کرناٹک اسمبلی انتخابات: کیا 2019 کے عام انتخابات پر اثر ڈالیں گے کرناٹک کے نتائج

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th May 2018, 11:51 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو،15؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج پرپورے ملک کی نظریں ہیں ۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔ کچھ وجوہات تو بہت واضح ہیں ۔ مثلاََ، راہل گاندھی کی سیاسی کارکردگی اور دوسری جانب نریندر مودی کے وجے رتھ کی۔

لوگوں کی نظر اس بات پر ہے کہ کیا کرناٹک کا انتخابات نریندر مودی اور امت شاہ کے انتخابی وجے رتھ کو روک پائے گا۔ جو ایک کے بعد ایک ریاستوں میں اپنی پارٹی کی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو رہےہیں۔ کیا کرناٹک انتخابات بی جے پی کے لئے جنوبی ہندوستان میں پیر جمانے کا راستہ بنے گااور دوسری جانب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کانگریس کو شکست ملی تو راہل گاندھی کا کیا ہوگا۔

واضح رہے کہ کرناٹک انتخابات کے بعد مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ لیکن یہ کہا جا رہا تھاکہ کرناٹک کافی کچھ طے کرئے گا کہ 2019 میں کیا تصویر ہونے والی ہے ۔ گورکھ پور اور پھولپور کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو زبردست ہارملنے کے بعد یہ پہلا بڑا انتخابات ہے جس میں سب سے زیادہ ریاستوں میں حکمراں پارٹی کے وقار کی بات ہے۔

کانگریس مسلسل شکست سے دوچار ہی لہذا. بی جےپی سے بڑا دباو اپنے اس حصہ کو بچانے کا ہے ۔ اگرچہ یہ انتخابات ہارتے ہیں رائٹ ونگ راہل گاندھی کو لے کر اور زیادہ جارحانہ ہو جائے گا اور اس سے 2019 تک فائدہ اٹھانےکی کوشش کرئے گا۔ حالانکہ بی جے پی ہارتی ہے تو کانگریس کو ملا کر پورا حزب مخالف یہ ثابت کرنے کی کوشش کرئے گا کہ اب مرکز میں حکمراں پارٹی کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے ۔

قابل ذکرہے کہ بی جے پی کی انتخابی مہم سب سے زیادہ جار حانہ رہی ہے ۔ شروعات میں طے ہوا تھا کہ نریندر مودی صرف سات ریلیاں کریں گے لیکن انہوں نے ایسا نہ کرتے ہوئے کل 21 ریلیاں کر ڈالیں ۔ دوسری جانب راہل گاندھی نے 20 ریلیاں کی ہیں۔ راہل گاندھی نے 40 روڈ شو بھی کئے ہیں جبکہ۔ بی جے پی صدر امت شاہ کچھ ماہ سے کرناٹک میں ہی رہ رہے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو میں گڈھوں کو بند کرنے میں بی بی ایم پی کی سست روی پر ہائی کورٹ برہم

شہر میں مسلسل بارش کی وجہ سے سڑکوں پر گڈھوں کی تعداد میں دن بدن اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے بی بی ایم پی کی طرف سے گڈھوں کو بند کرنے میں اپنائی جارہی سست روی پر برہمی کا اظہار کیا ہے

ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کے لئے نصیر احمد اور وینو گوپال کی نامزدگی 

ریاستی لیجسلیٹیو کونسل سے خالی ہونے والی تین سیٹوں کو پر کرنے کے لئے 4؍ اکتوبر کو ہونے والے انتخاب کے لئے دو کانگریس امیدواروں نصیر احمد اور ایم سی وینو گوپال نے آج ریٹرننگ افسر کے دفتر میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔

نیرو مودی، میہل چوکسی اور وجے مالیا کے بعد نتن سندیسارا بھی 5000 کروڑلوٹ کر فرار

نیرو مودی، میہل چوکسی اور وجے مالیا کے بعد ایک دیگر کاروباری نتن سندیسارا ہندوستانی بینکوں کو ہزاروں کروڑ روپے کا دھوکہ دے کر ملک سے فرار ہو گیا ہے۔ خبروں کے مطابق وہ فیملی کے ساتھ نائیجیریا میں ہے۔

سماج کلیان بورڈ کی صدر پدما شکلا کے ساتھ دو درجن لوگوں نے بی جے پی چھوڑا

مدھیہ پردیش میں اسمبلی کے الیکشن جیسے جیسے نزدیک آتے جا رہے ہیں ویسے ویسے سیاسی گہما گہی بڑھتی جا رہی ہے ۔ لیڈروں کے ذریعہ ایک پارٹی سے استعفیٰ دے کر دوسری پارٹی کی رکنیت لینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے ۔ اسی سلسلے میں پیر کو کابینہ وزیر کادرجہ حاصل اور ریاست کے سماجی بہبود ...

ملک کا آئین اورجمہوریت خطرے میں، امن اورسیکولرازم کی راہ پرچل کرہی ملک کرسکتا ہے ترقی: مولانا ارشد مدنی

ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں مرکزی دفترجمعیۃعلماء ہندکے مفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال ۱؂ بہادرشاہ ظفرمارگ نئی دہلی میں جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ،

دہلی بن گیا حادثوں کا شہر؛ سڑک حادثوں میں جنوری سے اب تک998 لوگوں نے گنوائیں جان

راجدھانی میں رفتار کا قہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ دہلی میں سڑک حادثوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دہلی کی سڑکیں کتنی جان لیوا ثابت ہورہی ہیں، یہ ان اعدادوشمار کو دیکھنے کے بعد صاف پتہ چلتا ہے۔

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بدستور جاری

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔پٹرول 17 پیسے اور ڈیزل 10 پیسے مہنگا ہوا ہے۔اضافے کے بعد راجدھانی دہلی میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 82.61 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔وہیں ڈیزل 73.97 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ راجدھانی دہلی میں کل پٹرول 82.44 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 73.87 روپے فی لیٹر ...

روپے کی قدر میں گراوٹ:سستاحج کرانے کادعویٰ بھی فرضی؟ حجاج کرام پر بوجھ میں اضافہ ،مزید پیسے وصولے جاسکتے ہیں

سرکارایک طرف دعویٰ کررہی ہے کہ اس نے اس بارسستاحج کرایاہے ۔لیکن اب روپیے کی گراوٹ کی وجہ سے پھرحاجیوں سے وصولی کی جائے گی ۔عالمی بازار میں ڈالر کے مقابلے ہندوستانی کرنسی کی قدر میں ہورہی گراوٹ کی وجہ سے اب حجاج کرام پر مزید بوجھ پڑنے والاہے۔