اترکنڑاضلع کے دیہی سڑکوں کی فوری درستگی کےلئے 14.79کروڑ روپئے منظور:وزیر کرشنا بائرے گوڈا

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 26th July 2018, 1:37 AM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار :25/جولائی (ایس اؤ نیوز)   اترکنڑا ضلع کے سڑکوں کی فوری مرمت و درستگی  کے لئے 14.79کروڑروپئے منظور کئے گئے ہیں اس باتکی جانکاری ریاستی کابینہ کے دیہی ترقی اور پنچایت راج وزیر کرشنا بائرے گوڈا نے  دی۔

موصوف وزیر بدھ کو اترکنڑا ضلع  کے دورے پر تشریف لاتے ہوئے مختلف دیہات کا دورہ کرنے کے بعد اخبارنویسوں سے گفتگو کررہے تھے۔ ضلع میں دیہی ترقی اور پنچایت راج محکمہ کے مختلف ترقی جاتی کا موں کا معائنہ کرنے کے بعد   کاروار ضلع پنچایت میں جائزہ ترقی میٹنگ  میں شرکت کی۔ وزیر موصوف نے  میٹنگ میں پیش ہوئے مختلف مسائل اور اس کے حل کے متعلق لئے گئے فیصلوں کی جانکاری دیتے ہوئے کہاکہ اترکنڑا ضلع کے مختلف دیہاتوں کی سڑکیں کافی خستہ حالت میں ہیں، ان کی فوری درستگی  کے لئے 14.79کروڑروپئے کی امداد منظور کی گئی ہے، جس میں نصف رقم ضلع پنچایت کو اور بقیہ امداد رکن اسمبلی کی صدارت والی ٹاسک فورس کے کاموں کے لئے دی جائے گی۔ انہوں نے ضلع میں پینے کے پانی کی سہولیات کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے اب تک دی گئی امداد کے متعلق بتایا کہ اترکنڑا میں پینے کے پانی کے منصوبے کے لئے امسال 54کروڑ روپئے تقسیم کئے گئے ہیں۔ ان دونوں منصوبوں کے متعلق ایک عملی منصوبہ تیارکرکے ہفتہ کے اندر رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کے لئے افسران اور عوامی نمائندوں کو تاکید کئے جانے کی جانکاری دی۔ وزیر نے بتایا کہ اترکنڑا ضلع میں ای –جائیداد کے نفاذ کو لےکر کئی مسائل کا سامنا ہے۔ جس کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنےکی کوشش کی جائے گی اور محکمہ فاریسٹ سے بات چیت کے بعد اقدام اٹھایاجائے گا۔

ضلع کی جغرافیائی تقسیم کے متعلق کہاکہ یہ ایک خصوصی ضلع ہے  جو جغرافیائی سطح پر منقسم ہے ، اس کو دیکھتے ہوئے زائد امداد منظور کرنے کے لئے قدم اٹھانے کے علاوہ اترکنڑا ضلع  پنچایت کو بھی الگ الگ طریقوں سے زائد امداد منظور کرنے کے لئے ایماندارانہ کوشش کرنے کا انہوں نے تیقن دیا۔

یقینی روزگار منصوبے میں ترقی کی کمی دیکھتے ہوئے امسال مزید منصوبوں کو جاری کرنے کی بات کہی۔ انہوں نےکہاکہ رواں برس بہتر بارش ہوئی ہے لوگ مجموعی کاموں کی طرف زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں، جس کودیکھتے ہوئے انفرادی کاموں، باغبانی  وغیرہ کے متعلق کاموں کو شروع کرنے کی جانکاری وزیر نے دی۔ دیہی تعلیمی ترقی کو فروغ دینے کے سلسلے میں بتایاکہ ہر ایک گرام پنچایت میں 2اسکول کمپاؤنڈ کی تعمیر کو یقینی روزگار منصوبے کے تحت انجام دینے کے لئے ہدایات جاری کئے گئے ہیں۔

وزیر کرشنا بائرے گوڈا میٹنگ سے پہلے یقینی روزگار منصوبے والے انکولہ تعلقہ کی سنکسال ، بھاوی کیری ، آلگیری،کینی  اور ہٹی کیری دیہاتوں کے گرام پنچایتوں کا دورہ کرتے ہوئے کاموں کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، ارکان اسمبلی شیورام ہیبار، روپالی نائک، دینیکر شٹی ، سنیل نائک، ضلع ڈی سی ایس ایس نکول ، ضلع پنچایت نائب صدر سنتوش رینکے موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار : یکم نومبر کے کنڑا راجیوتسوا پروگرام میں سرکاری افسران اور عملہ کی حاضری لازمی : ضلع ڈی سی

یکم نومبر کو منائےجانے والے ریاستی تہوار ’’کنڑا راجیوتسوا‘‘  ضلعی سطح پر کاروار میں منعقد ہونے والے پروگرام میں کاروار کے تمام سرکاری عملہ لازمی طورپر شریک ہونے کی ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے ہدایات جاری کی ہیں۔

بھٹکل میں کل بدھ کو ہوگا تنطیم میڈیا ورکشاپ کا عظیم الشان اختتامی اجلاس؛ بنگلور اور حیدرآباد سے میڈیا ماہرین کریں گے خطاب

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے پانچ روزہ ورکشاپ کا اختتامی اجلاس کل بدھ 17/اکتوبر کو  منعقد ہوگا جس میں سنئیر جرنلسٹ اور کرناٹکا کے سابق  وزیراعلیٰ سدرامیا کے خصوصی میڈیا مشیر مسٹر دنیش امین مٹّو مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما ہوں گے۔

بھٹکل میں کل بدھ کو ہوگا تنطیم میڈیا ورکشاپ کا عظیم الشان اختتامی اجلاس؛ بنگلور اور حیدرآباد سے میڈیا ماہرین کریں گے خطاب

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے پانچ روزہ ورکشاپ کا اختتامی اجلاس کل بدھ 17/اکتوبر کو  منعقد ہوگا جس میں سنئیر جرنلسٹ اور کرناٹکا کے سابق  وزیراعلیٰ سدرامیا کے خصوصی میڈیا مشیر مسٹر دنیش امین مٹّو مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما ہوں گے۔

ریاستی وزارت سے مہیش کا استعفیٰ منظور

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان مفاہمت کی کوشش ناکام ہوجانے کے نتیجے میں ریاستی کابینہ سے استعفیٰ دینے والے بی ایس پی کے وزیر این مہیش کو استعفیٰ واپس لینے کے لئے منانے میں جے ڈی ایس قیادت کی کوشش ناکام ہوجانے کے بعد آج وزیراعلیٰ نے مہیش کا ...

ای اسٹامپ پیپر اب آن لائن دستیاب ہوگا

کسی طرح کے دستاویزات تیار کرنے کے لئے درکار ای اسٹامپ کاغذ کی دستیابی اب تک ایک بہت بڑا مسئلہ ہوا کرتی تھی، 100 روپے کے اسٹامپ پیپر کے لئے بھی بھاری رقم ادا کرکے اسے حاصل کرنا پڑتا تھا،