کارواراکشرداسوہا منصوبہ جات ; ایپرون خریداری میں 20.49لاکھ سے زائد رپیوں کا گول مال :افسران کی کوتاہی کا نتیجہ

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 12th January 2017, 12:18 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل:11/جنوری (ایس او نیوز)اترکنڑا ضلع میں اکشر داسوہا منصوبہ جات کے لئے ایپرون (پکاتی کا تہبند)کی خریداری میں سرسری طور پر20،49،460روپیوں کا غلط استعمال ہونے کا پتہ لگاہے۔ متعلقہ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے رپورٹ سونپنے کے متعلق تعلیمات عامہ اور صحت عامہ کی اسٹانڈنگ کمیٹی میٹنگ میں فیصلہ لیاگیا۔

یہ سچ ہے کہ سرسی اور کاروار تعلیمی اضلاع میں ایپرون کی خریداری میں بے ضابطگی ہوئی ہے، معاملہ میں ضلع پنچایت افسران ، دونوں تعلیمی اضلاع کے تعلیمات عامہ محکمہ کے ڈپوٹی دائرکٹر ، اکشر داسوہا کے آفیسر اور بی ای اؤ کی لاپرواہی اور کوتاہی ظاہری طورپرثابت ہوئی ہے۔ معاملہ کی جانچ کے لئے تشکیل دی گئی ضلع پنچایت معاون سکریٹری (انتظامیہ)کمیٹی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ معاملے کو انجام دینے کے دوران خدمات انجام دینے والے افسران کی جوابدہی طئے کرنے کے لئےمحکمہ تعلیمات عامہ اورصحت عامہ کے سکریٹری  کو لکھا جاسکتاہے۔

ایپرون خریداری میں کیا ہوا تھا؟

اترکنڑا ضلع کے اکشر داسوہا منصوبہ جات 2014-2015میں ایپرون کی خریداری  اور سپلائی کی تعداد میں فرق ہے، اخبارات میں شائع ہوئی رپورٹس میں نرخوں  میں کوئی مطابقت نہیں ہے، ضلع پنچایت تعلیمات اور صحت عامہ اسٹانڈنگ کمیٹی نے 12جولائی 2016 کو منعقد ہوئی میٹنگ میں ایپرون خریدار ی میں ہوئے گھپلہ کے متعلق جانچ کرکے مفصل رپورٹ سونپنے کے لئے ضلع پنچایت معاون سکریٹری کو ذمہ داری دی تھی۔

متعلقہ معاملہ کی جانچ کے دوران پتہ چلا کہ اکشر داسوہا منصوبے کے رہنما خطوط کے مطابق ضلعی سطح کے آفیسر کی نگرانی میں کارروائی انجام دی جاتی رہی ہے، اسکولوں کے لئے ایپرون خریدنے کے  لئے اگرصحیح طورپر ان کی رہنمائی کی جاتی تو بےقاعدگیوں کے لئے کوئی موقع نہیں ملتا۔کاروار تعلیمی ضلع حدود کے 5تعلقہ جات کے کل 1108اسکولوں کےلئے 4ایجنسیوں کے ذریعے 19،74،642 کے ایپرون خریدے گئے ہیں، یہی ایپرون جب مارکیٹ ریٹ پر 1987ایپرون کی خریداری کریں گے تو صرف 6،25،905 روپئے خرچ ہونگے، یہاں 13،48،737روپئے زائد خرچ ہوئے ہیں۔ اسی طرح سرسی تعلیمی ضلع کے 6تعلقہ جات کے 783 اسکولوں کے لئے 63ایجنسیوں کے ذریعے 1237ایپرون 10،87،378روپئے میں خریدے گئے ہیں، جب کہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق 1237ایپرون کےلئے 3،89،655روپئے خرچ ہونگے، یہاں 6،97،723روپیوں کا گول مال ہواہے۔ کلی طورپر دونوں تعلیمی اضلاع میں اپیرون کی خریداری میں 20،49،460روپیوں کا غلط استعمال ہونے کی نشاندہی رپورٹ میں کی گئی ہے۔ ضلع پنچایت تعلیمات اور صحت عامہ کی اسٹانڈنگ کمیٹی نے رپورٹ کا معائنہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کاروار تعلیمی ضلع میں زیادہ گھپلہ ہونے کا پتہ چل رہاہے، اس کی جوابدہی طئے کرنے کے لئے تمام متعلقہ آفیسران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا کمیٹی نے فیصلہ لیا۔ لیکن آفیسران کے خلاف قانونی کارروائی کرنا کمیٹی کے حدود سے باہر ہے ، انہی وجوہات کی بنا پر کمیٹی نے فیصلہ لیا کہ ایپرون خریداری میں ہوئی بے قاعدگیوں کے متعلق اگلی کارروائی کے لئے حکومت کو رپورٹ سونپی جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میونسپالٹی عمارت پر توڑ پھوڑ کا معاملہ؛ سنگھ پریوار کے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف انکولہ میں احتجاج۔ بھٹکل چلو ریالی کا اعلان

بھٹکل میں بلدیہ عمارت پر حملے کے بعد توڑ پھوڑ اور سرکای عمارت کو نقصان پہنچانے کے الزام میں جہاں ایک طرف پولیس متعلقہ افراد کو گرفتار کررہی ہے، وہیں پر ضلع کے مختلف مقامات پر اسے ہندو مسلم تفرقہ کا رنگ دیتے ہوئے پولیس پر الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ بلاوجہ ہندوؤں کو ہراساں کررہی ...

مرڈیشور میں نوائط فاؤنڈیشن بنگلورو کے زیراہتمام یکم اکتوبر کو مفت طبی کیمپ کا انعقاد : عوام سے استفادہ کی اپیل

مرڈیشور نوائط فاؤنڈیشن بنگلورو کے زیرا ہتمام کمیونٹی کے مختلف مقامات پر قائم جماعتوں کے تعاون سے یکم اکتوبر کو نیشنل ہائی اسکول مرڈیشور میں صبح 10بجے سے شام 6 بجے تک فری میڈیکل کیمپ منعقد کئے جانے کی محفل کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلز میں جانکاری دی گئی ہے۔

بھٹکل میں شری درگا مورتی کی وداعی پر پابندی کی مذمت میں راشٹریہ ہندو اندولن کا میمورنڈم

مغربی بنگال میں شری درگا مورتی کی وداعی پر پابندی عائد کرنا مذہبی تفریق ہے، مرکزی حکومت فوری مداخلت کرنے کا مطالبہ لے کر راشٹریہ ہندو آندولن بھٹکل کمیٹی نے اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے میمورنڈم سونپا۔

بھٹکل میونسپالٹی عمارت پر پتھرائو کا معاملہ؛ دکانداروں کی جدوجہد میں شریک ہونے والوں کے خلاف درج معاملات کو رد کرنے کا مطالبہ

رام چندرنائک کی خود کشی کے بعدجو پتھراؤ ہواہے وہ ایک فطری کارروائی تھی ، اسی کے پیش نظر جدوجہد کرنےو الوں پر ڈکیتی کا کیس درج کرنا قابل مذمت ہونے کی دکانداروں نے بات کہی۔