ملپے سے گم شدہ ماہی گیر کشتی معاملہ میں نیا موڑ: نیوی کے افسران نے مانا کہ جنگی جہاز سے ہواتھا کشتی کا تصادم

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th January 2019, 7:15 AM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

منگلورو23؍جنوری (ایس او نیوز) مہاراشٹرا میں سندھو درگ کے قریب سمندر میں ماہی گیری کے دوران مچھیروں سمیت لاپتہ ہونے والی کشتی ’سوورنا تریبھوجا‘ کے تعلق سے اب ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے اور تحقیقاتی افسران کو یقین ہوگیا ہے کہ اس ماہی گیر کشتی کی ٹکر بحریہ کے ایک جنگی جہاز’آئی این ایس کوچی‘ سے ہوئی اور ماہی گیر کشتی حادثے کا شکار ہوگئی ہے۔

اعلیٰ ذرائع سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق 22جنوری کو کاروار میں نیوی کے سینئر افسران اور ضلع اڈپی اور شمالی کینرا کے افسران کی مشترکہ نشست منعقد ہوئی ، جس میں نیوی کے افسران نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ16دسمبر کوکاروار سے گزرتے وقت بحریہ کے جہاز ’آئی این ایس کوچی‘ کی تہہ کو کسی ٹھوس چیز سے نقصان پہنچنے کا جو معاملہ سامنے آیا تھا، وہ گم شدہ ماہی گیر کشتی سے ٹکرانے کا ہی معاملہ ہے۔ اس تعلق سے مزید شواہد اورمعلومات دو ایک دن کے اندر ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ بحریہ کے جنگی جہاز ’کوچی‘ کی تہہ کو نقصان پہنچنے کی بات پتہ چلنے کے بعد نیوی کی طرف سے کوسٹ گارڈکو اس بات کی جانچ کرنے کے لئے کہا تھاکہ کہیں کسی ماہی گیر کشتی سے جہاز کے ٹکرانے اور نقصان پہنچنے کا معاملہ تو نہیں ہوا ہے۔اس ہدایت کے پس منظر میں مہاراشٹرا کی لوکیشن میں ماہی گیری کرنے والی کشتیوں کے بارے میں کوسٹ گارڈ نے16سے20دسمبر تک رتنا گیری بندرگاہ پر تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ تمام کشتیاں محفوظ ہیں اور کسی بھی کشتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔لیکن سوورنا تریبھوجا کی کشتی لاپتہ ہونے کا معاملہ اس کے بعد روشنی میں آیاتھا۔

سات ماہی گیروں سمیت لاپتہ ہونے والی کشتی کے تعلق سے مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جارہی تھیں۔ جس میں غالب امکانات یہی بتائے جارہے تھے کہ کشتی کو کسی نے اغواکرلیاہے یا پھر وہ ہندوستانی سمندری حدود سے باہر نکل کر کسی غیر ملکی سرحد میں داخل ہوگئی ہے۔ دہشت گردوں کے ذریعے اغوا کیے جانے کا شبہ بھی بڑے زور و شور سے جتایا جارہاتھا۔اس دوران گوا کے سمندر میں بیتول کے مقام پر کشتی سے ڈیزل رِسنے کی علامات ملنے کے بعد کوسٹ گارڈ کی ٹیم نے اس بارے میں بھی تحقیقات کیں۔لیکن اب تحقیقاتی افسران اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بحریہ کے جنگی جہاز سے ٹکرانے کے بعد کشتی تباہ ہوگئی ہے۔

مگر اس نئی تھیوری کو ماہی گیر ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کے مطابق ماہی گیر کشتی میں ایسی بڑ ی تیز روشنی ہوتی ہے ، جو یہ بتاتی ہے کہ کشتی سفر کررہی ہے یا  سمندر میں رکی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ الارم سسٹم بھی موجود ہوتا ہے، جس سے ایک کیلومیٹر کی دوری پر ہی پتہ چل جاتا ہے کہ ماہی گیر کشتی کہاں ہے اور کیا اس کے کسی جہاز یا دوسری ماہی گیر کشتی کی راہ میں آنے کا امکان ہے۔اس لئے جنگی جہاز کے ساتھ ٹکرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ان کا سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایسا حادثہ واقع ہوا بھی ہے تو اب تک کشتی یا ماہی گیروں کے باقیات کہیں پر بھی دستیاب کیوں نہیں ہوئے۔کشتی کے اندرتقریباً دس ہزار لیٹر ڈیزل موجود ہوتا ہے ، تصادم کی صورت میں وہ ڈیزل سمندرکی سطح پر بہتا ہواملنا چاہیے تھا۔جب ایسی کوئی ٹھوس علامت موجود نہیں ہے تو پھر جنگی جہاز سے ٹکراکر تباہ ہونے کی بات سمجھ سے باہر ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

21مارچ سے ایس ایس ایل سی امتحانات : اترکنڑا ضلع میں کل 9766طلبا و طالبات کی سالانہ امتحانات میں شرکت

طلبا کی تعلیمی  زندگی کا پہلا اہم مرحلہ   ایس ایس ایل سی کے سالانہ امتحانات 21مارچ 2019سے 04 اپریل 2019منعقد ہونگے ۔ جس کے لئے اترکنڑا ضلع محکمہ  تعلیمات عامہ پوری طرح تیار رہنے کی  ڈپوٹی ڈائرکٹر کے منجوناتھ نے اطلاع دیتے ہوئے جانکاری دی ہے کہ اترکنڑا تعلیمی ضلع کے 5تعلقہ جات میں ...

اُڈپی : آر ایس ایس مسلمانوں سے زیادہ دلت مخالف ہے: سابق بجرنگ دل لیڈر مہیندر کمار

 آر ایس ایس حقیقت میں  دلت، شودر، مظلوم ، پسماندہ طبقات ، ہندو  اور ملک مخالف ہےوہ  مسلم مخالف نہیں ہے ،کیونکہ  یہ سب صرف نوجوانوں کو غلط راستے پر لے جانےکے لئے انہیں استعمال کرتی ہے۔ اگر اس کو اب نہیں سمجھیں گے تو پھر ایک بار ملکی آزادی کے لئے جدوجہد کی ضرورت پڑے گی۔ سماجی مفکر ...

بھٹکل کے ایک اُردو اسکول کے کمپائونڈ میں خون کے دھبے اور کھڑکی کے ٹوٹے گلاس پائے جانے کے بعد زبردست ہاتھاپائی ہونے کا شبہ

یہاں مدینہ کالونی ، محی الدین اسٹریٹ  میں واقع  اُردو ہائیر پرائمری اسکول  کی دیوار اور صحن پرجابجا  خون کے دھبے سمیت ایک کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا پائے جانے  کے بعد شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہاں رات کو زبردست ہاتھاپائی یا ماردھاڑ کی واردات رونما ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد  اسکول کے ...

ضلع شمالی کینرا کا انتخاب۔ منووادی اور غیر منووادیوں کے درمیان مقابلہ ہے؛ سیکولراُمیدوار کو جیت دلانا اہم مقصد ہونا چاہئے؛ سابق وزیر آر این نائک کا بیان

درپیش پارلیمانی انتخابات اور خاص کرکے ضلع شمالی کینرا کی سیٹ کو کانگریس کی طرف سے جنتا دل ایس کو مختص کیے جانے کے بعد سابق وزیر اور کانگریسی لیڈر ایڈوکیٹ آر این نائک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بار ہونے والا انتخاب پارٹیوں کی جیت یا پارلیمان میں امیدواروں کی تعداد بڑھانے والا ...

مسلمان مجھے ووٹ دیں یا نہ دیں لیکن میرے لئے دعا ضرورکرتے ہیں: مرکزی وزیر سدانند گوڑا کا بیان

بنگلورو نارتھ حلقے کے موجودہ ایم پی اور مرکزی وزیر ڈی وی سدانند گوڑا نے یہاں اپنی انتخابی مہم شروع کردی ہے۔ حالانکہ  بی جے پی نے ابھی اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ لیکن ڈی وی سدانند گوڈا اپنے حلقے کے مختلف علاقوں کا دورہ کررہے ہیں اور آنے والے الیکشن میں بی جے ...

’’مودی ،نوٹوں کی طرح آئین بھی بدلنا چاہتے ہیں‘‘ کلبرگی میں راہل نے کھولی ’’میں بھی چوکیدار‘‘ مہم کی پول

  نریندر مودی نے جس طرح 500اور 1000 کے کرنسی نوٹوں کو منسوخ کیا اسی طرح اس ملک کے آئین کو بھی بدلنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ان کے اس مشن کو کانگریس کامیاب نہیں ہونے دے گی۔اس بات کا الزام  کانگریس قائد راہول گاندھی نے کیا۔ راہول نے   الزام لگایا کہ ریزروبینک آف انڈیا کی منظوری کے بغیر ہی ...

دیشپانڈے نے شمالی کینرا سیٹ جنتادل ایس کے پاس گروی رکھ دی۔ کانگریس کارکنان کا الزام

ضلع شمالی کینرا کی سیٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے کانگریس کے لئے ووٹ کرنے والوں کی اکثریت ہونے کے باوجود اس سیٹ کو جنتادل ایس کے لئے چھوڑ دینا اب شاید کانگریس پارٹی کے لئے بھاری پڑتا جارہا ہے، کیونکہ دن بہ دن پارٹی کے کارکنان میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے اور وہ ضلع انچارج وزیر آر وی ...