خواتین کی ترقی اورسیاسی میدان میں کامیابی کانگریس کے برسراقتدار آنے سے ممکن کے پی سی سی دفترمیں منعقدہ تقریب یوم خواتین سے رہنماؤں کا اظہار خیال

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th March 2019, 12:15 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو14؍مارچ(ایس او نیوز) ویمنس کانگریس لیڈروں نے کہا کہ اگر سیاسی میدان میں خواتین کو ریزرویشن چاہئے تو مرکز میں کانگریس کا برسراقتدار آناضروری ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی دفتر میں ویمنس کانگریس کی جانب سے یوم خواتین تقریب کا اہتمام کیاگیاتھا، جس میں ریاستی وزیر جئے مالا، رکن اسمبلی سومیا ریڈی، مےئر گنگمبیکا ملیکارجن، سینئر خاتون کانگریس لیڈر مارگٹ آلوا،رانی ستیش سمیت پارٹی کی دیگر خواتین لیڈروں نے شرکت کی۔۔

اس موقع پر پردیش کانگریس کمیٹی ویمنس ونگ کی صدر ڈاکٹر پشپا امرناتھ نے کہا کہ انتخابات میں خواتین کو33فیصد ریزرویشن حاصل نہیں ہے۔ اگر مرکز میں کانگریس برسراقتدار آئی تو خواتین کو 33فیصد ریزرویشن دیاجائے گا۔ انہوں نے ویمنس ونگ کے تمام لیڈران اور کارکنوں سے گزارش کی کہ وہ پارلیمانی انتخابات کے دوران پوری لگن اور جدوجہد کے ساتھ کام کریں اور پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے لئے کوشش کریں۔ا نہوں نے کہا کہ کانگریس صرف سیاسی پارٹی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک جن آندولن ہے ، یہ عام آدمیوں کی پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک ملک کی خدمت کرتی آئی ہے۔ کانگریس پارٹی نے ملک کی ترقی میں اہم کردار اداکیاہے۔مارگٹ آلوانے کہا کہ مودی کی جئے بولنا وطن پرستی ہے اور ان کے خلاف بات کرنا ملک سے غداری ہے۔ یہ ماحول آج ملک میں دکھائی دے رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا ماحول پیداکرنے والے افراد جمہوری ہندوستان میں ہیں یا نہیں، شک ہونے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ47سال کے دوران اتنے بڑے پیمانے پر بے روزگاری انہوں نے کبھی نہیں دیکھی اور افسوس اس کا ہے کہ مرکز میں نریندر مودی کے اقتدار پر آنے کے بعد ملک کئی مسائل میں گھرچکاہے۔اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ملک کا غدار کہاجانے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی جئے بولنے والے ہی وطن پرست ہیں۔ اس طرح کے حالات پیداکردےئے گئے ہیں۔پارلیمانی انتخابات کو مدنظر رکھ کرکانگریس پر بے بنیاد الزامات لگانے کے حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست بی جے پی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے کانگریس گھوٹالوں کا الزام لگارہی بوفورس معاملہ کو دوبارہ ہوادی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طیارہ سازی سے ناواقف انل امبانی کی کمپنی کو رافیل طیارہ کا کنٹراکٹ دیاگیاہے۔ انل مبانی دیگر تجارتی میدان کے ماہر ہیں۔ لیکن انہوں نے اس سے قبل نہ تو طیارہ سازی کی ہے اور نہ ہی اس کا ان کو کوئی تجربہ ہے۔ رافیل طیارہ کی تیاری کے معاہدہ کے بعد فرانس کی کمپنی نے جو رقم اداکی تھی اس سے انل امبانی نے ناگپورمیں زمین خریدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ادارے ایچ اے ایل کو ملنے والے کنٹراکٹ کو مودی حکومت نے انل امبانی کو دے کر ملک کے تحفظ کے معاملہ میں جان بوجھ کر مداخلت کی ہے۔ آلوانے خواتین کارکن سے کہا کہ وہ لوک سبھا انتخابات کے دوران پوری ایمانداری کے ساتھ کام کریں، ہر سڑک کی دوخواتین ذمہ داری لے کر ہر بوتھ پرعوام کو لاکر ووٹ ڈلوانے کی کوشش کریں اور یہ خیال رکھیں کے کوئی ووٹ ضائع نہ ہو۔ انہوں نے عمومی طورپر پارٹی کے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ ہر شخص پارٹی میں اہم ہے اور ہر کسی کو متحدہ کوشش کرنی چاہئے۔ اپنے اختلافات کو پارٹی کی کامیابی کے لئے قربان کردیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے سینئر لیڈر آر اشوک نے سدارامیا اور کمار سوامی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا

وکھے درخت کے پتوں کی مانند جھڑرہے کانگریس اراکین اسمبلی کی آنکھوں میں اندھیراچھا گیا ہے۔ انہیں آگے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ ریاست کے عوام نے مخلوط حکومت کی چڈی پھاڑدی ہے۔ اس قسم کی طنزیہ باتیں بی جے پی کے سینئر قائدآر اشوک نے کہیں۔

کرناٹک پبلک اسکولوں میں سرکاری اسکولوں کو ضم نہیں کیا جائے گا

سرکاری اسکولوں کو ضم کئے بغیر ہی کرناٹک پبلک اسکول چلانے کی تجویز محکمہ تعلیمات کے زیر غور ہے ۔ سرکاری نظام کے تحت ایک ہی پلاٹ فارم پر پہلی سے بارھویں جماعت تک کی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے کرناٹک پبلک اسکولوں کا انعقاد 2018-19 سے ہی شروع ہوگیا تھا ۔

کمارسوامی نے وزیراعلیٰ کا عہدہ دیش پانڈے کو سونپنے کی رکھی تھی شرط ، کانگریس لیڈران رہ گئے دنگ؛ کماراسوامی کی قیادت پر ہی ظاہر کیا گیا اعتماد

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی رسواکن شکست کے بعد کل وزیراعلیٰ کمار سوامی کی قیادت میں طلب کی گئی غیر رسمی کابینہ میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ کمار سوامی کی طرف سے استعفے کی پیش کش کے متعلق چند نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔