کانگریس بی جے پی کے ہتھکنڈوں سے خوف زدہ ہونے والی نہیں، متحد ہوکر جیت حاصل کرنے وینو گوپال کی تاکید

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th March 2018, 8:32 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،9؍مارچ(ایس او نیوز) اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج برائے کرناٹک کے سی وینو گوپال نے کہاکہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت کیلئے پارٹی کارکن اور قائدین پوری طرح مستعد ہیں۔ آج کے پی سی سی دفتر میں پارٹی عہدیداروں اور قائدین سے مخاطب ہوکر وینو گوپال نے کہاکہ کرناٹک اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے بی جے پی جو چاہے حربے آزمالے کانگریس ان حربوں کا جواب دینے کیلئے پوری طرح مستعد ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی طرف سے جو بھی حربہ آزمایا جائے کانگریس کے پاس اس کا جواب موجودہے۔ اسی لئے بی جے پی کے حربوں سے پارٹی کارکنوں کوخوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کے سی وینو گوپال نے پارٹی کارکنوں سے کہاکہ پارٹی کی جیت کے متعلق جہاں جدوجہد جاری ہے وہیں اس سلسلے میں کسی پارٹی کارکن یا قائدکو حد سے زیادہ اپنے آپ پر اعتماد رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ جیت کیلئے جان توڑ محنت بھی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی کے سبھی کارکنوں اور قائدین کو بیان بازی سے نہیں بلکہ میدان میں اتر کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قومی ، صوبائی اور مقامی قائدین تمام میدان میں اتر کر آنے والے انتخابات میں کام کریں گے۔اس سے پہلے پارٹی صدر راہول گاندھی نے ممبئی ، کرناٹک اور حیدرآباد کرناٹک میں جو دورے کئے وہاں پر عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور پارٹی کے حق میں زبردست ماحول نظر آیا۔ پارٹی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ اس ماحول کو برقرار رکھیں اور عوام کے اعتماد کو متزلزل ہونے نہ دیں۔ وینو گوپال نے کہاکہ ریاست کے ہر اسمبلی حلقہ کیلئے پارٹی کے عہدیداروں کو ذمہ داری دی جاچکی ہے۔ وہ عہدیدار مقامی پارٹی کارکنوں کو اعتماد میں لے کر جس طرح سے کام کررہے ہیں وینوگوپال نے اس کیلئے انہیں مبارکباد دی اور کہاکہ انتخابات تک اگر یہی جوش وخروش برقرار رہا تو پارٹی کامیابی سے دور نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ بعض مقامات پر پارٹی کارکنوں کی مبینہ لاپرواہی کی شکایات مل رہی ہیں،انہیں برداشت نہیں کیا جائے گا۔آنے والے دنوں میں ریاست کے ہر اسمبلی حلقے کی سطح پر پارٹی کارکنوں کی کارکردگی کا محاسبہ کیا جائے گا۔ شہر بنگلور میں کانگریس کے کمزور ہونے کی اطلاعات پر انہوں نے کہاکہ پارٹی کو مضبوط کرنے اور انتخابات میں شہر کے زیادہ سے زیادہ اسمبلی حلقوں سے کانگریس کارکنوں کی کامیابی یقینی بنانے کی ذمہ داری مقامی پارٹی قائدین پر ہے۔ رواں ماہ کے آخر یا اپریل میں انتخابات کا اعلان ہوسکتا ہے۔ اعلان کے ساتھ ہی پارٹی کے سبھی قائدین اور کارکنوں کو میدان جنگ میں اترنا پڑے گا۔ اس کیلئے سبھی ابھی سے مستعد رہیں۔ انہوں نے کہاکہ دو ماہ اگر جدوجہد کرکے انتخابات جیت گئے تو کامیابی کافی دنوں تک ہماری ہی رہے گی ہار گئے تو پانچ سال تک ہاتھ ملتے رہیں گے۔اسی لئے ابھی سے احتیاط برتی جائے۔آپسی اختلافات فراموش کرکے پارٹی کی جیت کیلئے کام کیا جائے۔اس موقع پر کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت بہت ضروری ہے۔ پارٹی اعلیٰ کمان نے ریاستی قیادت سے بہت ساری توقعات وابستہ رکھی ہیں، ان توقعات کو دھکا نہ لگنے دیاجائے ۔ پارٹی کے سبھی لیڈروں کو متحد ہوکر کام کرنا چاہئے ، پارٹی کے ضلعی و بلاک صدور کو ڈاکٹر پرمیشور نے ہدایت دی کہ مستعد ہوکر کام میں لگ جائیں ، بوتھ سطح پر پارٹی کارکنوں کو اعتماد میں لیں، ہر اسمبلی حلقہ میں پارٹی کے اراکین اسمبلی کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور وہاں کے عوام کی اراکین اسمبلی سے کیا توقعات وابستہ ہیں ان پر بھی نظر رکھیں۔ اس موقع پر اے آئی سی سی کے چار سکریٹریز ، کے پی سی سی کے کارگزار صدر ایس آر پاٹل، پارٹی کے ترجمان بی ایل شنکر ، وی آر سدرشن ، سینئر لیڈر ویرنا متی کتی وغیرہ موجود تھے۔میٹنگ کے بعد کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے اخباری نمائندوں کو بتایاکہ آج کی میٹنگ میں پارٹی کے سبھی عہدیداروں نے شرکت کی، اے آئی سی سی جنرل سکریٹری وینوگوپال نے تمام اسمبلی حلقوں کے عہدیداروں سے مخاطب ہوکر پارٹی کیلئے کام کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ شہر کے تمام 28 اسمبلی حلقوں کے پارٹی کارکنوں کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ حکومت کی طرف سے جو فلاحی اسکیمیں رائج کی گئی ہیں ان کے بارے میں عام جانکاری مہیا کرائی جائے ۔انہوں نے کہاکہ بنگلور بچاؤ ریلی کے نام پر بی جے پی عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کا ازالہ کس طرح کیا جائے اس پر بھی بات چیت کی گئی۔ کے پی سی سی صدر نے کہاکہ اپریل کے پہلے ہفتے سے 23 دنوں تک ریاست کے سبھی 224اسمبلی حلقوں میں پارٹی کے قائدین اور کارکن ہر گھر تک پہنچیں گے اور یہ باور کرائیں گے کہ کس لئے ریاست میں بی جے پی کو اقتدار پر آنے سے روکنا چاہئے، اس کیلئے حکمت عملی وضع کی جارہی ہے۔ نائیس کمپنی کے سر براہ اشوک کھینی کی پارٹی میں شمولیت کی وجہ سے بیدر کی پارٹی یونٹ میں بغاوت کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس حلقے کے پارٹی کارکنوں کی مانگ ہے کہ کھینی جس حلقے سے نمائندگی کرتے ہیں وہاں سے کسی پرانے کانگریسی کو ہی ٹکٹ دیا جائے اس پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی کے جو عہدیدار انتخابات میں ٹکٹ کے بھی دعویدار ہیں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ پارٹی کے عہدوں سے استعفیٰ دے کر اپنی انتخابی تیاریوں میں لگ جائیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں سدرامیا پھر غالب، ہنگامہ خیزی کے اندیشوں کے برعکس میٹنگ میں کسی نے بھی زبان نہیں کھولی

حسب اعلان 22دسمبر کو ریاستی کابینہ میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے آج سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر سدرامیا نے تمام کانگریسی اراکین کو خاموش کردیا۔

مندروں کو دئے جانے والے فنڈز کو فرقہ وارنہ رنگ دینے بی جے پی کی مذموم کوشش، اسمبلی میں اسپیکر نے فرقہ پرست جماعت کی ایک نہ چلنے دی

وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن اسمبلی سی ٹی روی کی طرف سے سوالات تک خود کو محدود رکھنے کی بجائے ایک معاملے پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو جب اسپیکر رمیش کمار نے روک دیا تو اس بات پر بی جے پی اراکین اور اسپیکر کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی۔

ریاست کرناٹک میں 800 نئے سرویرس کا تقرر

وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے آج ریاستی اسمبلی کو بتایاکہ ریاست بھر میں اراضی سروے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے محکمے کی طرف سے 800نئے سرویرس کا تقرر کیا گیا ہے۔

پسماندہ طبقات کے سروے کی رپورٹ تیاری کے مراحل میں: پٹ رنگا شٹی

ریاستی وزیر برائے پسماندہ طبقات پٹ رنگا شٹی نے کہا ہے کہ سابقہ سدرامیا حکومت کی طرف سے درج فہرست طبقات کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے جو سماجی ومعاشی سروے کروایا گیا تھا اس کے اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کرنے کا عمل جاری ہے۔