اندرونی سیاسی صورتحال کی رپورٹس کے پس منظر میں پارٹیاں جیتنے والے امیدواروں کی تلاش میں لگ گئیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 28th March 2017, 10:44 AM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

کاروار 27؍مار چ (ایس اونیوز)آئندہ اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں، سیاسی پارٹیوں کی منصوبہ بندی کا عمل تیز ہوتا جارہا ہے۔ کہتے ہیں کہ سیاسی صورتحال سے متعلق اپنی اپنی خفیہ رپورٹ کو نظر میں رکھتے ہوئے اب کانگریس، جے ڈی ایس او ربی جے پی میں توجہ اس بات پر مرکوز کی جارہی ہے کہ انتخابات میں علاقہ وار سطح پر پارٹی کے لئے جیت حاصل کرنے والا امیدوار کون ہے۔

پارٹی کے اعلیٰ لیڈروں کی طرف سے جیتنے والے امیدواروں کی تلاش شروع ہوتے ہی اپنے آپ کو قابل امیدوار کے طور پر پیش کرنے والے کسی نہ کسی شخص کا نام سامنے آنے لگا ہے۔کاروار ، کمٹہ بھٹکل ، ہلیال، یلاپور، سرسی وغیرہ میں چھوٹے بڑے ہر سیاسی لیڈر کی سرگرمیاں تیز ہوتی جارہی ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسمبلی حلقے میں ہر پارٹی سے پانچ چھ افراد اپنے آپ کو ہی امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہوئے ایک طرف سیاسی کارکنان کو یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اور یہی بات پارٹی قیادت کے لئے سب سے بڑا سر درد بن گئی ہے۔

کہتے ہیں کہ ہر سیاسی پارٹی نے اپنے طور پر یہ خفیہ رپورٹ حاصل کرنی شروع کی ہے کہ کس علاقے میں کونسا امیدوار جیت سکتا ہے، کس پارٹی کے امیدوار کو کتنے ووٹ مل سکتے ہیں؟ کونسا امیدوار ان کی پارٹی کے امیدوار کے لئے چیلنج بن سکتا ہے؟اور اس رپورٹ کی بنیاد پر سیاسی پارٹیاں اعلیٰ کمان کی سطح پر یہ حکمتِ عملی اپنانے جارہی ہیں کہ اگر ان کے پارٹی کے لیڈروں میں جیتنے کی صلاحیت رکھنے والاکوئی فرد ہے تو اس کو ٹکٹ دیا جائے اور اگر کسی علاقے میں ایسی صلاحیت رکھنے والا کسی دوسری پارٹی میں موجود ہے تو کسی طرح اسے اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے ۔

خاص طور پر کانگریس اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں مقامی لیڈروں کے دباؤ میں آکر ٹکٹ دینے اوربعد میں شکست سے دوچار ہونے والی پالیسی کو درکنار کرنے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ریاست میں برسر اقتدارکانگریس کی سب سے اہم کوشش یہی ہے کہ آئندہ الیکشن میں کسی بھی قیمت پر بی جے پی کو اقتدارمیں آنے کا موقع نہ دیا جائے۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ کانگریس پارٹی میں سٹنگ ایم ایل اے کو بھی ٹکٹ اسی صورت میں دئے جائیں گے جبکہ اس کے بارے میں خفیہ رپورٹ جیتنے کا اشارہ کرتی ہو۔

دوسری طرف جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے اس کے سامنے بس ایک ہی ٹارگٹ ہے ، کہ ہر قیمت پر کانگریس سے اقتدار چھین لے۔لہٰذا یہاں بھی جیت کی طرف آگے بڑھنے کے لئے بغیر کسی مروت اور لحاظ کے ، صرف جیتنے والے گھوڑے کوہی میدان میں اتارنے پر زور دیا جارہا ہے۔اس طرح سیاسی مستقبل کے خواب دیکھنے والے ہر ایک امیدوار کو سیدھے انداز میں یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ خواہ مخواہ کے سپنے دیکھنے اور بعد میں مایوس ہونے سے باز آجائیں۔

جہاں تک جے ڈی ایس کا سوال ہے، ضلع شمالی کینرا میں اس کے لیڈران یوں تو بیانات دے رہے کہ یہاں جے ڈی ایس کا زور ہے اور اس کے امیدوار جیتنے والے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے ضلع میں صرف دو ایک مقاما ت پر جے ڈی ایس کے امیدواروں کو جیت مل سکتی ہے، بقیہ حلقوں میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ جے ڈی ایس کی جیت یقینی ہوجائے۔ اس کے باوجود انتخابی میدان میں اپنا وجود دکھانے کے لئے اس پارٹی کی طرف سے امیدوار کھڑے کرنے کی بات سننے میںآرہی ہے۔پارٹی کے اعلیٰ سطحی لیڈروں کو بھی اندازہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ صرف بھٹکل، سرسی اور کمٹہ میں ہی جے ڈی ایس کے امیدوار قابل ذکر مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں رہیں گے، اسی لئے ان تین حلقوں میں جے ڈی ایس اپنے مضبوط امیدوار کو میدان میں اتارنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

خبریں یہ بھی مل رہی ہیں کہ ابھی سے ہر سیاسی پارٹی کے پاس ٹکٹ طلب کرنے والوں کی آمد ورفت پارٹی قیادت کے سامنے بڑھ گئی ہے۔ اور پارٹیوں کی طرف سے کسی کو بھی فی الحال مایوس نہ کرتے ہوئے ایک منصوبے کے تحت یہی جواب دیا جارہا ہے کہ تم لوگ الیکشن کی تیاری میں لگ جاؤ، پارٹی کی طرف سے ٹکٹ دینے کے بارے میں جلد ہی مناسب اور ضروری فیصلہ کردیا جائے گا۔اس کامقصد یہ ہے کہ ابھی سے پارٹی میں بغاوت کی آوازیں نہ اٹھنے پائیں، اور ٹکٹ کا اعلان ہونے تک حلقہ وار سطح پر پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک بنا رہے۔لیکن ایک بات طے ہے کہ کانگریس ہو یا بی جے پی، دونوں کے لئے پارٹی کا ٹکٹ دینا اور پارٹی کے اندر ہم آہنگی بنائے رکھنا اس مرتبہ پہلے سے زیادہ کٹھن مسئلہ ثابت ہوگا۔اور ظاہر ہے کہ ہر بار کی طرح ٹکٹ کا فیصلہ بنگلورو اور دہلی کے درمیان سیاسی اثر ورسوخ اور لابی کے دباؤ سے اثرا نداز ہوگا تو پھر اس کے بعد پارٹی کی اندرونی سیاسی اتھل پتھل کا نیا دور شروع ہونا یقینی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میونسپل پارک کی تجدیدکاری میں بدعنوانی کا الزام۔ ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم

بھٹکل بلدیہ کے حدود میں بندر روڈ پر واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل پارک کی تجدید کاری میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  آسارکیری کے عوام  نے بلدیہ انجینئر کو پارک میں طلب کرکے ڈپٹی کمشنر کے نام میمورنڈم دیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہاں ہورہی بدعنوانی کی تحقیقات کروائی جائے۔

کاروار کے ہوم گارڈس دفتر اورکیگا شہری تحفظ مرکز میں یوم ِآزادی کی خصوصی تقریب

شہر میں ہوم گارڈس دفتر میں 72واں یوم ِ آزادی کا جشن پرچم کشائی کے ساتھ منایاگیا ۔ ضلعی آفیسر دیپک گوکرن  نے جھنڈا لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ آزادی کئی ایک مہان ہستیوں کی قربانی کے بعد ملی ہے۔ یہ ملک تکثریت میں وحدت پیش کرنے والا ایک انوکھا ملک ہے۔انہوں نے کہاکہ ...

کاروار : ضلع پنچایت اورمیڈیکل کالج میں یوم ِ آزادی کا جشن :ایمانداری سے اپنے فرائض کو انجام دینا  سچی دیش بھگتی  

اترکنڑا ضلع کے مرکزی مقام کاروار میں اترکنڑا ضلع پنچایت اور میڈیکل سائنس سنٹر میں  جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی کا جشن منایا ۔ جس کی مختصر تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔ ...

بھٹکل میں یوم آزادی کا جشن پورے جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا؛ تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر نے لہرایا جھنڈا

ہر سال کی طرح امسال بھی بھٹکل میں پورے جوش و خروش کے ساتھ  یوم آزادی کی تقریب منائی گئی اور تعلقہ انتظامیہ سمیت مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سمیت تعلیمی اداروں میں بھی  ترنگا جھنڈا لہرایا گیا۔

گنگولی سمندر میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے بھٹکل کے ماہی گیر کی آج برآمد ہوئی نعش

پڑوسی ضلع اُڈپی کے گنگولی سمندر میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے بھٹکل کے ایک ماہی گیر کی نعش آج کنداپور تعلقہ کے گوپاڑی نامی مقام سے برآمد ہوگئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت منجوناتھ موگیر (32) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...