ہمت ہے تو کھلا مباحثہ کرو۔ کاروار رکن اسمبلی ستیش سائیل کا جے ڈی ایس لیڈر انند اسنوٹیکر کو چیلنج

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 11th March 2018, 5:47 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار11مارچ (ایس ا ونیوز) سابق ایم ایل اے اور جے ڈی ایس لیڈر انند اسنوٹیکر نے گزشتہ دنوں کاروار ایم ایل اے ستیش سائیل کے خلاف جوبیان دیاتھا اور کاروار ساحل پر بننے والے ہوٹل اور آڈیٹوریم میں ان کی بے نامی شرکت کا جو سنگین الزام لگایا تھا، اس کا جواب دیتے ہوئے رکن اسمبلی نے چیلنج کیا کہ اگر اسنوٹیکر میں ہمت ہے تو وہ کھلا مباحثہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔

اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ستیش سائیل نے کہا کہ الیکشن میں شکست کے بعد اسنوٹیکر اپنے حلقۂ اسمبلی سے دور بنگلورو میں جاکر بیٹھ گئے تھے۔ اب الیکشن کے دن قریب آنے پر وہ واپس یہاں آکر بے بنیاد الزامات لگارہے ہیں تاکہ اس سے سیاسی مفاد حاصل کیا جاسکے۔ سائیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے حلقہ اسمبلی میں جو 1600کروڑ روپیوں کی لاگت والے ترقیاتی کام انجام دئے ہیں، ان کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ وہ اسنوٹیکر کے سامنے کھلے مباحثے کے لئے تیار ہیں۔ 

ساحلی کنارے پرسی آر زیڈ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیے جارہے ہوٹل اور آڈیٹوریم کے تعلق سے اسنوٹیکر نے جو الزام لگایاتھا اسے مسترد کرتے ہوئے سائیل نے کہا کہ اس سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔اصل میں میرے ترقیاتی کاموں سے خوفزدہ ہوکر میرے سیاسی مخالفین اس قسم کے بے جا الزامات مجھ پر لگارہے ہیں۔لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں توعوام کے لئے اپنا کام کرتارہوں گا۔

ایک نظر اس پر بھی

مینگلور کے قریب بنٹوال میں نابالغہ کی عصمت دری کی کوشش : تین ملزم گرفتار

چہارم جماعت میں زیر تعلیم نابالغہ کی عصمت دری کی کوشش کئے جانے کا واقعہ بنٹوال تعلقہ پانے منگلورو کے قریب گوڈینبلی میں پیش آیاہے۔ اس سلسلے میں بنٹوال شہری تھانہ پولس نےمعاملے کو لےکر تین ملزموں کو گرفتار کیا ہے۔

ہانگل کے ہیرور میں ہوئے تشدد کے واقعات اور غریب مسلمانوں کی گرفتاریوں کے بعد اے پی سی آر ٹیم نے کیا ہانگل دورہ؛ ایس پی سے کی ملاقات

ضلع ہاویری کے ہانگل تعلقہ کے ہیرور میں گنیش تہوار کے دوران ہوئے تشدد کے واقعات کے بعد  کئی غریب مسلمانوں کی گرفتاریوں نیز کئی مسلمانوں کے  تشدد میں زخمی ہونے  کی اطلاعات کے بعد  اے پی سی آر (اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس) کی ایک ٹیم  ہانگل پہنچی اور متاثرہ علاقہ کا ...

کیا یلاپور کے رکن اسمبلی ہیبار کودی جائے گی وزارت ؟ کیا دیش پانڈے کو ملے گا لوک سبھا کاٹکٹ ؟ ضلع کی سیات میں ہورہی ہے زبردست ہلچل

یلاپور کے کانگریس رکن اسمبلی شیورام ہیبار وزارت کے لئے شروع کی گئی کسرت کے نتیجے میں ضلع کی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ دوسری مرتبہ رکن اسمبلی کے طورپر منتخب ہونے والے شیورام ہیبار ، وزارت کے لئے بضد معلوم ہوتےہیں۔ انہیں مطمئن کرنے کےلئے کانگریس کے سنئیر وزیر دیش پانڈے کو ...

جیٹ ایئرویز کے سیفٹی آڈٹ کا حکم، پائلٹ صاحب  ہوا کا دباو کم کرنے والا سوئچ آن کرنا ہی بھول گئے

جیٹ ائیرویز کے طیارہ میں پائلٹ ٹیم کی غلطی کی وجہ سے مسافروں کی طبیعت بگڑنے کے معاملہ میں شہری ہوابازی کی وزارت نے ڈی جی سی اے کو ایئر لائن کا سیفٹی آڈٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ شہری ہوابازی کے وزیر سریش پربھو نے اس معاملہ میں جانچ کی ہدایت بھی دی ہے۔

مذہبی تہوار کی آڑ میں ہزاروں یہودیوں کی قبلہ اول میں آمد ورفت جاری

شر پسندیہودی آباد کاروں کی جانب سے قبلہ اول کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ مذہبی تہوار ’عید کپور‘ کی مناسبت سے ہزاروں یہودی صبح وشام قبلہ اول میں داخل ہو کر اشتعال انگیز حرکات اورتلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کررہے ہیں۔

اسرائیلی ریاستی دہشت گردی، 24 گھنٹے میں 6 فلسطینی شہید

قابض صہیونی فوج نے فلسطین میں ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران چھ فلسطینیوں کو بے رحمی کے ساتھ شہید کر دیا۔ شہداء کا تعلق غزہ، غرب اردن اور بیت المقدس سے ہے۔اطلاعات کے مطابق دو فلسطینی کو غزہ کی پٹی میں جنگی طیاروں کے ذریعے بم باری کرکے شہید کیا ...

تین طلاق پر آرڈیننس لانامودی حکومت کی ہٹ دھرمی اورمسلم خواتین کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش:مولانا اسرارالحق قاسمی

معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے تین طلاق پرمودی حکومت کے آرڈیننس لانے کے اقدام کوقطعی نامناسب اور ضدو ہٹ دھرمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو موقر ایوان اور دستور کی کوئی پروانہیں ہے اور وہ آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر مسلم خواتین کو گمراہ ...

طلاق دینے پر صرف مسلم مردوں کو سزاء کیوں؟ ہندومردوں کو سزاء کیوں نہیں؟ کویتا کرشنن کا سوال

ملک کی اپوزیشن جماعتوں اور سرگرم خاتون کارکنوں نے کل جبکہ حکومت ہند ’’ بیک وقت تین طلاق ‘‘ کو ایک تعزیری جرم قراردینے ‘ آرڈیننس جاری کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے‘ حکومت سے پوچھا ہے کہ ایسے ہندومَردوں کیلئے مذکورہ نوعیت کی دفعات کیوں نہیں بنائی گئیں جو اپنی بیویوں کو ...