ریاستی ودھان سبھا انتخابات : ضلع اُتر کنڑا میں حتمی طور پر 46امیدوار میدان میں : 12پرچہ نامزدگی واپس

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 27th April 2018, 9:19 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار:27/اپریل (ایس او نیوز)ریاستی ودھان سبھا انتخابات کے لئے  مقابلہ آرائی کا میدان تیار ہوچکاہے۔ پرچہ نامزدگیوں کو مسترد اور واپس لینےکے بعد اترکنڑا ضلع کے 6حلقوں میں حتمی طورپر 46امیدوار اپنی قسمتی آزمائی کریں گے۔ 25اپریل کو پرچوں کی جانچ ہونے کے بعد 58امیدوار باقی تھے ۔ آج 27اپریل کو پرچہ نامزدگی واپس لینے کا آخری دن تھا۔ ضلع میں آخری دن مختلف حلقوں سے 12 امیدواروں نے اپنا پرچہ واپس لینے کے نتیجے میں 46امیدوار میدان میں باقی رہ گئے ہیں۔ اس بات کی اطلاع  ضلعی الیکشن کمیشن کی طر ف سے جاری پریس ریلیز میں  دی گئی ہے۔

ضلع کے تمام حلقوں سے کانگریس اور بی جے پی کے امیدوار میدان میں ہیں تو جےڈی ایس 5،سی پی آئی 1،این سی پی 1اور دیگر ریاستی غیر رجسٹرڈ پارٹیوں اور آزادامیدوار وں کے طورپر 27امیدوار انتخابات میں مقابلہ کریں گے۔ پورے ضلع کے حلقوں سےمیدان میں باقی 46امیدواروں میں سے 5خاتون امیدواراور 41مرد امیدوار ہیں۔ ضلع میں سب سے زیادہ امیدوار کمٹہ حلقہ میں ہیں، جہاں 12اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ بھٹکل ، سرسی اور کاروار میں سب سے کم یعنی 6امیدوار انتخابی اکھاڑے  میں ہیں۔بھٹکل میں جے ڈی ایس امیدوار سمیت کل چار امیدواروں نے اپنا پرچہ نامزدگی واپس لیا ہے تو یلاپور میں 3امیدواروں نے اپنی نامزدگی واپس لی  ہے۔ ضلعی حلقہ جات کے مطابق امیدواروں کی حتمی تعداد اور دیگر تفصیلات کچھ اس طرح ہیں۔

حلقہ        کل        کانگریس      بی جےپی     جے ڈی ایس   آزاد اور دیگر       نامزدگی واپس

ہلیال           9            1                1               1                    6                 1

کاروار           6           1                1               1                    3                 0

کمٹہ             12          1                1               1                    9                 2

بھٹکل            6           1                1               0                    4                 4

سرسی            6           1                1               1                    3                 2

یلاپور            7           1                1               1                    4                 3

ایک نظر اس پر بھی

یلاپور میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں اور تھرڈ پارٹی انشورنس پریمئم میں اضافہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے علاوہ موٹر گاڑیوں کے تھرڈ پارٹی انشورنس پریمئم میں اضافہ کے خلاف ٹرک ڈرائیور اور مالکان کی یونین کی جانب سے یلاپور ماگوڈ کراس پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے نیشنل ہائی وے 63پر ٹائر جلاکر لاریوں کی ہڑتال کی۔

منگلورو:24مقدمات میں مطلوب اور قاتلانہ حملے کے ملزمین گرفتار

الال پولیس نے ایک نوجوان کے قتل کی کوشش کرنے والے محمد مصطفےٰ عرف سونو (21سال) کو گرفتار کرلیا ہے اس کے علاوہ محمد حنیف (30سال)نامی بدنام زمانہ مجرم کوبھی گرفتار کیاگیا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 24مجرمانہ معاملات میں پولیس کو مطلوب تھا۔

بی جے پی کی شکست کے لیے ہم کسی بھی پارٹی سے اتحاد کے لیے تیارہیں : مایاوتی 

بی جے پی کو شکست دینے کے لئے بی ایس پی کسی بھی پارٹی سے اتحاد کو تیار ہے۔ اس فیصلے کا اعلان خود مایاوتی نے کیا۔ دہلی میں ان کے گھر پر ملک بھر سے آئے بی ایس پی کے کو آرڈنیٹر کی میٹنگ ہوئی۔ مایاوتی نے بی ایس پی لیڈروں کو میڈیا سے دور رہنے کی صلاح دی ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ...

الور موب لنچنگ واقعہ: اویسی نے کیا ٹویٹ، مودی حکومت کے چار سال ۔ لنچ راج

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے راجستھان کے الور میں پیش آئے موب لنچنگ کے تازہ واقعہ پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ اس واقعہ کو لے کر مرکز کی مودی حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔  

مودی کی مقبولیت کا ردعمل موب لنچنگ ہے : میگھوال 

راجستھان کے الور ضلع میں ایک بار پھر زر خرید ہجو م کے ذریعہ گائے اسمگلنگ کے شبہ میں اکبر نامی ایک مسلم تاجر کو پیٹ پیٹ کر شہید کر دیا گیا۔اس واقعہ پر مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں لیکن یہ صرف تنہا واقعہ نہیں ہے ہمیں اس کی تاریخ میں جائیں گے. ...

مرکزی حکومت ماب لنچنگ کے واقعات پرفوری قدم اٹھائے، راجستھان کے تازہ واقعہ نے پھرسے ملک کوشرمسارکیا:مولانااسرارالحق قاسمی

ایک طرف ملک کی عدالت عظمیٰ کی جانب سے ماب لنچنگ کے سلسلے میں قانون سازی کی ہدایت جاری کی جاتی ہے جس کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کہاجاتاہے کہ قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہے اوراس معاملے کوجتنا زیادہ پھیلایاجارہاہے اتنی حقیقت نہیں ہے،مگر دوسری جانب ایسے انسانیت سوز اور ...