حوثی ملیشیا کو دوسری حزب اللہ نہیں بننے دیں گے: شہزادہ خالد بن سلمان

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 18th August 2018, 11:26 AM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 18اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )امریکا میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک حوثی ملیشیا کو دوسری حزب اللہ نہیں بننے دے گا۔

خالد بن سلمان نے عربی اور انگریزی زبانوں میں کی گئی ٹوئیٹس میں باور کرایا کہ ایرانی نظام حوثیوں کو غیر قانونی طور پر ہتھیار اور میزائل مُہیّا کرنے کے علاوہ اُنہیں حزب اللہ ملیشیا کے تربیت کاروں کے ذریعے سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔ اس کا مقصد حوثیوں کو تجربہ پہنچا کر یمنی عوام کے خلاف جاری جنگ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔

سعودی سفیر کا مزید کہنا ہے کہ ''حزب اللہ کے عسکری عناصر کی یمن میں موجودگی سے ثابت ہوتا ہے کہ ایرانی نظام نے اپنے پیروکار حوثیوں کی تربیت کا مشن اس دہشت گرد تنظیم کو سونپ رکھا ہے۔ ساتھ ہی اس امر کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ایران نواز فرقہ وارانہ ملیشیائیں اور ٹولیاں مل کر خطّے میں واقع ممالک کے اندر انارکی اور تباہی پھیلانے پر کام کر رہی ہیں۔

شہزادہ خالد بن سلمان کے مطابق عرب اتحاد کی اسپیشل فورسز کے سابقہ آپریشن میں یمن میں حزب اللہ کے کردار اور حوثیوں کی براہ راست تربیت کے حوالے سے ثبوت سامنے آئے تھے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ برادر ملک یمن میں تنازع کو طول دینے کے لیے ایرانی نظام براہ راست کردار ادا کر رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

امریکہ میں بھارتی طلباء کی تعداد میں مسلسل پانچویں سال اضافہ

 بین الاقوامی تعلیمی ایکسچینج سے متعلق آج جاری اوپن ڈورس رپورٹ  2018  کے مطابق، گزشتہ سال میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد 5.4 فیصد بڑھکر 196،271 ہو گئی۔ یہ مسلسل پانچواں سال ہے کہ امریکہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد میں اضافہ ...

سویفٹ کا ایرانی بنکوں کو الگ کرنے کا اعلان

عالمی سطح پر رقوم کی ترسیلات کے سب سے بڑے نیٹ ورک "سویفٹ سسٹم" نے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی بنکوں کو مرحلہ وار سسٹم سے الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پہلی عالمی جنگ کی صدی تقریب میں ٹرمپ کی شرکت 

امریکی صدر ڈونالڈ جمعے کی علی الصبح دورۂ یورپ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اور درجنوں دیگر عالمی سربراہان ’آرمزٹائس‘ معاہدے کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کریں گے، جس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ کا خاتمہ ہوا۔