اُترکنڑا کی سرکاری پی یو کالجس میں 7ہزار سے زائد طلبا نے لیا داخلہ ؛ مگر لکچررس کی قلت اور بنیادی سہولیات نہ ہونے سے  طلبا پریشان

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 12th July 2018, 8:27 PM | ساحلی خبریں |

کاروار:12/ جولائی (ایس او نیوز) ضلع میں ایک طرف پرائیویٹ کالجوں میں طلبا کی داخلوں میں کمی نظر آرہی ہے، وہیں ضلع کی سرکاری پی یو کالجوں میں داخلے بڑھتے دیکھے گئے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو  اترکنڑاضلع کے  37سرکاری پی یوکالجوں میں امسال 7 ہزار سے زائد طلبا کے داخلے ہوئے ہیں لیکن سہولیات کی بات کریں تو ضلع کے 9کالجوں میں طلبا کو ضروریات سے فارغ ہونے کے لئے  ٹائلٹ نہیں ہیں تو 122لکچررس کی قلت تعلیم کو متاثر کرتی نظر آرہی ہے۔ شعبہ کامرس میں 35لکچررس کو منظوری ملی ہے مگر ابھی تک کسی کی تقرری نہیں ہوئی ہے۔ جہاں تک طلبا کے اندراج کی بات ہے پرائیویٹ کالجوں سے مقابلہ آرائی دیکھنے میں آرہی ہے۔

طلبا کے لئے ہائی اسکول اور ڈگری کے درمیان پی یوکالج کی پڑھائی ایک اہم مرحلہ ہوتی ہے۔ ریاست کے دیگر اضلاع سے موازنہ کریں تو اترکنڑا ضلع کی سرکاری پی یو کالجس  پرائیوٹ کالجس سے آگے بڑھتے  نظر آرہے ہیں۔ نتائج میں بھی ضلع کی بعض کالجس نے شاندار مظاہرہ   کیا ہے۔حکومت 10سے کم داخلے والی پی یوکالجس کو بند کرنےکی جو بات کررہی ہے اس تعلق سے ضلع اُترکنڑا میں کوئی کالج ایسی نہیں ہے جس کو بند کیا جائے۔

ضلع میں کل 96پی یو کالجس ہیں جن  میں 37 کالجس سرکاری   ہیں، جہاں 7ہزار سے زائد طلبا نے داخلہ لیا ہے جب کہ ابھی داخلے جاری ہیں، امید جتائی جارہی ہے کہ تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ فی الحال جو اطلاعات ملی ہیں اس کے مطابق ضلع کی 37کالجوں میں کل 13،636طلبا زیر تعلیم ہیں۔

زیادہ تر طلبا کا رحجان  شعبہ کامرس میں داخلہ لینےکا دیکھاجارہاہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اسی شعبہ میں لکچررس کی زیادہ قلت کا مسئلہ درپیش ہے۔ 34کالجوں کے شعبہ کامرس میں 35لکچررس کی قلت ہے۔ ہر سال متعلقہ شعبہ میں مہمان لکچررس کی خدمات سے تعلیم دی جاری ہے۔ضلع کے بقیہ سرکاری کالجوں میں خالی اسامیوں پر نظر دوڑائیں تو کنڑا 13۔فزکس 12۔ اکنامکس 11۔ میتھا میٹکس اور بیالوجی 9۔انگلش 7-کیمسٹری 6-پالیٹکل سائنس 6-ہسٹری 5-سوشیالوجی 4اور ہندی اردو کے 2لکچررس کے عہدے خالی ہیں۔

ضلع کے 9 کالجوں میں ٹائلٹ کی سہولیات نہیں ہونے سے طلبا کے لئے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص کر طالبات بڑی پریشان ہیں۔ ان کالجوں کی نسبت سے بات کریں تو حالیہ طورپر سرکار کی جانب سے دیہی مقامات پر شروع کئے گئے کالجس ہیں۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سرکار کو پیش کش روانہ  کی گئی ہے۔

ضلع میں3 کالجس ایسے ہیں جہاں  1ہزار سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں۔ یہاں خاص کرکلاس روم (کمروں ) کا بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں صبح میں شعبہ سائنس اوردوپہر میں شعبہ  کامرس کی تعلیم دی جارہی ہے۔ محکمہ نے حکومت کو نئے طورپر 89کمروں کی تعمیر کی منظوری کے لئے درخواست بھیجی ہے۔ ہرسال طلبا کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے نئے کمروں کی تعمیر لازمی قرار دینے  کے باوجودزمین دستیاب نہ  ہونے اور امداد نہ  ملنے کا بہانہ کیا جارہا ہے۔ طلبا اور سرپرستوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح  مسئلہ کو ٹالنے سے کمروں کی قسمت کے ساتھ  ساتھ کہیں طلبا کانصیب بھی  نہ سوجائے، اس طرف توجہ دی جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

محکمہ جنگلات کی جانب سے ہونے والی ہراسانیوں کے خلاف 23فروری کو سرسی میں ہوگا سی سی ایف دفتر کا محاصرہ

جنگلاتی زمین پر رہائش پزیر افراد کے لئے حقوق فراہم کرنے والے قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور بار بار جنگلاتی زمین پر مکانات یا باغاغبانی کرکے زندگی گزارنے والوں پر محکمہ جنگلات کے افسران کی ہراسانی کے خلاف 23فروری کو سرسی میں واقع چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (سی سی ایف) دفتر کا محاصرہ ...

منگلورو سٹی مال کے فوڈ شاپ میں معمولی آتشزدگی؛ فوری طور پر پایا گیا آگ پر قابو؛ معمولی نقصان

منگلورو سٹی مال کی ایک فوڈ شاپ میں آگ لگنے پر تھوڑی دیر کے لئے افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ مگرپانڈیشور علاقے سے فائر بریگیڈ کے افسران نے موقع پر پہنچ کر جلد ہی آگ پر قابو پالیا ۔

مینگلور اور اُڈپی میں پولس افسران کے تبادلے؛ نیشا جیمس اب اُڈپی کی نئی ایس پی اور سندیپ پاٹل مینگلور کے نئے پولس کمشنر

پارلیمانی انتخابات کو لے کر ریاستی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر اعلیٰ آفسران کے تبادلے جاری ہیں، اسی مناسبت سے اب اُڈپی اور مینگلور میں اعلیٰ آفسران کے تبادلے کئے گئے ہیں۔

ہوناور: ہیسکام کے افسران راستہ بھٹک گئے۔ پوری رات جنگل میں گزارنے پر ہوئے مجبور

گیر سوپّا ڈیم کے علاقے میں گھنے جنگل سے گزرنے والی 33کے وی بجلی لائن کا معائنہ کرنے کے لئے نکلی ہوئی ہیسکام افسران اور عملے پر مشتمل ایک ٹیم میں شامل دوافسران جنگل میں راستہ بھٹک گئے جس کی وجہ سے انہیں پوری رات جنگل ہی میں گزارنی پڑی ۔