کاروار:بچہ شادی ایک سماجی بیماری ہے اس کی روک تھام ہم سب کی ذمہ داری :ڈی سی نکول

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 13th September 2017, 10:53 PM | ساحلی خبریں |

کاروار:13/ستمبر (ایس اؤنیوز)ہمارے سما ج اور معاشرے میں آج بھی بچہ شادی جیسی رذیل روایت کا جاری رہنا شرمنا ک ہے اس کی روک تھام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہونے کی اترکنڑا ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے بات کہی ۔

ضلع انتظامیہ ، ضلع پنچایت ، محکمہ خواتین واطفال کے اشتراک سے ضلع پنچایت ہال میں مختلف محکمہ جات کے تعاون سے بچہ شادی کے انسداد کے متعلق منعقدہ ضلع سطح کے ورکشاپ میں شرکت کرتے ہوئے وہ خطاب کررہے تھے۔ پروگرام میں ضلع پنچایت ایگزکیٹیو آفیسر ایل چندرشیکھرنایک نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے بات کرتے ہوئے کہاکہ بچہ شادی کو روکنے کااہم ذریعہ دیہی سطح پر دیہی عوام میں بیداری پیدا کی جائے ، گرام سبھاؤں کااہتمام کریں اور مختلف محکمہ جات کے تعاون سے انہیں سمجھانے کی کوشش کریں۔

بچہ شادی انسداد قانون پر سنئیر سول منصف ٹی گوندیا نے لکچر دیتے ہوئے کہاکہ آج بھی ہمارے دیہی معاشرے میں لڑکی کو ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے اور اس کی جلدی شادی کردی جاتی ہے۔ بچہ شاد ی سماجی برائی اور بیماری ہے، بچہ شادی قانونی طورپر جرم ہونے کے باوجود عوام کو اس کا شعور نہیں ہے ، عوام میں اس سلسلے میں قانونی بیداری پیدا کرنی چاہئے ، ورنہ ایسے قانون بے کار ہیں ، نابالغوں کی شادی کرنے سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ لڑکی ہوکہ لڑکا، ہرکسی کی بچہ شادی کو روکنا ضروری ہونے کی بات کہی۔

ڈی سی آئی بی کے پولس انسپکٹر شرن گوڈا نے بچہ شادی کو روکنے میں مختلف محکمہ جات کے آپسی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ بچہ شادی کو روکنا صرف پولس محکمہ کا ہی کام نہیں ہے۔ اس کی روک تھام کے لئے گرام پنچایت ، بلدیہ ، تعلقہ ، ضلع اور ریاستی سطح پر مختلف محکمہ جات متحرک ہیں، انہوں نے ورکشاپ میں شامل مندوبین سے کہاکہ بچہ شادی کی اطلاع دینے والوں کا نام مخفی رکھا جائےگا نڈر ہوکر کام کریں اور بچہ شادی کوروکیں۔ محکمہ خواتین واطفال کے ڈپوٹی ڈائرکٹر راجیند ربیکل نے صدارت کرتے ہوئے 2006بچہ شادی انسداد قانون کو ضلع بھر میں نافذ کرنا ہمار ااہم مقصد ہونے کی بات کہی۔ ورکشاپ میں مختلف محکمہ جات کے افسران ، عملہ ، این جی اؤز کے عہدیداران وغیرہ شریک تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

عوام صرف تعلیم یافتہ نہیں بلکہ باشعور بھی بنیں : بھٹکل میں منعقدہ سول سرویس پروگرام کی اختتامی تقریب میں راجیہ سبھا رکن ہری پرساد کااظہار خیال

موجودہ ذات پات کے نظام میں سرسوتی کی پوجا کرنےو الی 64فی صد خواتین ناخواندہ ہیں، جبکہ لکشمی کی پوجا کرنے والی 90فی صد خواتین جائیدادکے حق کے لئے کوشاں ہیں، عوام صرف تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ  اُنہیں باشعور بھی ہونا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار  راجیہ سبھا ممبر بی کے ہری پرساد نے ...

بھٹکل میں سول سروس ورکشاپ کا شاندار افتتاح؛ کئی اعلیٰ سرکاری آفسران کی شرکت؛ تیس سے زائد سیشنس

بھٹکل منکولی کے شری ناگ یکشھا ہال میں جے ڈی نائک ابھیمانی بلگا کے زیراہتمام  ’’سول سرویس خواہش مندوں کے لئے کوئی خواب نہیں ‘‘نامی ورکشاپ کا شاندار افتتاح عمل میں آیا  جس میں ملک کے مختلف حصوں سے کئی ایک اعلیٰ سرکاری آفسران نے شرکت کرتے ہوئے  سول سروس میں جانے کے خواہشمند ...

مودی جی کی خاموشی سے خوف کا ماحول پیدا ہورہاہے : بھٹکل میں بی کے ہری پرساد کا بیان

ملک کے وزیر اعظم کی  ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ فساد، ہنگامہ خیزی ، عدم تحفظ کی مذمت کرے ، ان کی خاموشی سے ہی ان کے حمایتی کرناٹکا کے ساحلی پٹی پر فساد برپا کررہے ہیں، جس سے خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہونے کا خیال ظاہر کرتے ہوئے بالواسطہ وزیرا عظم مودی پر راجیہ سبھا کے رکن بی کے ...

بھٹکل میونسپالٹی دکانوں کا معاملہ؛ خودسوزی کرنے والے رام چندرانائک کے گھر وزیر دیش پانڈے کا دورہ؛ ہرممکن تعائون کی یقین دھانی

میونسپالٹی دکانوں کو واپس اپنی تحویل میں لینے کی مخالفت کرتے ہوئے گذشتہ روز بھٹکل اسارکیری کے  رام چندرا نائک نے خودسوزی  کی تھی، آج ضلع اُترکنڑا کے انچارج وزیر آر وی دیش پانڈے نے اُن کے گھر کا دورہ کیا اور مہلوک رام چندرانائک کی والدہ اور بھائی سے ملاقات کرتے ہوئے خودسوزی ...

بھٹکل میں دانتوں کے امراض کا مفت ٹریٹمنٹ کیمپ؛ ینوپویا اسپتال سے ماہر ڈاکٹروں کی خدمات؛ کثیر تعداد میں مریضوں نے کیا استفادہ

 مینگلور ینوپویا اسپتال کی ماہر ڈینٹیسٹ اور بھٹکل کے معروف لیڈر عنایت اللہ شاہ بندری کی  بھتیجی ڈاکٹر نازیہ سیف اللہ شاہ بندری نے آج اتوار کو بھٹکل بندرروڈ پر دانتوں کے امراض کے علاج کے لئے ایک فری ڈینٹل ٹریٹمنٹ کیمپ کا انعقاد کیا جس میں کثیر تعداد میں بھٹکل کے مریضوں نے ...

منڈگوڈ جنگل میں پائی گئی نوجوان کی لاش؛ قتل کے بعد جنگل میں پھینکے جانے کا شبہ

 منڈگوڈ تعلقہ کے لکّولی دیہات میں واقع جنگل میں ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے تعلق سے بتایا جارہا ہے کہ کچھ نامعلوم شرپسندوں نے اس کا قتل کرکے  جنگل میں پھینکا ہوگا۔ لاش اتوار کی صبح متعلقہ جنگل میں دیکھی گئی، جس کے بعد فوری طور پر منڈگوڈ پولس کو خبر کی گئی۔