اترکنڑا ضلع میں بندوق برداروں کی تعداد صرف ایک فی صد: لائسنس کی تجدید کو لے کر اکثر بے فکر

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 8th October 2017, 8:54 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

کاروار:8/ اکتوبر (ایس اؤنیوز)اترکنڑا ضلع جغرافیائی وسعت اور جنگلات سے گھراہواہے اس کی آبادی میں بھی خاصی اضافہ ہواہے لیکن ضلع میں صرف ایک فی صد لوگ ہی بندوق رکھتے ہیں،ضلع میں فصل کی حفاظت کے لئے 8163اور خود کی حفاظت کے لئے 930سمیت جملہ  9093لوگ ہی لائسنس والی بندوقیں رکھتے ہیں۔

اترکنڑا ضلع میں چند ہی کسان اپنی فصل کی نگرانی اور حفاظت کے لئے مجبوری میں لائسنس والی بندوق رکھتے ہیں بقیہ کسانوں کو لائسنس کے متعلق کچھ زیادہ جانکاری نہیں ہے۔ اور نئی بندوق لائسنس کے لئے درخواست دینے والوں کی تعداد نہیں کے برابر ہے ۔ فصل کی حفاظت کے لئے 79اور خود کی حفاظت کے لئے 8سمیت صرف 87لوگ ہی لائسنس کے انتظارمیں ہیں۔ امکان ہے کہ ضلع میں ایسے بہت سارے لوگ ہوں گے جو لائسنس کے بغیر بندوق رکھتے ہیں لیکن پتہ چلا ہے کہ ضلعی عوام کو بندوق کے متعلق زیادہ  معلومات نہیں ہے۔

ویسے اترکنڑا ضلع ریاست میں گن داروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پرہے ، ضلع کے جغرافیائی وسعت اور آبادی کی شرح کے مطابق بندوق دھاریوں کی تعداد اپنےحساب سے ہے، لیکن جو لوگ لائسنس رکھتےہیں قانون کے تحت اس کی تجدید کو لے کر کہا جاسکتاہے کہ اس سلسلے میں عوام زیادہ بیدار نہیں ہیں۔ اس کا سبب یہی ہےکہ ضلع کے 9093لائسنس والی بندوق رکھنے والوں میں 3910لوگوں نے  اپنے بندوق کے لائسنس کی تجدید نہیں کرائی ہے۔فصل کی نگرانی کے 3522بندوق بردار اور 388خود کی حفاظت کے لئے بندوق رکھنے والے لائسنس تجدید کے متعلق کچھ زیادہ فکر مند نظر نہیں آتے۔ جس میں یلا پور تعلقہ میں تحفظِ فصل کی 937اور خود حفاظتی کے 22سمیت کل 959اور سرسی تعلقہ میں تحفظ فصل 864اور خود حفاظتی کے 94جملہ 958لوگوں نے  اپنے لائسنس کی تجدید نہیں کی ہے۔ بقیہ تعلقہ جات میں بندوق لائسنس کی تجدید نہ  کرانے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تو نہیں ہے لیکن لائسنس والی بندوق خریدنے کے بعد لائسنس کی تجدید کی طرف دھیان نہیں دینےکا پتہ چلاہے۔

ضلع کے دیگر تعلقہ جات کے بالمقابل بھٹکل تعلقہ میں بندوق برداروں کی تعداد کم ہے، بھٹکل تعلقہ میں فصل کی حفاظت کے لئے صرف 467 لوگ بندوق رکھتے ہیں تو خود کی حفاظت کے لئے 153 سمیت صرف 620 لوگوں کے پاس ہی لائسنس کی بندوق  ہیں۔ بھٹکل کے بالمقابل سرسی اور یلاپور تعلقہ جات میں سب سے زیادہ لائسنس والے بندوق بردار ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کمٹہ :سرکاری ملازمین نے کتورچنما باغ میں دوبارہ جان ڈالی : گندگی کو دور کرتے ہوئے پاکیزہ گھر بنایا

شہر کے قومی شاہراہ سے متصل قریب 2ایکڑ زمین پر پھیلے کتور چنما باغ کی سرکاری ملازمین نے پاکی صفائی کرتے ہوئے باغ کو ایک نیا روپ دیاہے۔ مختلف محکمہ جات کے عملے نے پسینہ بہاتے ہوئے کانٹے ،جھاڑیاں اورڈھیر سارا کچر ا صاف کرکے سیر و تفریح کے لئے بہترین انداز میں موزوں بنایا ہے۔

کاروار: قانونی نظام کی بحالی اور تحفظ میں پولس کا اہم رول : یوم شہیداں کے موقع پر ضلعی جج کی ستائش

قانونی نظام کی بحالی اور تحفظ میں پولس کا بہت ہی اہم رول ہے ، ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنےو الے فوجیوں کی طرح اندرون ملک یہ حفاظت کرتے ہیں۔ ضلع مصنف وی ایس دھارواڑکر نے ان خیالات کااظہار کیا۔ پولس یومِ شہیداں کے موقع پر پولس پریڈ میدان میں پولس شہیدوں کے یادگار مقام پر گل پیشی ...

مرڈیشورکی یمونانائک کاقتل معاملہ اب ہائی کورٹ منتقل : مقتولہ کے والد نے دائر کیا مقدمہ

23اکتوبر 2010کو مرڈیشور کے ہیرے دومی میں ہوئے یمونا نائک قتل معاملہ ہائی کورٹ جاپہنچاہے۔ ملزم وینکٹیش ہری کنتر کو الزام سے بری کرتےہوئے ضلعی عدالت کے فیصلے کے خلاف مقتولہ کے والد ناگپا ماستپا نائک عدالتِ عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

منگلورو:ریاست کے ہرضلعی مقام پر سرکاری رہائشی کالج کا قیام اور طلبا میں لیاپ ٹیپ کی تقسیم

کالج سطح پر طلبا کو داخلہ جات میں ترغیب دینے کے لئے ریاست کے ہر ضلع میں ایک سرکاری رہائشی کالجس قیام کرنے اور اسی سال ریاست کے 10اضلاع میں یہ کالج تدریسی کام شروع کئے جانے کی جانکاری ریاستی کابینہ کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم بسوراج رائے ریڈی نے دی۔

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

یومِ اساتذہ اور ہمارا معاشرہ ؛ (غوروفکر کے چند پہلو) از :ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی ،صدر شعبہ اردو؛ گورنمنٹ ڈگری کالج ، سونور ضلع ہاویری

ہمارا معاشرہ سال کے جن ایام کو خصوصی اہمیت دیتاہے ، ان میں سےایک یومِ اساتذہ بھی ہے، جو 5ستمبر کو ہر سال پورے ملک میں منایاجاتاہے۔ اس موقع پر جلسے ، مذاکرے اور اس نوعیت کے مختلف رنگا رنگ پروگراموں کا انعقاد کرکے ایک قابل احترام اور مقدس پیشہ میں مصروف اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش ...

کیا کابینہ کی توسیع میں آر ایس ایس کا دخل تھا ؟

اتوار کے روزہونے والی کابینی رد وبدل میں محض وزیر اعظم نریند مودی کی ہی مرضی نہیں بلکہ اس میں آر ایس ایس کا بھی دخل برابر کا تھا۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اس توسیع میں وزیر اعظم کی مرضی اتنی نظر نہیں آئی جتنا سنگھ کا اثر دکھائی دیا۔ توسیع کے کسی بھی فیصلے سے ایسا محسوس نہیں ...

کرنل پروہت کو سپریم کورٹ سے ملی ضمانت کے پس منظر میں ریٹائرآئی جی پی مہاراشٹرا ایس ایم مشرف کے چبھتے ہوئے سوالات

مالیگائوں بم بلاسٹ معاملے میں کرنل پروہت کو ضمانت ملنے پر Who Killed Karkare ? کے رائٹر اورسابق انسپکٹر جنرل آف پولس ایس ایم مشرف نے کچھ چبھتے ہوئے سوالات کے ساتھ سنسنی خیز خلاصہ کیا ہے، جس کو ایک مرہٹی نیوز چینل نے پیش کیا ہے۔ اُس کا مکمل ترجمہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔