سعودی عرب نے سعد حریری کو قید کر رکھا ہے، لبنانی صدر کا الزام

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th November 2017, 1:41 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

بیروت، 16 نومبر (ایجنسیاں) لبنان کے صدر میشال عون نے پہلی مرتبہ کھلے عام سعودی عرب پر لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کو قید میں رکھنے کا الزام عائد کیا ہے، لبنان کے صدر میشال عون نے کہا کہ سعد حریری کی وطن سے غیر حاضری کا کوئی جواز نہیں ہے اور انھوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

صدر میشال عون نے سعد حریری کی سعودی عرب میں بلا وجہ موجودگی کے بارے میں کہا کہ یہ لبنان کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔میشال عون نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ سعد حریری کی گزشتہ 12 دنوں سے سعودی عرب میں موجودگی کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں (سعد حریری) کی مرضی اور انسانی حقوق کے بارے میں ویانا کنونشن کے خلاف سعودی عرب میں روکا جا رہا ہے۔ صدر نے وزیراعظم کے استعفے کے بارے میں کہا کہ جب تک وہ ملک سے باہر ہیں اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، انھوں نے کہا کہ اپنے استعفے کے بارے میں بات کرنے کیلیے انھیں لبنان واپس آنا پڑے گا اور استعفیٰ دینے کی وجوہ بیان کرنا پڑیں گی جن کو دور بھی کیا  جاسکتا ہے۔

انھوں نے مزیدکہا کہ ملکی معاملات کو روکا نہیں جا سکتا اور وہ زیادہ دیر تک انتظار نہیں کر سکتے، سعد حریری نے نومبر کی 4 تاریخ کو سعودی عرب سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک وہ لبنان واپس نہیں جا سکے ہیں، سعد حریری نے ایک مرتبہ پھر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ خیریت سے ہیں اور آئندہ 2 روز میں لبنان واپس لوٹ جائیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن : حوثیوں کے لیے کام کرنے والے ایرانی جاسوس عرب اتحاد کے نشانے پر

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے تعز شہر کے مشرقی حصّے میں جاسوسی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس مرکز میں ایرانی ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں جو باغی حوثی ملیشیا کے لیے کام کرتے ہیں۔

شاہ سلمان اور صدر السیسی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے مصر کی سلامتی اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

کرد ملیشیا کی عفرین میں ترکی کے خلاف اسدی فوج سے معاہدے کی تردید

شام کے علاقے عفرین میں ترک فوج کا مقابلہ کرنے والی کردملیشیا ’کرد پروٹیکشن یونٹ‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کرد ملیشیا نے ترکی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسدی فوج کے ساتھ ساز باز کرلیا ہے۔