کرناٹک اسمبلی کے لئے 7؍مسلم امیدوار منتخب، روشن بیگ، محمد رحیم خان، ضمیراحمد خان اور دیگر شامل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th May 2018, 11:37 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،15؍مئی(ایس او نیوز) کرناٹک  اسمبلی  انتخابات میں مختلف جماعتوں کے سات مسلم امیدوار بھی منتخب ہوئے ہیں۔ پچھلی اسمبلی  میں مسلم اراکین اسمبلی کی تعداد گیارہ تھی۔

حلقہ اسمبلی چامراج پیٹ سے کانگریس امیدوار ضمیر احمد خان نے بی جے پی امیدوار ایم لکشمی نارائن کو 33,137ووٹوں سے شکست دی۔ حلقہ اسمبلی گلبرگہ شمال سے کانگریس امیدوار محترمہ  کنیز فاطمہ کو کامیاب قرار دیا گیا جنہوں نے بی جے پی امیدوار چندرا کانت پاٹل کو 5,940ووٹوں کی اکثریٹ سے ہرادیا۔ محترمہ کنیز فاطمہ، سابق وزیر مرحوم  قمرالاسلام کی بیوہ ہیں۔

حلقہ اسمبلی منگلورو سے کانگریس امیدوار یوٹی قادر کامیاب ہوگئے، جنہوں نے اپنے قریبی بی جے پی حریف کو 19,739ووٹوں کی اکثریت سے شکست دے دی۔

حلقہ اسمبلی نرسمہاراجہ سے کانگریس امیدوار تنویر سیٹھ کامیاب رہے جنہوں نے بی جے پی امیدوار کو 18,127ووٹوں کی اکثریت سے ہرادیا۔

حلقہ اسمبلی شانتی نگر سے بھی کانگریس امیدواراین اے حارث کو کامیابی حاصل ہوئی جنہوں نے بی جے پی امیدوار کو 18,205ووٹوں کی اکثریت سے ہرادیا ۔

حلقہ اسمبلی شیواجی نگر سے کانگریس امیدوار روشن بیگ  حسب توقع اس بار بھی کامیاب رہے، انہوں نے بی جے پی اُمیدوار کٹا سبرامنیا نائیڈو کو 15040 ووٹوں سے ہرادیا۔ 

بیدر سے کانگریس امیدوار محمد رحیم خان کامیاب رہے جنہوں نے اپنے حریف بی جے  پی امیدوارسوریا کانت ناگ مرپلی کو 10,245ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی ۔

اس بار کے انتخابات میں کانگریس نے 17 مسلم اُمیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا جس میں سات کامیاب رہے اور دس کو شکست ہوئی۔ اس مرتبہ جےڈی ایس نے بھی 17 مسلم اُمیدواروں کو ٹکٹ دی تھی ، لیکن کوئی بھی اُمیدوار کامیاب نہیں ہوسکا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔