جنگلاتی زمینوں پر رہنے والوں کا مسئلہ حل نہیں کیاگیا تو انتخابات کا ہوگا بائیکاٹ؛ 12 فروری کو بنگلور چلو کا بھی اعلان

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 10th February 2019, 7:03 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بنگلورو10؍فروری (ایس او نیوز) جنگلاتی زمین پر برسہابرس سے قبضہ کرکے مکانات تعمیر کرنے اور باغبانی وکھیتی باڑی کے لئے جنگلاتی زمین اتی کرم کرنے والوں کو اگر قانونی حقوق دینے اوران زمینوں پر قبضے کو جائز کرنے کے سلسلے میں اگر ریاستی اور مرکزی حکومت نے فوری طور پر اقدامات نہیں کیے تو پھر درپیش پارلیمانی انتخابات میں اتی کرم داروں کی طرف سے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔اس سلسلے میں دباؤ بنانے کے لئے اتی کرم داروں کی جانب سے 12فروری کو ’بنگلوروودھان سودھاچلو‘ احتجاجی پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ اس بات کی اطلاع ضلع شمالی کینرا میں اتی کرم کرنے والوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی کمیٹی کے صدر رویندرا نائک نے دی ہے۔

بنگلورو پریس کلب میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رویندرا نائک نے  اتی کرم داروں پر محکمہ جنگلات کے افسران کی جانب سے کی جارہی زیادتیوں کی مذمت کی اور اتی کرم کرنے والوں کے حقوق کے برخلاف غیر قانونی طور پر اقدامات کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور قانونی دائرے میں اتی کرم داروں کو ان کے حقوق دینے کے سلسلے میں مرکز ی اور ریاستی حکومت کو اقدامات کرنا چاہیے۔

پریس کانفرنس کے دوران جئے رام سِدّی، بھیم شی والمیکی، امام سِدّی، ابراہیم سِدّی وغیرہ موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کا بھٹکل دورہ؛ کہا، جمہوریت خطرے میں ہے، اُسے بچانے کے لئے ہر شہری کو آگے آنا ہوگا

اس بار کے انتخابات سب سے زیادہ اہم اس لئے  ہے کہ مودی کے زیر اقتدار ملک کی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جب سے مودی ملک کے وزیراعظم  بنے ہیں ملک کے سرکاری جمہوری اداروں میں  دخل اندازی سے  عدالت تک محفوظ نہیں ہے، ریزروبینک آف انڈیا  ہو ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ہو، سی بی آئی ...

ہلیال میں جے ڈی ایس لیڈر کے گھر پر انتخابی افسران کا چھاپہ ۔تلاشی کے بعد خالی ہاتھ واپس لوٹے افسران؛ کیا بی جےپی کو شکست کا خوف ہے؟

پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر چیک پوسٹس پر تلاشی مہم کے علاوہ ہلیال شہر کے گوداموں، شراب کی دکانوں، موٹر گاڑیوں کی بھی مسلسل تلاشیاں لے رہے ہیں۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...

بھٹکل میں بی کے ہری پرساد کا بی جے پی اور مودی پر راست حملہ، کہا؛ پسماندہ طبقات کومزید کمزور کرنے کی سازش رچی جارہی ہے

بی جے پی بھلے ہی اپنے آپ کو اقلیت مخالف پارٹی کے طور پر پیش کرتی ہو، مگر  دیکھا جائے تو یہ پارٹی حقیقتاً پسماندہ طبقات، دلت اور ادیواسیوں کو  مزید  کمزور کرنے کی سازش میں لگی ہوئی ہے اور صرف ایک طبقہ کو برسراقتدار پر لانے میں کوشاں ہے۔ یہ بات  آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی ...

سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کا بھٹکل دورہ؛ کہا، جمہوریت خطرے میں ہے، اُسے بچانے کے لئے ہر شہری کو آگے آنا ہوگا

اس بار کے انتخابات سب سے زیادہ اہم اس لئے  ہے کہ مودی کے زیر اقتدار ملک کی جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔جب سے مودی ملک کے وزیراعظم  بنے ہیں ملک کے سرکاری جمہوری اداروں میں  دخل اندازی سے  عدالت تک محفوظ نہیں ہے، ریزروبینک آف انڈیا  ہو ، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ہو، سی بی آئی ...

بنگلور سے شموگہ اور بھدراوتی لے جانے کے دوران دوکروڑ کی رقم ضبط؛ گاڑی کے ایک ٹائر میں چھپا کر رکھی گئی تھی رقم

الیکشن کا ضابطہ اخلاق لاگو ہونے کے بعد انتخابی قوانین کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے دستے نے کرناٹکا میں اب تک غیر محسوب رقم اور دیگر اشیاء جو ضبط کی ہے اس کی مالیت کا اندزاہ 83کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں سخت نگرانی میں اسٹرانگ رومس منتقل

جنوبی کرناٹک کے 14 پارلیمانی حلقوں میں کل پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران ڈالے گئے ووٹ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں قید ہیں ، اور ان الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو مرکزی دستوں کی سیکورٹی کے تحت اسٹارنگ رومس میں قید کردیا گیا ہے۔

ملک میں بی جے پی کی لہر اور جال بالکل نہیں ہے مودی انتظامیہ کارپورٹ کارڈ فیل ہوگیا : دنیش گنڈو راؤ

ملک کے کسی بھی علاقہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوئی لہر بالکل نہیں ہے ۔مودی لہر کا جھانسہ دے کر عوام کو جال میں پھانسنے کی کوشش بی جے پی کر رہی ہے ۔یہ باتیں کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈو راؤ نے کہی ہیں ۔آ

میں عہدۂ وزیر اعلیٰ کا دعویدار ضرور ہوں ، لیکن اب نہیں : سدرامیا

 سابق وزیر اعلیٰ اور ریاست میں حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا نے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے متعلق ا پنے بیان کا دفاع کیا اور کہا ہے کہ وہ سرگرم سیاست کا حصہ ہیں کوئی سنیاسی نہیں۔ سیاسی امنگوں کا اظہار کرنے سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔