹس لازمی قراردیاگیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا میں پیڈ نیوز شائع اور نشرکرنے سے قبل بھی سرٹی فکیٹ لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس پر بھی مشاہدین نظر رکھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ تینوں پارلیمانی حلقوں میں آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے انتخابات کروانے کے لئے درکار اقدامات کئے گئے ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بنگلور میں 23/ مئی کو ووٹوں کی گنتی کے دوران امتناعی احکامات نافذ

23 مئی کو لوک سبھاانتخابات کے نتائج کا اعلان ہورہا ہے۔ انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے کے مرحلے میں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہونے پائے اس کے لئے شہر کے پولیس کمشنر سنیل کمار نے 23مئی کی صبح چھ بجے سے شہر بھر میں امتناعی احکامات نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کرناٹک کے کندگول اور چنچولی حلقوں میں آج ہوگی پولنگ؛ 85 پولنگ بوتھوں کو قرار دیا گیا ہے حساس

ریاست کرناٹک  کے دو اسمبلی حلقوں کندگول اور چنچولی کے لئے آج اتوار کو  ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دونوں حلقوں پر کامیابی درج  کرنے کے لئے کانگریس جے ڈی ایس اتحاد اور بی جے پی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔

محمد محسن کی فرض شناسی کو پھر نشانہ بنانے کی کوشش، الیکشن کمیشن تادیبی کارروائی کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع

اڈیشہ میں انتخابی مشاہد کے طور پر متعین کرناٹک کیڈر کے آئی اے ایس افسر محمد محسن نے وزیراعظم مودی کے ہیلی کاپٹر کی تلاشی لے کر جس فرض شناسی کا ثبوت پیش کیا اسے فرض شکنی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے نہ صرف انہیں معطل کردیا بلکہ اب ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے انہیں نشانہ ...