بلدی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی شاندار کارکردگی،بی جے پی سے 36مسلم نمائندوں کی کامیابی، کانگریس اور جے ڈی ایس کیلئے درس عبرت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th September 2018, 12:30 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،4؍ستمبر (ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) ریاست کے 22اضلاع میں105 بلدی اداروں کی 2632 نشستوں کے لئے منعقد ہوئے انتخابات میں ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی مسلم امیدواروں نے بہتر مظاہرہ کیا ہے اور تقریباً 580 کے قریب مسلم امیدوار تمام پارٹیوں بشمول بی جے پی سے کامیاب ہوئے ہیں۔

اگر نتائج کا اوسط دیکھا جائے تو تقریباً 23 فیصد حلقوں پر مسلم نمائندوں کی کامیابی ہوئی ہے۔ اگر اسی طرح کے رجحانات اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں بھی رہے تو مسلم نمائندوں کی تعداد 50 کے قریب ہوسکتی ہے۔ اس معاملے پر مسلم قیادت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شہری علاقوں کے بنسبت دیہی علاقوں میں مسلم نمائندوں کی کامیابی کا اوسط زیادہ نظر آرہا ہے۔ سٹی کارپوریشنوں میں مسلم نمائندوں کی تعداد جہاں گھٹتی نظر آرہی ہے وہی بلدی اداروں میں قابل قدر اضافہ دیکھا گیا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس مرتبہ تقریباً 36 مسلم نمائندے بی جے پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں۔ جبکہ جنتادل (ایس) سے صرف 75 مسلمانوں کو کامیابی ملی ہے۔ گذشتہ مرتبہ کی طرح کانگریس پارٹی سے سب سے زیادہ مسلمان کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود کانگریس قیادت مسلمانوں کو مسلسل نظر انداز کرتی آرہی ہے۔ اگر یہی حال برقرار رہا تو لوک سبھا انتخابات میں اسے نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ جس کا پیغام مسلمانوں نے بلدی اداروں میں بی جے پی کے 36 مسلم امیدواروں کو کامیاب کرنے کے ذریعہ دیا ہے۔ اور ان انتخابات کے ذریعہ مسلمانوں نے جنتادل(ایس) کو بھی اپنے لیڈروں کے مسلم مخالف بیانات پر سبق سکھایا ہے۔

قابل ذکر بات ہے کہ اسمبلی انتخابات کے بعد جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا نے مبینہ طور پر بیان دیا تھا کہ ان انتخابات میں مسلمانوں نے جے ڈی ایس کی حمایت نہیں کی اس لئے وہ مسلمانو ں کو اقتدار میں حصہ نہیں دیں گے۔ کچھ اس طرح کے ہی نظریات وزیر اعلیٰ ہچ ڈی کمار سوامی کے بھی نظر آئے۔ جنہوں نے حج کیمپ کی افتتاحی تقریب میں غیر حاضری کے ذریعہ مسلمانوں کی ناراضگی مول لی تھی۔ بی جے پی کے امیدواروں کو بڑی تعداد میں کامیاب کرنے کے ذریعہ ریاست کے مسلمانوں نے کے پی سی سی کے سابق صدر ڈاکٹر جی پرمیشور جو اب نائب وزیر اعلیٰ ہے کہ اس بیان کو بھی بے بنیاد ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلمان کانگریس کے سوا کسی کو ووٹ نہیں دے سکتے۔ اور ان روبرو کانگریس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ اس مرتبہ کے انتخابات میں آزاد مسلم امیدواروں کی بڑی تعداد بھی کامیاب ہوئی ہے جو مختلف بلدی اداروں میں فیصلہ کن موقف اختیار کرسکتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ بھی رہی کہ بلاری کے کڑتنی ٹاؤن پنچایت اور اڑپی سٹی منسپل کونسل سے ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوا ہے۔ بلگاوی ضلع کے کڈچی سٹی میونسپل کونسل کے 23 میں سے 16 وارڈوں میں مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن میں 3 بی جے پی 12کانگریس کے علاوہ 1آزاد امیدوار شامل ہے۔

اسی طرح بیدر ضلع کے ہلی کھیڑ بلدیہ کے 23 وارڈوں میں 10 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن میں سے کانگریس کے 8 اور جے ڈی ایس کے دو شامل ہیں۔ الال بلدیہ کے 31 میں سے 17 وارڈوں میں مسلم امیدواروں کو کامیابی ملی ہے جن میں سب سے زیادہ ایس ڈی پی آئی کے 6، کانگریس کے 5، جے ڈی ایس کے 3، بی جے پی سے 1 اور 2 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

اسی طرح ہاویری ضلع ساؤنور بلدیہ کے 27 میں سے 14وارڈوں پر مسلم امیدواروں کو کامیابی ملی ہے۔ جن میں سے 12کانگریس، ایک جے ڈی ایس اور ایک بی جے پی سے کامیاب ہوئے ہیں۔ رائچور ضلع سندھنور بلدیہ کے 31 میں سے 14 وارڈوں میں مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ جن میں سے 10کانگریس اور 4 جے ڈی ایس سے ہیں۔

چامراج نگر سٹی میونسپل کونسل کے 35 وارڈوں سے 5 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ ان تمام کا تعلق ایس ڈی پی آئی سے ہے۔ اسی طرح ویلفیر پارٹی نے بھی ایک وارڈ میں کامیابی کے ذریعہ کھاتہ کھولا ہے۔ کامیاب مسلم امیدواروں کی مکمل فہرست اگلے شماروں میں ملاحظہ فرمائیے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو میں گڈھوں کو بند کرنے میں بی بی ایم پی کی سست روی پر ہائی کورٹ برہم

شہر میں مسلسل بارش کی وجہ سے سڑکوں پر گڈھوں کی تعداد میں دن بدن اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ نے بی بی ایم پی کی طرف سے گڈھوں کو بند کرنے میں اپنائی جارہی سست روی پر برہمی کا اظہار کیا ہے

ریاستی لیجسلیٹیو کونسل کے لئے نصیر احمد اور وینو گوپال کی نامزدگی 

ریاستی لیجسلیٹیو کونسل سے خالی ہونے والی تین سیٹوں کو پر کرنے کے لئے 4؍ اکتوبر کو ہونے والے انتخاب کے لئے دو کانگریس امیدواروں نصیر احمد اور ایم سی وینو گوپال نے آج ریٹرننگ افسر کے دفتر میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔