خشوگی کو سعودی سفارت خانے میں قتل کیا گیا: ترکی

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 7th October 2018, 9:12 PM | عالمی خبریں |

انقرہ7اکتوبر(آئی این ایس انڈیا؍ایس او نیوز)ترکی میں حکام نے معروف سعودی صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں جب وہ گذشتہ منگل کو استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے داخل ہوئے تھے لیکن پھر اس کے بعد سے نظر نہیں آئے۔جمال خشوگی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم نویس ہیں اور وہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بڑے ناقد رہے ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کو ترک حکام کی جانب سے دیے گئے بیان کے مطابق ان کو شبہ ہے کہ جمال خشوگی کو سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔البتہ انھوں نے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی ثبوت ساتھ میں پیش نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ جمال خشوگی کو کیسے قتل کیا گیا۔ادھرسعودی حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان تو نہیں آیا ہے لیکن سعودی سفارت خانے میں موجود ذرائع نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ترک حکام کے الزام کی تردید کی ہے۔اس سے قبل ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بلوم برگ نیوز سے بات کرتے ہوئے ترک الزامات کی تردید کی اور وہاں کے حکام کو دعوت دی کہ وہ سفارت خانے کا جائزہ لے لیں۔جمال خشوگی کا کالم چھاپنے والے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رواں ہفتے ان کی کالم کی جگہ ’دی مسنگ وائس‘ یعنی ’گمشدہ آواز‘ کی شہ سرخی کے ساتھ خالی چھوڑ دی ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں سعودی شاہی خاندان کے مشیر کی حیثیت سے کام کرنے والے صحافی خشوگی سعودی ولی عہد کی حالیہ اصلاحات اورسنہ 2030 ویژن کے تحت ملک کو جدید بنانے کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔خشوگی الوطن نامی اخبار کے سابق مدیربھی رہے، اس کے علاوہ وہ بی بی سی کے سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں بنائے جانے والے پروگراموں کے لیے کنٹری بیوٹر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔سعودی حکومت نے گذشتہ سال تنقید نگاروں اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تو جمال خشوگی امریکا منتقل ہو گئے تھے۔ وہ اس وقت سے وہیں مقیم ہیں اور خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں

ایک نظر اس پر بھی

امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید تعزیرات عائد

امریکہ نے منگل کے روز ایرانی کاروباری اداروں کے ایک نیٹ ورک پر تعزیرات عائد کی ہیں، جس کے لیے اس کا کہنا ہے کہ یہ فوجی طرز پر تربیت یافتہ ایرانی فورس کی مدد کرتے ہیں، جو نیٹ ورک مبینہ طور پر ایران کے طاقتور سپاہ پاسداران انقلاب میں بھرتی کرنے کے لیے کم عمر سپاہیوں کو تربیت فراہم ...

داعش کے ہاتھوں اغوا130 شامی خاندانوں کا انجام بدستور نامعلوم

چند ہفتے قبل شام میں شدت پسند تنظیم "داعش" کے جنگجوؤں نے دیر الزور میں آندھی اور طوفان سے فائدہ اٹھا کر "البحرہ" پناہ گزین کیمپ پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے جب کی داعش نے 130 خاندانوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔