لیبیا: قذافی دور کے متعدد انٹیلی جنس افسر جیل سے رہا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2018, 12:42 PM | عالمی خبریں |

طرابلس13جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت انصاف نے سابق مقتول لیڈر معمر قذافی دور کے متعدد عہدیداروں سمیت بعض سیاسی قیدیوں کو عارضی طورپر جیلوں سے رہا کردیاگیا ہے۔اطلاعات کے مطابق لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل کیتحقیقات سے متعلق ڈائریکٹر کے مطابق سابق رجیم کے عہدیدار اور سیاسی رہ نماؤں کو خرابی صحت کی بناء پر رہا کیا گیا ہے۔مقامی اخبارات میں شائع اس بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت قانون وانصاف کے زیراہتمام قیدیوں کی رہائی کے امورکی نگران کمیٹی نے بعض قیدیوں کو رہا کرنے کی سفارش کی تھی۔ ان میں مقتول معمر قذافی کے دور میں انٹیلی جنس سے وابستہ بعض عہدیدار بھی شامل ہیں۔رہائی پانے والوں میں قذافی دور کے بیرون ملک انٹیلی جنس افسر ابو زید دوردہ، سابق ملٹری انٹیلی جنس افسر عبدالحمید اوحیدا عمار، سابق پائلٹ جبریل الکادیکی، جمال الشاھد اور دیگر عہدیدار شامل ہیں۔پراسیکیوٹر جنرل کے تفتیشی امور کے ڈائریکٹرصدیق الصور نے ایک بیان میں بتایا کہ طویل عرصے سے حراست میں رہنے کے باعث ان قیدیوں کی صحت پر برے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ انہیں کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنا ضروری تھا تاہم عارضی طورپر انہیں جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انہیں دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔رہا کئے گئے سابق انٹیلی جنس حکام پر سنہ 2011ء4 میں معمر قذافی کے خلاف عوامی بغاوت کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بوئنگ 737 طیاروں کے سافٹ ویئر کو مزید بہتر بنانے کی منظوری

 امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے بوئنگ 737 میکس طیاروں کے سافٹ ویئر کو بہتر بنانے اور پائلٹوں کی تربیت میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رپورٹ مقامی میڈیا نے دی ہے۔ دو بڑے حادثوں کے بعد کئی ممالک نے ان طیاروں کی پرواز پر روک لگا دی ہے۔

مفتی تقی عثمانی پرقاتلانہ حملہ شرمناک، دہشت گردی انتہائی مذم عمل اوربزدلانہ حرکت 

پاکستان کے معروف عالم دین اور نامور محقق مولانا مفتی تقی عثمانی پر ہوئے قاتلانہ حملہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے معروف دانشور ڈاکٹر محمد منظورعالم نے کہاکہ یہ حملہ دہشت گردی اور بزدلانہ حرکت ہے جس کی کسی بھی سماج میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروئی ضروری ہے ...

اﷲ اکبراﷲ اکبرکی صداؤں سے گونج اٹھا نیوزی لینڈ حملے کے بعد پہلی نمازجمعہ کی ادائیگی ۔اجتماع میں وزیراعظم سمیت بڑی تعداد میں غیرمسلموں کی بھی شرکت

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر گزشتہ جمعہ ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی جانب سے خوفزدہ اور افسردہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی نے انسانیت میں انقلاب برپاکردیا ہے۔