لیبیا کی فوج کا درنہ شہر کے کئی ٹھکانوں پر کنٹرول ، 21 دہشت گرد گرفتار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th May 2018, 1:03 PM | عالمی خبریں |

طرابلس 16 مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) لیبیا میں سرکاری فوج کے میڈیا کوآرڈی نیٹر عبدالکریم صبرہ نے بتایا ہے کہ لیبیا کی فوج کے یونٹس منگل کی دوپہر سے درنہ شہر کی جانب پانچ اطراف سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔صبرہ نے بتایا کہ فوج نے درنہ کے جنوب میں واقع علاقے الحیلہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ادھر لیبیا کی فوج نے ایک بیان مین درنہ کی مقامی آبادی کو خبردار کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کے نشانچیوں سے دوْر رہیں جو شہر میں گھروں کی چھتوں کو استعمال کر رہے ہیں۔بیان کے مطابق فوج نے لڑائی کے دوران شہر کے اطراف دہشت گرد گروپوں کے مورچہ بند ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔پیر کے روز لیبیا کی فوج اور دہشت گرد جماعتوں پر مشتمل گروپ "مجلس شورۃ درنہ" کے جنگجوؤں کے درمیان بھاری ہتھیاروں کے ساتھ مختلف علاقوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس گروپ نے 2012 سے درنہ شہر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔دوسری جانب لیبیا کی فوج کے حربی ذرائع ابلاغ کے شعبے نے 21 دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جن میں 6 افراد مختلف غیر ملکی شہریتوں کے حامل ہیں۔ شعبے کے مطابق لڑائی کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے رواں ماہ کی سات تاریخ کو درنہ شہر کو "مجلس شوری درنہ" گروپ کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مذکورہ گروپ نے خود کو تحلیل کر کے "درنہ پروٹیکشن فورس" کا نام دے دیا تھا۔ گروپ یہ گمراہ کن دعوی بھی کرتا ہے کہ لیبیا کے عوام اس کی صفوں میں شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

نیویارک کے مرکزی علاقے میں زیر زمین بھاپ پائپ لائن پھٹنے سے دھماکے

نیویارک شہر کے فائر ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ مین ہیٹن کی گلیوں میں زیر زمین گزرنے والا ایک ہائی پریشر بھاپ کا پائپ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ففتھ ایونیو کے مرکز میں واقع ایک سوراخ سے بھاپ نکل کر ہوا میں پھیلنا شروع ہو گئی۔

ترک بچوں اور خواتین کا جنسی استحصال کرنے والا خود ساختہ مذہبی رہنما گرفتار

استنبول کی ایک عدالت نے بزعم خود ایک اسلامی فرقے کے رہنما اور ٹی وی پر تبلیغ کرنے والی شخصیت عدنان اوکتار کو 115 دیگر پیروکاروں سمیت مختلف الزامات کی مزید تفتیش کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدنان اوکتار پر جرائم پیشہ گینگ قائم کرنے، دھوکادہی اور جنسی استحصال کے الزامات ہیں۔

مقتدیٰ الصدر نے مظاہرین کی حمایت کردی ،نئی حکومت کی تشکیل مُوَخَّر کرنے کا مطالبہ

عراق کے سرکردہ شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے ملک کے جنوبی صوبوں میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کی حمایت کردی ہے او ر تمام متعلقہ سیاست دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے بہتری شہری خدما ت کی فراہمی کے مطالبات پورے ہونے تک نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیں ۔