تمہارے درمیان رہ کر تمہاری طرح نہ ہوکر: کنڑا روزنامہ کراولی منجاؤ کا خصوصی اداریہ

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 5th September 2016, 9:31 PM | مہمان اداریہ | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

 جماعت اسلامی ہند کی طرف سے ملک گیر سطح پر 21اگست تا04ستمبر تک منائی گئی ’’امن وانسانیت ‘‘مہم کے دوران اترکنڑا ضلع امن وانسانیت کمیٹی کا ایک وفد اترکنڑا ضلع اور ریاست گوا میں سب سے زیادہ شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ ’’کراولی منجاؤ‘‘کے مدیر اعلیٰ گنگا دھر ہیرے گُتی سے ملاقات کرکے امن و انسانیت ، بھائی چارگی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے متعلق گفتگو کی تھی جس سے متاثر ہوکر اپنی سماجی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے موصوف نےمہم کے آخری دن 4ستمبر کو اپنے اخبار میں جو معنی خیز اداریہ بعنوان ’’میراصفحہ‘‘ تحریر کیا ہے اس کا ترجمہ ساحل آن لائن کے قارئین کے سامنے شکریہ کے ساتھ  پیش کیا جارہاہے۔

ریاست کرناٹکا فرقہ وارانہ فسادات میں  دوسرے نمبر پر ہونے کی خبر جس دن اخبارات کی زینت بنی تھی اسی دن یعنی جمعرات کو ضلع کی امن وانسانیت مہم کمیٹی کے ممبران ہمارے آفس میں تشریف لائے تھے۔ اس دن انہوں نے ضلع ڈی سی کے دفتر پہنچ کر ملک میں فرقہ واریت میں ہورہے  اضافہ اور اس کےروک تھام ، ملک میں مذاہب کے درمیان فرقہ وارانہ  ہم آہنگی کے تحفظ کے متعلق  اپنی درد مندانہ اپیل سونپ کر ہمارے ہاں تشریف لائے  تھے۔

اس وفد میں ضلع کے مختلف مسلم اداروں اور تنظیموں  کے ذمہ داران تھے، داڑھی والے معمرلوگوں کے ساتھ ادھیڑ عمر والے اور نوجوان بھی تھے۔ میرے خیال میں غالباً مسلمانوں کا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے سڑک پراترنا میرے لئے بالکل نئی بات ہے۔ حال ہی میں 29اگست کو بھٹکل میں امن و انسانیت کے موضوع پر سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا تھا،وہی وفد  جمعرات کو  کاروار پہنچنے کے بعد ’’کراولی منجاؤ‘‘ (کنڑا روزنامہ )کے دفتر میں مجھ سے ملاقات کی اور حالیہ ماحول میں  فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے متعلق گفتگو کی اور اس سلسلے میں اخبارجو خدمات انجام دے رہاہے اس کی ستائش بھی کی ۔

 دوران گفتگو میں نے ان سے کہا کہ محنت کرنے والے مزدور کو مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں، میری زندگی سے  یہ دھرم یا ذات کا کوئی ربط وتعلق نہیں رہاہے، میرے لئے اب بھی محنت ومزدوری ہی دھرم ہے، اس لئے میں  کسی ایک دھرم یا ذات کی تعریف  یا نفرت کے لئے کسی کے اثرات سے متاثر نہیں ہوتا ۔ لیکن مذاہب کے درمیان جو دوریاں ہیں اس کی اہم وجہ ہمارا آپس میں ایک دوسرے سے ربط و تعلق نہیں ہوناہے، اسی طرح آپس میں ایک دوسرے کے متعلق  شک وگمان کرنا بھی ایک اہم وجہ ہے۔ آج آپ نے ہمارے دفتر پہنچ کر گفتگو  کی ہے، تمہاراتعارف بھی ہوا، یہ تعارف صرف جسمانی تعارف نہیں ، ایک شخصیت کاتعارف ہواہے۔ آپ تمام امن وانسانیت کے لئے اپنی بساط بھرکوشش کررہے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کام کررہے ہیں اس کے لئے میرا بھر پور تعاون رہے گا۔

وہ دسیوں لوگ جب لوٹتے ہوئے مجھ سے مصافحہ کیا تو مجھے وہ بحیثیت انسان ہونے کے کوئی  زیادہ فرق نظر نہیں آیا۔

بچپن سے ہمارے ہاں ہندو، مسلم ،عیسائی وغیرہ کی کوئی تفریق نہیں تھی، اسکول کے دنوں میں تعلیمی طورپر جو سب سے زیادہ ذہین ہوتے تھے انہیں غریب ہونے کے باوجود  عزت ملتی تھی۔ اس زمانے میں ہمارے اسکول  میں  دو دلت بچے بھی تھے ، وہ ہمارے مزدوروں کے بچے تھے ، اس وقت چھوت چھات بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ہم سے دور ہی بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ہماری دادی کہتی تھی کہ ائے! ہلیر (دلت) لڑکوں کو چھوا ہے تو پورے کپڑے کھول کر گھر میں رکھ کر پانی ڈال ،پھر حما م میں نہا کر اندر آ۔تو میں جواب دیتا، تو کیا تختی، کتاب ، پنسل بھی پانی میں ڈبوکر لے آؤں ؟ تو وہ کہتی کہ پاگل مت بن،تیرے کتاب ، تختی ، کپڑے وہاں رکھ دو۔  تو ہم انہیں چھونے کے بائوجود کہتے کہ ہمیں انہوں نے نہیں چھوا ہے۔ پھر اندر گھوم کر گھر کو  پاک کرکے خوش ہوتے تھے۔

ہائی اسکول جانے کے بعد بیٹکولی کے ایک مسلم امیر خاندان ابوصالح  کا بیٹا ہائی اسکول آیا تو یہ پہلا اقلیتی لڑکا تھا جس کا ہائی اسکول کی تاریخ میں بطور مسلم طالب علم  کانام درج ہواتھا۔ اس کے بعد چہرے پر پیدائشی نشان لے کر اسماعیل ہماری کلاس میں داخل ہوا۔  اسی اسکول میں ایم اے شیخ نامی ہندی کے استاد بھی مسلم تھے۔

جہاں تک ہمارے لئے ہندو مسلم کے تعلقات ہیں وہ ہماری ماں نے ہمیں اپنے لین دین کے ذریعے سکھا ئی تھی، بیٹکولی ابوصالح  خاندان کی شاید فاطمہ نامی عورت مچھلی بیچنے کےلئے نکلتی تو سب سے پہلے  ہماری ماں کے لئے مچھلی محفوظ کرلیتی پھر پوری مچھلیاں فروخت کرنے کے بعد دیوومّا کہتے ہوئے مچھلی صاف کرکے چائے وغیرہ پی کر جاتی تھی۔ چونکہ وہ ہماری ماں کی  جگری سہیلی تھی جس کی بنا پر وہ میری بڑی ماں ، چھوٹی ماں کے جیسا  تعلق خاطر ہونے کے علاوہ مذہب کا کچھ خاص دخل نہیں تھا۔وہ جب ہمیں دیکھتے ہوئے اردو زبان میں کیوں بھئی !  بولتی اور کنڑا میں بات کرتی تو اس کا لہجہ ہمیں بہت ہی الگ محسوس ہوتاتھا۔

اسی  دوران شہرمیں آر ایس ایس شاکھا کی شروعات ہوئی ۔ مسلم حکمران ، ہمارے ملک پر ان کے حملے، مندر وں کو لوٹنا، ہندو عورتوں پر عصمت دری ، سومناتھ کی امیرانہ مندر کا غزنی محمود کا لوٹنا اسی طرح مسلمانوں کے متعلق زہر اگلنے اور ورغلانے کے علاوہ  حال ہی میں ملک کو لوٹنے والے انگریز حکومت کے متعلق  اور ایک دھرم عیسائیت کے متعلق کوئی شکایت  نہیں تھی ، لیکن ہمارے ساتھ روزانہ کھیلنے والے عیسائی بچوں کو دور بٹھاکرملکی کھیل اور جھنڈے کی سلامی پر پابندی لگائی تھی۔

مسلم حکمرانوں کا مندروں کو لوٹنا مجھ میں ہیجان پید اکرنے کے بجائے میں سوچتا تھا کہ مندر میں جب بھگوان کا خزانہ  لوٹا جا رہا تھاتو بھگوان خاموش کیوں رہتے تھے ؟ اسی بات پر مجھ میں بھگوان کی  طاقت کے متعلق  بے ایمانی  پیدا ہوئی ۔ میں نے جب بھگوان کی نااہلیت کے متعلق اپنے ماں باپ سے پوچھا تو وہ کہتے کہ بھگوان کی طاقت کے متعلق ہمیں کچھ پتہ نہیں ، لیکن ہمارے گاؤں کے بھگوان ہیرے ہوسبا کی طاقت کے متعلق بتاتی ہوں سن ! یہ کہتے ہوئے دادی نے ایک بار اپنے پیر پھیلا کر ، پان سپاری  چونا پتھر سے کوٹ کراپنے منہ میں رکھ کر، پلو سے منہ صاف کرتے ہوئے بولیں، انگریزوں کے زمانے میں کسی قتل کے متعلق کینج کو پولس پکڑ کر لے گئی ، لیکن وہ بے قصور تھا، کینج کے گھر والے بھگوان کے گھر جاکر دروازہ تعمیر کرکے پرارتھنا کی کہ ’’ائے ! بھگوان ، بے قصور کینج کو گوری چمڑی والے ممبئی ہائی کورٹ لے گئے ہیں اس کو رہا کرکے لے آ، ایسا کہتے ہی گنگا کے جسم میں بھگوان آکر کہنے لگا’’ تمہیں ڈرنےکی ضرورت نہیں میں اس کو رہا کرکے لاتاہوں ، کینج آنے تک کوئی بھی میری پوجا نہ کریں ، میرادروازہ بند کریں ، میں ممبئی جاتاہوں‘‘ کہتے ہوئے چلا گیا ۔ یہ ہمارے بھگوان ہیرے ہوسبا کو ایک سردار کی طرح گھوڑے پر سوارہوکر جانے کا منظر ہماری دادی کی عمروالوں نے دیکھا ہے۔ ممبئی میں کینج کو سرکے بال سے لٹکا کر سزا دینے کے دوران ہمارا بھگوان فرنگی افسران سے بحث  کرکے اس کو بے قصور ثابت کرکے گاؤں لایا تھا۔ یہ تو خود میری دادی سے سنا ہوا سچ  ہے۔ یہ چھوڑ کر جب میں نے پوچھا کہ مغل  تمام خزانہ کو  لوٹ رہے تھے تو بھگوان کے خاموش کیوں تھے تو اُس نے کہا کہ اُس کے متعلق مجھے کچھ پتہ نہیں ہے۔

دادی کے اس ہیرے ہوسبا بھگوان کی کرپا دیکھ کرمیں اس دن سے اپنے ہر مشکل اوقات میں اس کے نام کا استعمال ، امتحانات، نتائج سے لے کر نجی معاملات میں بھی ہیرے ہوسبا کو یاد کرتاتھا۔ لیکن لنگن مکی میں ٹپر کو ڈیزل ڈالتے ہوئے  ، کاروار میں سائیکل پر اخبارکو تقسیم کرتے ہوئے ، بس اسٹانڈ پر اخبارآنے کا  انتظار کرتے ہوئے ، میری اس درگت  کو   گاؤں والے نہ دیکھنے کی دعاکرتاتھا۔

میرے کالج کے دنوں میں آر ایس ایس کی طلبا تنظیم اے بی وی پی ممبر کے طورپرمیں ممبئی گیا تھا، لیکن میراآر ایس ایس میں ہونا کبھی فخر پیدا کرنے کے بجائے میری احساس  کمتری کی  وجہ بنی تھی، ذہن کومذہب تک محدود رکھتے ہوئے ، دیگر مذاہب کے درمیان باڑ لگاتی سرگرمیاں دیہی زندگی کی رونق بڑھا نے والی نہیں تھیں۔ ہمارے زمانے میں آرا یس ایس میں دلت داخلہ لینے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ یہاں  آرایس ایس کا مطلب  اعلیٰ ذات، تعلیم یافتہ ، عام طورپر تاجروں کی پکڑ والے اس  نظام میں ذات پات کی درجہ بندی والی رسم  کو پرورش کرتی ایک سازش نظر آتی تھی ۔ لیکن اس وقت ہماری جوانی کے شعور کو فطرت کی طرف لے جانے والے  ترقی پسند اداروں اور  تنظیموں کی کمی تھی۔

میں بی اے ختم کرکے دوسال گھر پررہا، ان بے روزگاری کے دنوں میں میرے تمام دوست ملازمت کرتے ہوئے  اچھی تنخوا ہ لے رہے تھے تو یہ میرے لئے شرم کی بات تھی۔ اپنے اغماض کو دورکرنےکے لئے لنگن مکی جا کر ملازمت کرنے لگا تو وہاں ایک کٹر آر ایس ایس وادی آلوا نامی انجنئیر سے  ملاقات ہوئی ۔ ان کے گھر پرآر ایس ایس کا ہفتہ واری رسالہ وکرم آتاتھا، اس میں کسی ایک موضوع پر لکھنے کے لئے آمادہ کرتے تھے ، اس میں زیادہ تر مسلم ملک پاکستان کے متعلق ہی ہوتاتھا۔ اس کے لئے لکھا، تصویر کے ساتھ شائع بھی ہوا، ایک دو کہانیاں بھی شائع ہوئیں، میں وہاں ادیب بن گیا ۔ میں چونکہ پہلے آر ایس ایس والاتھا تو اسی وجہ سے اخبار کا رپورٹر بھی بن گیا۔ مجھے آر ایس ایس کے تعلق سے غیظ و غضب  پید اکرنےو الے جنتا پارٹی کے کملاکر گوکرن نے نصیحت کی کہ ایک سکیولر رپورٹر بنو،  اس زمانے میں  کنڑا کا مشہور اخبار’’منگارو‘‘کے مدیر وڈرس رگھو رام شٹی نے اپنی منفرد فکر پیش کرتے ہوئے کہاکہ مذہب کاہلوں کے لئے ، سیاست دانوں کے لئے ایک سرمایہ ہے، لیکن انسان کی چوطرفہ ترقی کے لئے بہت بڑی لعنت ہونے کی فکر پیش کرکے جینا سکھایا۔

ہم مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ساتھ رہنے والے ذی روحوں سے الگ زندگی گزارتے ہوئے  انسانوں میں تفریق کرکے جینےکی کوشش کرتے ہیں۔مختلف وجوہات کو اپنا کر  ایک دھرم کےلوگوں کو  دوسرے دھرم کےلوگوں سے  دوررکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم مسلمانوں سےکہتے ہیں کہ تم  ہمارے ملک کے لئے وفادار نہیں ہوسکتے ،اس لئے  پاکستان چلے جائیں۔ ہم عیسائیوں کے متعلق خوف پید اکرتے ہیں کہ ان کے دھرم تبدیل کرنے سے ہندؤو ں کی آبادی میں کمی ہورہی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی مسلمانوں پر لازم نہیں تو پھر ہندؤوں پرکیوں ؟ ان کو بھی بے شمار بچے پیدا کرنے کی صلاح دیتے ہیں۔ بھارت میں ہندؤوں میں خوف پید اکیا جاتا ہے کہ  مسلمان جس طرح آبادی بڑھا رہے ہیں اس کے نتیجے میں ایک نہ ایک دن ہم  پردیشی  ہوجائیں گے۔ کوئی ایک فرقہ پرست پاکستان کا جھنڈا لہراتا ہے، دہشت گردی کے متعلق بھٹکل سے کوئی ایک ملوث ہونے کا نام سامنے آتاہے تو  پوری قوم کو داغ دار کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔

کنڑا کے مشہور شاعر، ادیب، نقاد ڈاکٹر کے ایس نثار احمد لکھتے ہیں ’’تمہارے درمیان رہتے ہوئے تمہاری طرح نہ ہوکر‘‘ اس طرح پردیشی فوبیا صرف دھارمک میدان میں ہی نہیں ہمارے معاشرے میں ، سرحد پر ، لسانیات کے میدان میں بھی نظر آتا ہے۔ میں جب بے روزگار ی کے زمانےمیں گھر میں سب کے لئے بوجھ بن کر بیزارگی کا سبب بنا تھا تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری طرح نہ ہوکر  گھر سے بھاگ گیاتھا۔ کاروار پہنچ کر اخبار تقسیم کرنے لگا تو وہاں بھی  مراٹھی،کونکنی زبانوں کے غلبہ کے دوران بھی یہ  نظم ذہن میں گنگنا رہی تھی۔ آج بھی صحافت کے میدان میں ، ادبی پریشد میں ، کاروار اتسوا میں شریک ہونے والے مقامی دوستوں ، عطیہ کنندگان ہمارے ساتھ رہ کر بھی ہمارے جیسے نہ ہوکر،کیا کاروار باہر سے آنے والوں کی جائیداد ہے ؟کہتے ہوئے طنز کرتے ہیں۔

تم کتنااور کچھ بولو جناب ! ایک لڑکی جب اپنے میکے سے شوہر کے گھر جاتی ہے تو اس کے ساس اور سسر کی موت تک وہ ان کے خاندان کی ممبر نہیں ہوسکتی ،ان کی موت کے بعد ہی اس کو خاندان کی ممبری ملتی ہے ۔کسی عورت کا یہ قول ’’اس وقت تک گھروالی بننا کتنا مشکل ہے‘‘ ہمیں غور کرنےپر  آمادہ کرتا ہے۔ ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی کو چھلانگ لگانے کے دوران پکڑ کھو کر  نیچے گرنے والے بندر کا بقیہ بائیکاٹ کرتے ہیں تواسی نسل سے منتقل ہوئے  انسان ، انسانوں کی تقسیم میں تحفظ کی تلاش کررہے ہیں۔

الگ الگ ماحول میں زندگی کے مختلف طریقوں سے تشکیل پانے والا انسان سب کو اپنانا ، ماننا مشکل ہے، ہم آہنگی کے بغیر تنہا زندگی گزارنا معمول ہے،  لیکن جب  ہمیں کوئی نہیں اپناتا ہے  تو تمہارے درمیان رہ کر تمہاری طرح نہ ہوکر ، کہنا  عام بات ہے۔

                                                                                                      ترجمہ :عبدالرؤوف سونور۔ اردو لکچرر، انجمن پی یو کالج ،بھٹکل

ایک نظر اس پر بھی

اتر پردیش میں لاقانونیت: بلند شہر میں پولیس پر حملہ۔منظم طور پر گؤ رکھشکوں کے بڑھائے گئے حوصلوں کا نتیجہ۔۔۔(ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ )

اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں مبینہ طور پر گؤ کشی کے خلاف احتجاجی ہجوم کی جانب سے پولیس پر دہشت انگیز حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گؤ رکھشکوں کے حوصلے کس حد تک بلند ہوگئے ہیں۔

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...

حکومت کی ممبئی فراموشی کا نتیجہ 

ممبئی میں الفنسٹن روڈ اور پریل ریلوے اسٹیشنوں کو جوڑنے والے پل کی تنگی ، موسلادھار بارش ، شدید بھیڑ بھاڑ کا وقت، کئی ٹرینوں کے مسافروں کا دیر سے اسٹیشن اور پُل پر موجود ہونا،

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

گوری لنکیش کا نہیں ،جمہوریت کا قتل .. ۔۔۔ . روزنامہ سالار کا اداریہ

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی نفرت ، عدم رواداری اور عدم برداشت کی مسموم فضاؤں نے گزشتہ 3سال کے دوران کئی ادیبوں ، قلم کاروں اور سماجی کارکنوں کی جانیں لی ہیں اور اس پر مرکزی حکومت کی خاموشی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

اگست ،ستمبرمیں فلو کے خطرات اور ہماری ذمہ داریاں از:حکیم نازش احتشام اعظمی

لگ بھگ سات برسوں سے قومی دارلحکومت دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں ، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اورملک کے لگ بھگ سبھی صوبوں کو ڈینگو،چکن گنیا،اوراس کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر مہلک ترین فلوٗ نے سراسیمہ کررکھا ہے۔

کرناٹکا کے کولار میں اسکول کی دیوار گرنے سے ساتویں جماعت کی طالبہ فوت

کولار ضلع کے ملباگل تعلق میں آنے والے گنا گنٹے پالیہ سرکل میں واقع مرارجی دیسائی اقامتی اسکول کے احاطے میں بیت الخلاء کی دیوار گرنے کے نتیجے میں ایک ساتویں  جماعت کی طالبہ کی موت واقع  ہوگئی۔ مہلوک کی شناخت جوسنا کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

مینگلور: پولیس کے خوف سے سائڈلیتے وقت ٹرک الٹ گیا۔ کلینر کی موت۔ برہم عوام نے کیا راستہ روک کر احتجاج

منگلورو شہر کے مضافات تھوکٹو میں پولیس نے گاڑی روکنے کے لئے کہاتوکیرالہ کی طرف جانے والے ایک ٹرک کے ڈرائیور نے اپنی گاڑی سائڈ میں لے جانے کی کوشش کی جس کے دوران گاڑی الٹ گئی اوراس کے نتیجے میں وسنت کمار (25سال) نامی کلینر ہلاک ہوگیا، جو کہ شکاری پور کا رہنے والا تھا۔ 

چامراج نگر مندر حادثے کے ذمہ داروں کو بخشا نہ جائے: جی پرمیشور

باگلکوٹ ضلع کے ایک نجی شکر کے کارخانے میں بائلر پھٹنے کی وجہ سے ہلاک افراد کے ورثاء کو ریاستی حکومت کی طرف سے پانچ لاکھ روپیوں کا معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بات آج ریاستی اسمبلی میں نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بتائی۔

سکھ فسادات: میرے خلاف نہ کوئی ایف آئی آر اور نہ ہی چارج شیٹ، کمل ناتھ نے کہا،بی جے پی جھوٹ پھیلارہی ہے

مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے 1984 کے سکھ فسادات پر اٹھ رہے سوالوں پر جواب دیاہے۔کمل ناتھ نے کہاہے کہ 1984 کے سکھ فسادات میں ان کے خلاف کوئی بھی ایف آئی آر یا چارج شیٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اب اس مسئلے کواٹھانے کے پیچھے صرف سیاست ہے۔انہوں نے کہاکہ جس وقت میں کانگریس کا جنرل ...