کاروار:ضلع کی 662مندروں نے سالانہ آڈیٹ رپورٹ نہیں سونپی :نئی کمیٹیوں کو پرانی کمیٹیاں اقتدار منتقل کرنے تیار نہیں

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 16th June 2017, 10:34 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار:16/جون (ایس اؤنیوز)ریاستی حکومت کے مجرائی محکمہ کے زیر نگرانی والے ضلع کے 662مندروں میں سے کسی مندر انتظامیہ نے اصول وضوابط کے مطابق اپنی سالانہ آمدنی اور بجٹ محکمہ کو نہیں سونپاہے، انہی وجوہات کی بنا انتظامیہ کمیٹی کی تشکیل کے لئے قدم اٹھایا گیا ہے، مندر کمیٹی اور انتظامیہ کمیٹی کے درمیان رسہ کشی شروع ہوگئی ہے ، مندر کمیٹی تشکیل کو لے کر بنواسی اور کمٹہ کانچیکا مندر کی پرانی انتظامیہ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری میں ہیں۔

ضلع سے شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ کے فرنٹ پیچ پر شائع ہوئی رپورٹ کے مطابق کرناٹکا ہندو دھارمک ادارے قانون ترمیم 2011کی دفعہ 35،36،37اور 38کے تحت مجرائی محکمہ کو ہر مندر کو اپنی سالانہ آمدنی اور بجٹ پیش کرنا لازمی ہے۔ اپنی آڈیٹ رپورٹ کے ساتھ سالانہ آمدنی کا 10فی صد حصہ حکومت کو اداکرنا ہے ۔ لیکن ضلع کے 662مندروں میں سے کسی مندر نے بھی ابھی اصول کے مطابق رپورٹ نہیں سونپنے کی اطلاع محکمہ کے افسران سے دی ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر سرکار مندر وں کے لئے انتظامیہ کمیٹی تشکیل دے رہی ہے، ضلع میں بی گریڈ کے 3مندروں کے لئے اب تک کمیٹیوں کی تشکیل کی جاچکی ہے۔ بی گریڈ کے 4اور سی گریڈ کے 8منادر کی کمیٹیوں کو تشکیل دینے کاکام جاری ہے۔ مندروں کی سالانہ آمدنی کےتحت اے ، بی اور سی گریڈ کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے۔ ضلع میں سالانہ 25لاکھ روپیوں سے زیادہ آمدنی والے اے گریڈ کے 6مندر، 10لاکھ روپیوں سے زائداور25لاکھ روپیوں سے کم آمدنی والے بی گریڈکے 9مندر اور 10لاکھ روپیوں سے کم آمدنی والے سی گریڈکی 647 مندریں ہونے کی اطلاعا ت موصول ہوئی ہیں۔

سرکاری کی طرف سے مندر کی دیکھ بھال کے لئے تشکیل دی جانےو الی کمیٹیوں کے خلاف پرانی کمیٹیوں کے ممبران سخت ناراض ہیں، ضلع کچھ مندریں اپنا کام ٹھیک ٹھاک کرنے کے بعد بھی کمیٹی بنانے پر اعترا ض جتایا ہے۔ سرکاری قانون کے خلاف اتراکنڑا ضلع دھارمک مہا منڈل ہائی کورٹ میں رٹ داخل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تو سرکارنے ہائی کورٹ فیصلے کے خلاف سرپم کورٹ میں رٹ داخل کی ہے جہاں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی جاری کیاہے۔

معاملے کے سلسلے میں اترکنڑا ضلع ڈپٹی کمشنر اور ضلع دھارمک پریشد کے صدر ایس ایس نکول نے کہا ہے کہ ضلع کی ایک بھی مندر نے ابھی تک اپنی سالانہ رپورٹ نہیں سونپی ہے، بھگتوں کی طرف سے بھگوان کے لئے جو تحفے تحائف، عطیہ جات ادا کئے جاتے ہیں ان کا صحیح استعمال ہونا چاہئے، ان کا غلط استعمال نہ ہو۔ مندر انتظامیہ کی نگرانی کے خلاف جب شکایتیں موصول ہونے معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی انہی منادر کے لئے کمیٹیاں تشکیل دئیے جانے کی بات کہی۔

 

ایک نظر اس پر بھی

کارکلا: پولیس کو مطلوب 2بدنام زمانہ چورگرفتار

چوریوں کی متعدد وارداتوں میں شامل 2بدنام زمانہ چوروں کو کارکلا پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق اتفاق سے دونوں کا نام اظہرالدین عرف منچاکل اظہرالدین ہے۔ جس میں سے ایک کوٹے کے رہنے والے عبدالقادر کابیٹا ہے جس کی عمر ۲۵سال ہے جبکہ دوسرا اظہرالدین شیروا کے رہنے ...

ہوناور میں پریش میستا کے گھر پہنچے امیت شاہ نے دیا سی بی آئی سے تحقیقات کروانے کا بھروسہ؛ عوامی پروگرام میں شرکت کے بغیر ہی واپسی پر ضلع کے عوام کو ہوئی مایوسی

یہاں دسمبر کے مہینے میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کے پس منظر میں پریش میستا نامی نوجوان کی لاش مشکوک حالت میں تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔ بی جے پی اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی مسلسل کوشش کررہی ہے اس لیے پارٹی کے چھوٹے بڑے لیڈر وں کا وقفے وقفے سے پریش  میستا کے گھر جانا ایک معمول بن گیا ...

منگلورو کے کسبا بینگرے میں گروہی تصادم :پولس سمیت 10زخمی ،سواریوں کو نقصان؛ حالات پر قابو پانے لاٹھی چارج کے بعد پولس نے کی ہوائی فائرنگ

ملپے میں بی جے پی کی طرف سے منعقدہ قومی ماہی گیر سماویش ختم ہونے کے بعد بس کے ذریعے لوٹنے والوں اور مقامی لوگوں کے درمیان ’’گروہی تصادم ‘‘ہونے کا واقعہ منگل کی رات کسبا بینگرے میں پیش آیا، جس پر قابو پانے کے  لئے پولس کو پہلے لاٹھی چارج، پھر ہوا میں فائرنگ کرنی پڑی۔ اب حالات ...

اترکنڑا ضلع سطح کے سیرت مضمون نویسی مقابلے میں سوماآچاریہ اول

اترکنڑا ضلع سطح کا کنڑا مضمون نویسی مقابلہ بعنوان’’محمد ﷺ انسانیت کے مسیحا‘‘میں سرسی کے مراٹھی کوپا کی سُوما گنپتی آچاریہ نے اول مقام حاصل کئے جانےکی اطلاع مضمون نویسی مقابلے کے نگراں کار ایم آر مانوی نے پریس ریلیز کے ذریعے جانکاری دی ہے۔

بھٹکل: شرالی میں ہندو، مسلم یک جہتی پر عوامی اجلاس کا انعقاد : مقررین نے کہا ، جرائم پیشہ افراد نے مذہب کو اغواء کرلیا ہے

سنگین جرائم معاملات کا سامنا کرنےو الے جرائم پیشہ ، غنڈے ، اچکوں نے جب سے مذہب کو اغواء کیا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج مذہب ( دھر م) بدنا م ہورہاہے۔ کریمنلس دھرم کو ہائی جیک کئےہیں۔ اقتدار پانے اور کسی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے بھی دھرم کا استعمال ہورہاہے۔مذہب ایک مخصوص رنگ، ...

بنگلور کے ہندو شمشان میں دفن کی گئی مسلم کی نعش کو 21 دن بعد نکالا گیا؛ نمازجنازہ کے بعد کی گئی مسلم قبرستان میں دوبارہ تدفین

شمشان میں دفن کی گئی لاش کو 21 دن بعد باہر نکال کر اُس کوغسل دینے اور نماز جنازہ ادا کرکے  مسلم قبرستان میں دوبارہ دفن کرنے کی واردت  بنگلور میں پیش آئی ہے۔ اس تعلق سے سماجی کارکن صابو لال قریشی کی کوششوں کی ہر کوئی سراہنا کررہا ہے جنہوں نے سرکاری اجازت نامہ کے ساتھ شمشان سے لاش ...

کارکلا: پولیس کو مطلوب 2بدنام زمانہ چورگرفتار

چوریوں کی متعدد وارداتوں میں شامل 2بدنام زمانہ چوروں کو کارکلا پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق اتفاق سے دونوں کا نام اظہرالدین عرف منچاکل اظہرالدین ہے۔ جس میں سے ایک کوٹے کے رہنے والے عبدالقادر کابیٹا ہے جس کی عمر ۲۵سال ہے جبکہ دوسرا اظہرالدین شیروا کے رہنے ...

مینگلور کے قریب سولیا میں لڑکے نے اپنے ہی کالج کی لڑکی کو چھرا گھونپ دیا؛ خودکشی کی ناکام کوشش کے بعد گرفتار؛ محبت میں ناکامی کا شبہ

یہاں سے قریب 85 کلو میٹر دور سولیا  میں پیش آئے ایک اندوہناک واقعے میں کالج کی ایک طالبہ کی موت واقع ہوگئی، جبکہ اس کو چھرا گھونپنے والے طالب العلم کو خودکشی کی ناکام کوشش کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔  مہلوک طالبہ  کی  شناخت  اکشتھا کی حیثیت سے کی گئی ہے جو سولیا کے  نہرو میموریل ...

بی جے پی صدر امت شاہ کے پروگرام سے واپس لوٹنے کے دوران تین نوجوانوں پر حملہ؛ مینگلور میں پیش آیا واقعہ

  اُڈپی کے ملپے میں بی جے پی کی جانب سے منعقدہ  ماہی گیروں کے ایک جلسہ میں شریک ہوکر واپس لوٹنے کے دوران  مینگلور کے  تھوٹا بینگرے میں تین  نوجوانوں پر حملہ کئے جانے کی واردات پیش آئی ہے، جس میں تینوں کو شدید چوٹ لگی ہے اور اُنہیں مینگلور کے نجی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

اسلام میں عورت کے حقوق ...............آز: گل افشاں تحسین

صدیوں سے انسانی سماج اور معاشرہ میں عورت کے مقام ومرتبہ کو لیکر گفتگو ہوتی آئی ہے ان کے حقوق کے نام پر بحثیں ہوتی آئی ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں سے عورت کے حقوق کے نام پرمختلف تحریکیں اور تنظیمیں وجود میں آئی ہیں اور صنف نازک کے مقام ومرتبہ کی بحثوں نے سنجیدہ رخ اختیار کیا ...