مڈکیری میں سیلاب سے متاثرہ علاقہ کے دورہ کے وقت ہی زمین کھسک گئی؛ ایم پی اور ایس پی بال بال بچ گئے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 20th August 2018, 1:12 AM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

مڈکیری 19/اگست (ایس او نیوز)  ضلع کورگ کے مڈکیری عرف مرکیرہ کے رکن اسمبلی اپاجو رنجن کے  بارش سے متاثرہ علاقوں کا  دورہ کرنے کے موقع پر اچانک زمین کھسکنے کی واردات پیش آئی ہے، بتایا گیاہے کہ ان کے ہمراہ ضلع کورگ کی ایس پی ڈاکٹڑ سومنا پنّیکر بھی موجود تھی۔

کنڑا نیوز چینل میں دکھائی جانے والی خبروں  کے مطابق  بی جے پی ایم ایل اے اپاجو رنجن اور ایس پی ڈاکٹر سومنا پنیّکر سمیت دس کاروں پر مشتمل ایک وفد  موکوڈلے نامی  دیہات   پہنچ کر راحت رسانی کے کام کا  جائزہ لے رہے تھے کہ اُن کے  چند گز کے فاصلے پر ہی اچانک زمین کھسک گئی۔ بتایا گیاہے کہ ریسکیو ٹیم  کی جانب سے   متعلقہ علاقہ میں جانے سے منع کرنے کے بائوجود   یہ لوگ متاثرہ مقام پر راحت کا کام دیکھنے پہنچے تھے۔ جس کے دوران یہ حادثہ پیش آیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی   فائر بریگیڈ کے انسپکٹر جنرل آف پولس  ایم این ریڈی قریب بیس لوگوں پر مشتمل   عملہ کے ساتھ دوسروں کی راحت رسانی کا کام  چھوڑ کر ایم ایل اے اور ضلعی ایس پی کو بحفاظت واپس لانے  خود جائے وقوع کی طرف دوڑ پڑے اور جے سی بی کی مدد سے راستوں پر پڑی مٹی کے ڈھیر کو ہٹاکر  انہیں بحفاظت واپس لانے  میں کامیاب ہوگئے۔ 

بعد میں جب نیوز چینل والوں نے آئی جی پی ایم این ریڈی سے فون پر رابطہ کیا اور واقعے کے تعلق سے دریافت کیا  تو انہوں نے  ایم ایل اے اور ایس پی کے متاثرہ علاقوں میں جاکر پھنسنے کی بات کو ہی غلط  اور افوہ بتایا، ان کے مطابق متعلقہ ایم ایل اے اور دیگر لوگوں کے متاثرہ علاقہ میں پہنچنے کے بعد  زمین کھسک کر پھسنے کا کوئی واقعہ ہی پیش نہیں آیا ہے۔البتہ انہوں نے اس بات کی جانکاری دی کہ  موکوڈلے نامی دیہات میں جگہ جگہ زمین کھسکنے کے واقعات کے بعد قریب ساٹھ سے زائد لوگ پھنسے ہوئے ہیں، جن کو اُدھر سے نکال کر  محفوظ مقامات پر لے جانے کا کام جاری ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ رات  یہاں تیز اور مسلسل بارش کے دوران ندی میں پانی کا بہائو تیز ہوگیا تھا اور پہاڑی علاقہ میں جگہ جگہ  زمین کھسکنے کے واقعات رونما ہوئے تھے جس سے  راستہ بند ہوگیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ میں علمائے شوافع کی جانب سے فقہی سمینار کا انعقاد ؛ علماء فقہائے شوافع نے حقیقتاً حدیث اور فقہ میں بہت نمایاں کام کیاہے: خالد سیف اللہ رحمانی 

بروز سنیچر 19؍ جنوری مجمع الامام الشافعی العالمی کی جانب سے دو روزہ پہلے فقہی سمینار کا آغاز کیا گیا اس سمینار کا افتتاحی جلسہ صبح 10؍ بجے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ ممبئی میں منعقد کیا گیا

بھٹکل: ریاست کے مشہور سد گنگامٹھ کے شری کمار سوامی جی کی وفات پر رابطہ ملت اترکنڑا کا اظہار تعزیت

ریاست کے قدآور ، معروف سد گنگا مٹھ کے شری کمار سوامی جی کے دارِ فانی سے کوچ کر جانے پر رابطہ ملت اترکنڑا ضلع کے عہدیداران نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوامی جی ملک کی ایک قوت کی مانند تھے۔

گنگولی کے آراٹے ندی میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی نعش آج برآمد

یہاں آراٹے ندی میں غرق ہوکر کل رات ایک ماہی گیر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی نعش آج متعلقہ ندی سے برآمد کرلی گئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت آراٹے کڑین باگل کے رہنے والے  کرشنا موگویرا (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کنداپور میں ہوئی چوری کی واردات کے بعد پولس نے گھر میں نوکری کرنے والے میاں بیوی کوکیا گرفتار

کنداور دیہات کے سٹپاڑی کے ایک گھرمیں ہوئی  چوری کے معاملے میں کنداپور دیہی پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی گھر میں کام کرنےو الے میاں بیوی کو صرف دو دنوں میں ہی گرفتار کر کے معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی  ہے۔

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔