کاروار : فاریسٹ زمین کو اتی کرم کرنے میں تعلیمی ادارے سب سے آگے : ایم ای ایس کو 3کروڑ روپئے سے زائد جرمانہ عائد

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 19th June 2017, 9:29 PM | ساحلی خبریں |

کاروار:19/جون (ایس اؤنیوز) فاریسٹ زمین کو  اتی کرم کرنے میں ضلع کے تعلیمی ادارے سب سے آگے ہیں، ایک ایک تعلیمی ادارہ اپنے نام پر سیکڑوں ایکڑ زمین اتی کرم کیا ہواہے اور ضرورت سے زیادہ زمین سکرم کرنے کے لئے درخواست دینے کی بات کہی جارہی ہے۔اسی طرح سرسی کے ایم ای ایس تعلیمی ادارے کو 3کروڑروپیوں سے زائد جرمانہ عائد کئے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ 

فاریسٹ زمین اتی کرم کرکے زندگی گزارے کے لئے چھت کی تلاش میں گھر تعمیر کرکے اور زراعت اور باغبانی کےلئے جن لوگوں نے درخواستیں دی تھیں ان میں سے اکثر رد کئے گئےہیں۔ ضرورت سے زیادہ جنہوں نے زمینات اتی کرم کئے ہیں ان کو منظوری نہیں دی جارہی ہے۔ لیکن تعلیمی ادارے ، کوآپریٹیو ادارے سمیت دیگر اداروں کی طرف سے کل 150سے زائد ادارے سیکڑوں ایکڑ فاریسٹ زمین کو اتی کرم کرنے کے بعد سکرم کرنے کے لئے درخواستیں دی  ہیں۔ ان عرضیوں کی محکمہ سماجی فلاح وبہبودی میں جب جانچ پڑتال کی گئی تو پتہ چلا کہ کچھ تعلیمی اداروں نے  ضرورت سے زیادہ فاریسٹ زمین اتی کرم کی ہے۔ اسی بنیاد پر ایسی درخواستوں کو روکے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

تعلیمی ادارے ، طلبا ہاسٹل، کو آپریٹیو سنگھ ، یوتھ اسوسی ایشن، سسٹر سپرئیر سوسائٹی، مختلف اشیاء فروخت کاری سنگھ، سوہاردا سہکاری سنگھ، دودھ سنگھ ، گاہک سہکاری سنگھ، مندر ٹرسٹ، سماج مندر، مدرسہ ، رنگ مندر، کسان  سنگھ جیسے مختلف ناموں سے فاریسٹ زمین کو اتی کرم کیاگیاہے۔

ایک غریب و بے سہارا خاندان ایک دو گنٹہ فاریسٹ زمین اتی کرم کرکے اپنے لئے چھت کا سہارا ڈھونڈلیتاہے  تو   فاریسٹ محکمہ کے افسران کی افسرگری بہت جلد جاگ جاتی ہے اور اس لاچار کے گھر کو فوری طورپر منہدم کرکے بڑا کارنامہ انجام دینے کی بات کہی جاتی ہے لیکن جب  تعلیمی اور دیگر ادارے سیکڑوں ایکڑ   فاریسٹ زمین اتی کرم کرنے کے باوجود فاریسٹ محکمہ کے افسران انکھیں بند کرکے بیٹھنے سے  ضلع میں کئی ایک تعلیمی اداروں کی بنیاد ڈال کر فاریسٹ زمین اتی کرم کی اہم وجہ بتائی جارہی ہے۔

تعلیمی ادارہ   کے نام پر فاریسٹ زمین اتی کرم کرنے کے بعدمتعلقہ زمین کو تعلیمی مقاصد کے لئے استعمال کئے بغیر دیگر کاموں کے لئے استعمال کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی زمین پر اسکول اور کالج کی تعمیر کرنے کے بعد بقیہ بڑی زمین پر مکانات، رہائشی کامپلکس وغیرہ کی تعمیر کرتےہوئے کمائی کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہئے۔

سرسی کے ایم ای ایس تعلیمی ادارے کو 3کروڑرپیوں سے زائد جرمانہ عائد

ذرائع کی اگر مانیں تو فاریسٹ زمین اتی کرم کئے جانے والے ضلع کے تعلیمی اداروں میں سرسی تعلقہ کی ماڈرن ایجوکیشن سوسائٹی سب سے آگے ہے، قریب 200 سے زائد ایکڑ زمین اتی کرم کی گئی ہے جب کہ ادارے کے نام پر صرف 40ایکڑ زمین ہے۔ بقیہ زمین کے سکرم کے لئے درخواست دی گئی ہے۔ اسی طرح سیکڑوں ایکڑ فاریسٹ زمین اتی کرم کی ہوئی سرسی کے ایم ای ایس تعلیمی ادارے کو پہلی مرتبہ 23لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ جرمانہ اداکرنے سے تعلیمی ادارہ نے انکار کر تے ہوئے اتی کرم زمین اسکول اور کالجوں کے لئے استعمال کئے جانے کی بات کہی تھی  اور اتی کرم زمین کو سکرم کرنے کے لئےمانگ رکھی  تھی ۔ لیکن علاقائی کمیٹی نے ایم ای ایس کی درخواست کو رد کیاہے۔ اور فاریسٹ محکمہ نے ایم ای ایس کو اب تین کروڑ 43 لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا ہے۔ لیکن ادارے نے ابھی بھی ڈھٹائی پر قائم رہتے ہوئے اپنی زمین کو سکرم کرنے کا  مطالبہ کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

پی ایف آئی پر پابندی کے لئے 7ستمبر کو بی جے پی کی "منگلورو چلو" بائک ریالی

میسورو سے بی جے پی کے رکن پارلیمان پرتاپ سنہا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا ہے کہ پی ایف آئی اور کے ایف ڈی پر پابندی کا مطالبہ کرنے کے لئے 7ستمبر کو بی جے پی یووا مورچہ کے زیراہتمام "منگلورو چلو "کے عنوان سے زبردست بائک ریالی منعقد کی جائے گی۔