سبری مالا مندر: کیرالہ میں تشدد، دیسی بم کے مقابلے میں نہ پلیٹ گن نہ فائرنگ،شرانگیزوں کے سامنے پولیس سجدہ ریز 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th January 2019, 12:10 AM | ملکی خبریں |

تروانت پور م 4 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) سبری مالامندر میں تمام عمر کی خواتین کے داخلے کے بعد میدان جنگ میں تبدیل ہوئے کیرالہ سے تشدد کے واقعات کی خبریں آرہی ہیں۔ جمعہ کو بھی کئی مقامات پر پرتشدد مظاہرین نے دیسی بم پھینکے اور پتھراؤ کیا۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کم از کم 1ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور پر تشدد مظاہروں کے سلسلے میں 801 معاملے درج کئے گئے ہیں۔واضح ہو کہ ملک کا ایک حصہ یہ بھی ہے جہاں شرانگیز زعفرانی ٹولہ کے حوصلے بلند ہیں اور پولیس ٹیم پر دیسی بم پھینک رہے ہیں ۔ جمعرات کو ہندو نواز تنظیموں نے صبح سے شام تک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت 717 لوگ احتیاطا حراست میں ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مالابار دیوسووم بورڈ کے رکن کے گھر میں جمعہ کی صبح دیسی بم پھینکے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اڈور میں موبائل کی ایک دکان پر بھی اسی طرح کے دھماکہ خیز اشیاء پھینکے گئے۔ پولیس نے بتایا کہ کنور میں دیسی بم سے حملے کی چار واقعات سامنے پیش آئے ہیں ۔ سیاسی طور پر غیر مستحکم ضلع میں سی پی ایم اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان مسلسل جدوجہد ہوتے رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں کم از کم 200 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ بہرحال واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بی جے پی کی حمایت سے حوصلہ پاکر نام نہاد ہندوتوگروپوں کے پلیٹ فارم سبری مالا کرما کمیٹی اور وشو ہندو پریشد نے ایپا کے مندر میں دو خواتین کے داخلہ کی مخالفت جمعرات کو ہڑتال کا اعلان کیا۔
 

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،