کاروار:ہندوستانی فوج ،بحریہ ، فضائیہ کے شتراک سے سنامی عملی نمائش کا اہتمام :کئی لوگوں کی جان بچائی

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 19th May 2017, 10:02 PM | ساحلی خبریں |

کاروار:19/مئی (ایس اؤنیوز)اگر آج سمندر میں اچانک سنامی کا حملہ ہوتاہے تو عوامی زندگی کی کیسے حفاظت کی جاتی ہے اور انہیں کس طرح بچایا جاتاہے اس کے متعلق ہندوستانی فوج کے تینوں شعبہ جات بحریہ، فضائیہ اور آرمی کے اشتراک سے مغربی ساحل کے سمندری علاقہ میں

 جمعہ کو ایک عملی نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔ ہندوستانی فوج ، بحریہ ، فضائیہ کےاشتراک اور ضلعی انتظامیہ ، بھارتیہ ریڈکراس اور این جی اؤز کے تعاون سے سنامی کے دوران عوامی تحفظ کو لے کر عملی نمائش کی گئی ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کرناٹکا میں سب سے پہلی مرتبہ یہ عملی نمائش کاروار کے کدمبا بحریہ اڈے پر سنامی عملی نمائش کے لیبل پرمظاہرہ کیا گیا ۔

سنامی عملی نمائش می ہندوستانی فضائیہ کے ڈونیئر ائیر کرافٹ کے ذریعے ں سنامی کی وجہ سے سمندر میں پھنسے ہوئے 19افراد کی زندگی کوبچایا گیا ۔ اس کے بعدہندوستانی بحریہ کے جوانوں نے جیمنی کرافٹ کا استعمال کرتے ہوئے 20لوگوں کو زندگی بخشی گئی ، سنامی کی وجہ سے ہلاک ہوئے نعشوں کو ساحل پر لاکر متعلقین کے حوالے کیا۔ فضائیہ کے چیتن ہیلی کاپٹر کے توسط سے سمندر میں غوطے لگا رہے ایک فرد کو اوپر اٹھاکر اس کو بحفاظت کنارے لایا گیا ۔ آئی این ایس تلانچل جہاز فی گھنٹہ 60کلومیٹر کی رفتار سے چلتے ہوئے مشکلات میں پھنسے لوگوں کی مدد کی۔ سنئیر ایڈمرل کے جے کمار، کرناٹکا بحریہ علاقہ کے فلاگ آفیسر ، ملک کے مختلف مقامات سے اور بنگلہ دیش، مینمار، مالدویپ اور سری لنکا سے تشریف لائے تحفظاتی نمائندے ، ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول ، سی ای اؤ چندرشیکھر نایک ، ایڈیشنل ڈی سی ، ایچ پرسنا نے سنامی عملی نمائش کا نظارہ کیا۔ عملی نمائش کے دوران رویندرناتھ ٹیگور بیچ پر فوری علاج مرکز، ڈاکٹروں کی ٹیم ، فسٹ ایڈ موبائیل سواری ،مرد اور خواتین متاثرہ وارڈ جیسے عارضی مراکز کا قیام کیا گیا تھا۔ ان مراکز میں 2ہزار متاثرین کو 7دنوں تک امداد پہنچانے کی سکت تھی۔ این سی سی کیمپ طلبا نے متاثرین کو ڈاکٹروں کے ذریعے فوری امداد پہنچاکر علاج کرایا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں گونڈا طبقے کی ذات سرٹی فکیٹ کا تنازعہ؛ کیا گونڈا اب پسماندہ ذات میں شامل نہیں ؟

جنگلوں اور پہاڑی علاقوں میں زمانۂ دراز سے بسنے والا ایک طبقہ جسے گونڈا کہا جاتا ہے  ضلع شمالی کینر ا کے بھٹکل اور اطراف میں بڑی تعداد میں آباد ہے، اب یہ طبقہ   ایک نئی سماجی مصیبت کا شکار ہوگیا ہے۔

کیا ذبیحہ کے لئے جانور فروخت کرنے پرمرکزی سرکار کی پابندی کارگر ہوگی؟!

ذبیحہ کے لئے جانوروں کی فراہمی جانوروں کی مارکیٹ اور میلوں سے ہوا کرتی ہے۔ مختلف شہروں میں کسان ایسی مارکیٹوں اور جانوروں کے میلے میں اپنے جانورفروخت کرتے ہیں اور یہاں سے قصائی خانوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔ 

کالیکٹ کیرالہ میں ویناڈ دارلفلاح کیمپس کی نئی بلڈنگ کا شاندار افتتاح؛ دینی وعصری علوم کا حصول بیحد ضروری :ڈاکٹر ازہری

جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کے شعبہ ریلیف اینڈ چاری ٹیبل فاؤنڈیشن آف انڈیا کے اشتراکی تعاون سے ویناڈ کال پٹہ دارالفلاح کیمپس کی نئی بلڈنگ برائے فلاح گرین ویلی اسکول ، زھرۃ القرآن ، قرآن اسٹڈی سینٹر کا آج یہاں شاندار افتتاح متحدہ عرب امارت کے ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے سلطان حمد سھیل ...

منگلورو:مرکزی حکومت کے 3سالہ کارنامے چرب زبانی سے تشہیر ہورہے ہیں:بی رماناتھ رائی

نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت صرف رنگین وعدوں ارادوں میں ہی لوگوں کو بے وقوف بناکر تین سالہ اپنے دورحکومت کی منہ میاں مٹھو بن رہی ہے جب کہ عملی طورپر میدان سب خالی ہونےکا دکشن کنڑا ضلع نگراں کار وزیر رماناتھ رائی نے خیال ظاہر کیا۔