کشمیر :خون کی بہتی ندیاں اور ہم  از:راحت علی صدیقی قاسمی 

Source: S.O. News Service | By Safwan Motiya | Published on 23rd August 2016, 5:46 PM | آپ کی آواز |

وادی کشمیر کے حسین و خوبصورت چہرے پیلیٹ کے قہر نے بے نور کردیئے، آنکھیں خراب ہوگئیں، صورتیں مسخ شدہ ہیں، جسم زخموں سے چور چور ہے ،دل دہلانے والی تصاویر نگاہوں کو نمناک اور قلوب کو غمگین کررہی ہیں ۔45دن سے جاری وحشت و دہشت کا یہ کھیل رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ہر صبح آبدیدہ کرنے والا دھواں فضا میں رقص کرتا ہوا نظر آتا ہے جوں جوں سورج بلندی کا سفر طے کرتا ہے مظالم کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے۔ چاروں جانب آہ بکا چیخ و پکار کی آوازیں گشت کرتی ہیں اور ظلم جور کی کہانی کو تاریخ کا سیاہ ترین باب ثابت کرتی ہیں ۔80سے زیادہ افراد کا خون نا حق اس حقیقت کو عیاں کرنے کیلئے کافی ہے یہ تعداد تو فوجیوں کی ہوس کاشکار ہوگئی۔ باقی 45دن سے پابندیاں جھیل رہی کشمیری عوام ہر دن موت کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور تکالیف کو محسوس کررہی ہے۔ اشیاے خوردنی کی قلت بھوک سے بلکتے شیر خوار بچے جنکی ماؤں کے پیٹ میں کھانے کے نام پرکچھ نہیں پہونچ پارہا ہے کیا وہ اپنے بچوں کو دودھ پلا پائینگی ظلم سے جھوجھتے کشمیری نوجوان اپنی لاٹھیوں کے ٹوٹنے کا ماتم کرتے بوڑھے جنکی کمر جہاں غم و اندوہ میں جھک رہی ہے وہی فوجیوں کی زد میں آکر ٹوٹ بھی رہی ہے۔ تعلیمی نظام کا معطل ہونا جو کشمیر کے مستقبل کو بھی نقصان پہونچائیگا جو بچے اس وحشتناک ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں انکی ذہنی کیفیت کا اندازہ ہر ذی شعور فرد لگا سکتا ہے۔ جس علاقے میں چنددن کرفیونافذہوتاہے سالوں تک اسکے نقصانات کی بھرپائی نہیں ہوپاتی ۔عوام چیخ اٹھتی ہے، حشر بپا ہوجاتا ہے، تاجر روپڑتے ہیں، مزدور طبقہ بھوک سے بیچین ہوجاتاہے کسان فصلوں کے دیدار میں بیچین رہتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے ایمرجنسی کے نقوش و اثرات ملک پر عرصہ دراز تک محسوس کئے جاتے رہے ملک معاشی اعتبار سے کمزورہوا،سیاسی اور سماجی اعتبار سے برے اثر رونما ہوئے۔اسی طرح مظفرنگر فساد میں چند ایام کے کرفیو کے اثرات ابھی تک موجود ہیں، کوڑیوں کے دام بکنے والی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان چھو گئی تھیں۔ سہارنپور بھاگلپور ممبئی وغیرہ جوعلاقے اس عتاب کوجھیل چکے ہیں،وہ اس المناک صورت حال سے بخوبی واقف ہیں اور کشمیری اس صورت حال سے 70سالوں سے نبرد آزما ہیں انکا حوصلہ جواں مردی پامردی اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ یہ قوم کتنی حوصلہ مند ہے دنیا کی کوئی بھی قوم ٹوٹ جاتی بکھر جاتی مگر کشمیری آج بھی آہنی چٹان کی طرح جمے ہوئے ہیں اور مسلسل ان تکلیف دہ مراحل سے گذر رہے ہیں انکی پریشانی کا اختتام ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے اسمبلی میں تقریریں ہوچکیں۔سیاسی جماعتیں اور ہمارے وزیر آعظم ابھی تک اس گتھی کو سلجھا نہیں سکے اور نا کوئی ایسی تدبیر پیش کرسکے عملی میدان میں جسکا کوئی اثر دکھائی دے ایک عظیم ملک کیلئے یہ صورتحال باعث شرمندگی ہے صرف یہ کہدینا کہ پاکستانی کشمیریوں کو ورغلا رہے ہیں یہ مسلہ کا حل نہیں ہے یہ جملہ کشمیریوں میں اشتعال پیداکریگابلکہ ایسے پختہ اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں جن سے امن بحال ہو سکے کشمیریوں کے دلوں کو جیتا جائے انہیں اپنائیت کا احساس کرایا جائے جس طرح وزیراعظم انتخابی ریلیوں میں کشمیریوں سے خطاب کرتے تھے آج بھی اس سلسلے کی ابتدا کریں تاکہ صورت حال کو معمول پر لایا جسکے ورنہ پوری دنیا کشمیری صورتحال کودیکھ رہی ہے جو ایک عظیم جمہوری ملک کی انا کے لئے بڑا مسئلہ ہے اگر ہم اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں تو ذرا غور کریں۔ اگر ہم انسانیت سے محبت کرتے ہیں توتنہائی میں دو گھڑی سوچیں کشمیری بھی انسان ہیں ان کے سینہ میں بھی ہماری طرح دھڑکتا ہوا دل ہے جس مین جذبات و احساسات کا سمندر موجزن ہے۔ اس میں طغیانی بھی ہوتی اور سکون بھی ہم ان احساسات کی قدر کریں عزت کریں اور انکی ضروریات کو سمجھیں انکے مزاج و مزاق کو سمجھیں اسی اعتبار سے انکے ساتھ معاملہ کریں دنیا میں کس کا دل ایسا ہوگا جس کو کشت و خون کی ندیاں بہتی ہوئیں اچھی لگیں جسے معصموں کی کفن میں لپٹی ہوء لاش دیکھ کر خوشی ہوتی ہے جسے بھوک سے تڑپتے معصوم بچے اور حسرت بھرا اسکی ماں کا چہرا دیکھ کر سکون حاصل ہو میرے خیال سے دنیا کا کوء شخص ایسا نہیں ہوگا مگر سوال تو یہاں پیدا ہوتا ہے کہ کشمیری ظلم و ستم جھیل رہے ہیں اورہماری زبانوں پر تالے پڑے ہیں انسانیت کے رشتہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ملک کے ہر باعزت شہری کو حکومت سے سوال کرتاور کشمیریوں کی پریشانیون کے حل کے لئے سراپا احتجاج ہوجاتا افسوس ایسا کچھ بھی نہیں ہوا شاید ہمارے انسانیت کے دعوے صرف زبانی اور دکھاوٹی ہیں جہاں مفاد کی بات ہوتی وہاں ہم انسانیت کے پجاری بن جاتے ہیں ورنہ ہمارا رویہ انسانیت کے معیار پر کھرا اترنا تو دور کی بات ہے انسانیت کے قریب بھی نہیں پہونچتا فائدہ ہی شاید ہمارے لئے سب سے بڑامعیار ہے فائدہ کے پیچھے ہی ہم دوڑتے ہیں اسی کے لئے ہمارے سارے رشتے اور قرابتیں ہیں موجودہ صورت حال کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے اور یہ ایسی سچائی ہے جسکا انکار کرنے کی جسارت کسی انصاف پسند شخص کی نہیں ہوسکتی اور ہر عقلمند فرد اس حقیقت کا اعتراف کریگا ورنہ عام شہری نا صحیح ملی تنظیمیں جو ملک میں عوام کے جذبات واحساسات کی نمائندگی کرتی ہیں وہ تو اس فریضہ کو انجام دے سکتی تھیں جبکہ انکی حالت ایسی ہے جیسے سانپ سونگھ گیا ہو یا کہیں خلاف معمول کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیاہو۔فرانس میں دہشت گردانہ حملہ ہوتا ہے تو پورے ملک میں ہماری ملی تنظیمیں اسکی قباحت کو ظاہر کرنے کیلئے احتجاج کرتی ہیں بیشک یہ ایک اچھا قدم تھا ۔انسانیت کایہی تقاضہ تھا کہ ہمیں ان لوگوں کے غم میں شریک ہونا چاہئے اور انکے درد میں ہمارے آنسو بھی بہنے چاہئیں جو کہ بہے مگر اب جبکہ کشمیری پریشانی میں مبتلا ہیں کہاں ہیں ہماری ملی تنظیمیں، کیا ہے انکا رد عمل، کیا ہے انکی سوچ اس سانحہ کے بارے میں ؟۔کیا کشمیری انسان نہیں، کیا انکا درد دردنہیں، کیا انکی تکلیف کا ازالہ نہیں ہوناچاہئے۔؟اگر جواب ہاں ہے توپھر ملک کا ہر شہر مجرم ہے ۔ملی تنظیمیں کٹہرے میں کھڑی ہیں ،سیاسی رہنما سوالات کے گھیرے میں ہیں ۔آخر کیوں کشمیریوں کے مسائل کے حل وتدارک کے لئے اب تک کوئی تدبیر کیوں نہیں اور ہماری خاموشی آخر کیوں یہ تو وقت ہی بتائیگا کہ کشمیریوں کیلئے موسم بہار کب آئیگا مگر ہماری مطلب پرستی جگ ظاہر ہوگئی۔ 
(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)

ایک نظر اس پر بھی

امریکہ نے پھر سے کیوں بنایا افغانستان کو نشانہ؟ ........ آز: مھدی حسن عینی قاسمی

 کوئی بھی سرمایہ دار ملک  پہلے آپ  کو متشدد  بناتا ہے اور ہتھیار مفت دیتا ہے پھر ہتھیار فروخت کرتا ہے، پھر جب آپ  امن کی بحالی کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے اوپر بم گرا دیتا ہے. ٹھیک یہی کہانی ہے امریکہ اور افغانستان کی، پہلے امریکہ نے  افغانستان کو طالبان اور  القاعدہ ...

راستے بندہیں سب، کوچہ قاتل کے سوا؟ تحریر: محمدشارب ضیاء رحمانی 

یوپی میں مہاگٹھ بندھن نہیں بن سکا،البتہ کانگریس،ایس پی اتحادکے بعدیوں باورکرایاجارہاہے کہ مسلمانوں کاٹینشن ختم ہوگیا۔یہ پوچھنے کے لیے کوئی تیارنہیں ہے کہ گذشتہ الیکشن میں سماجوادی کی طرف سے کیے گئے ریزویشن سمیت چودہ وعدوں کاکیاہوا؟۔بے قصورنوجوانوں کی رہائی کاوعدہ ...

گجرات فسادات کے قاتل گاندھی جی کا قتل کرنے کے بعد نظریات کو بھی قتل کرنے کے درپہ،کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھولنے لگا ہے۔از:سید فاروق احمدسید علی،

جب سے نریندردامور مودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ملک کے حالات میں جیسے بھونچال سا آگیا ہے۔ انہونی ہونی ہوتی نظر آرہی ہے۔وزیراعظم خود کو تاریخ کی ایک قدر آور شخصیت بنانے کے لئے پے درپے نت نئے فیصلے کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس میں چاہے کسی کا بھلا ہو یا نقصان ہو ویسے نقصان ہی زیادہ ...

زرخرید میڈیا .... از: مولانا آفتاب اظہر صدیقی

 آج کی صورت حال یہ ہے کہ بازار میں کچھ ہورہا ہے اور میڈیا کچھ اور دکھا رہا ہے، مظلوم کو ظالم، مقتول کو قاتل، محروم کو خوش بخت اور فقیر کو سرمایہ دار بنا کر پیش کرنا میڈیا کے لیے چٹکی کا کھیل ہوگیا ہے.

مسلم پرسنل لاء کو سمجھئے اور اس پر عمل کیجئے از: محمد ذکی اختر رحمانی

مجھے نہ اس وقت پرسنل لا کی تاریخ بیان کر نی ہے اور نہ اس کے آئینی اور قانونی پس منظر کو آپ کے سامنے پیش کر نا ہے نہ اس سے بحث کرنی ہے کہ مسلم پر سنل لا میں تر میم و تنسیخ کا حق کسی آئین ساز جماعت یا پارلیمنٹ کو ہے یا نہیں ؟۔

اے دل ہے مشکل: جمہوریت شکنی کی زدمیں  تحریر:نایاب حسن

دنیاکی سب سے بڑ ی جمہوریت ہونے کے مدعی ہندوستان میں گزشتہ ڈھائی سالوں سے مسلسل جوواقعات وحادثات رونماہورہے ہیں،ان سے ساری دنیاوالوں کوپتاچل گیاہے کہ ہندوستانی جمہوریت کس درجے کی ہے اورہندوستانی عوام کا شعور،فہم وادراک کی قوت اور حقائق بینی ومعروضیت سے کتناناطہ ہے