آصفہ عصمت دری معاملہ:جموں بار اسوسی ایشن کے رویہ میں تبدیلی متاثرہ کے کنبے کو معاوضہ اور سکیورٹی کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th April 2018, 11:39 PM | ملکی خبریں |

جموں ، 15 اپریل (ایس او نیوز؍ یو ا ین آئی) آصفہ عصمت دری و قتل کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر دو ماہ تک ایجی ٹیشن کرنے والے جموں ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن نے اپنے رویے میں غیرمعمولی تبدیلی لاتے ہوئے آصفہ کے کنبے کو معاوضہ دینے اورسکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بار اسوسی ایشن نے یہ مطالبہ ایک پریس ریلیز میں کیا ہے ۔ آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کے مطالبے ، اس کی شہ پر کٹھوعہ بار اسوسی ایشن کی جانب سے کرائم برانچ کو کیس کا چالان پیش کرنے سے روکنے اور جموں بار اسوسی ایشن صدر اڈوکیٹ بی ایس سلاتھیہ کی جانب سے متاثرہ (آصفہ) کنبے کے وکیل کو عدالت میں پیش ہونے سے روکنے کی دھمکی کے واقعات کی وجہ سے بار اسوسی ایشن شدید تنقید کی زد میں آگئی ہے ۔ جموں کے وکلاء کے احتجاج کا سپریم کورٹ نے بھی ازخود نوٹس لیا ہے ۔ چوطرفہ تنقید کو دیکھتے ہوئے اڈوکیٹ سلاتھیہ نے نہ صرف متاثرہ کنبے کو معاوضہ دینے اور سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ آصفہ کے حق میں ہفتہ کی شام کینڈل لائٹ تقریب منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔دریں اثنا اڈوکیٹ سلاتھیہ نے میڈیا کو بتایا کہ 11 اپریل کی ہڑتال روہنگیا پناہ گزینوں کی جموں بدری کے مطالبے کو لیکر کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو جموں کے لوگوں کو سننا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اگر لوگ ایجی ٹیشن کررہے ہیں تو حکومت کو لوگوں کو سننا ہوگا۔ان کے مطالبات پورے کرنے ہوں گے ۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو صورتحال خراب ہوسکتی ہے ۔ کشمیر میں 1987میں فاروق عبداللہ نے منصفانہ انتخابات نہیں ہونے دئے ۔ ہمارے پاس جو رپورٹ ہے اس کے مطابق مسلم یونائیٹڈفرنٹ(مف)کے قریب 16امیدوار تھے ۔وہ جیتنے والے تھے لیکن ان کو جیتنے نہیں دیا گیا۔ غیرمنصفانہ انتخابات کرکے کس کا جنم ہوا؟ دو لوگ جن میں ایک پاکستان چلا گیا ، ایک ابھی بھی سری نگر میں ہے جس کا نام یاسین ملک ہے ۔ استحصال کی وجہ سے ہی ایسے لوگ جنم لیتے ہیں۔ اڈوکیٹ سلاتھیہ نے نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ کے بار اسوسی ایشن صدر کے خلاف ایف آئی درج کرنے کے مطالبے پر کہا کہ وہ میرے خلاف ایف آئی آر درج کرسکتے ہیں۔ مجھے کوئی ڈر نہیں ہے ۔ کم از کم یہ سامنے آئے گا کہ میں نے کیا کہا تھا اور کس تناظر میں کہا تھا۔ مجھے بھی سچائی پیش کرنے کا موقع ملے گا۔ اڈوکیٹ سلاتھیہ نے 11 اپریل کو جموں میں بار ایسوسی ایشن کی جانب سے نکالی گئی ترنگا بردار روہنگیا مخالف ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموں کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں آج ترنگا ہے اور اگر انہیں مجبور کیا گیا تو یہ اپنے ہاتھوں میں اے کے47اٹھا لیں گے ۔ کانگریس پارٹی کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے پوچھے جانے پر اڈوکیٹ سلاتھیہ نے کہا’میری کانگریس کے ساتھ وابستگی رہی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں۔ میں 1987سے کانگریس کا رکن رہا ہوں۔ آزاد صاحب کو ہمیشہ اپنا بڑا بھائی مانا ہے ۔ لیکن بار اسوسی ایشن میں کسی سیاسی جماعت کی کوئی اہمیت نہیں۔

ایک نظر اس پر بھی