نجی ڈاکٹروں کی ہڑتال سے صورتحال ابتر،مزید تین اموات،ریاست بھر کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا تانتا ،نجی ڈاکٹر بلگاوی میں احتجاج میں مصروف

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th November 2017, 11:42 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،14؍نومبر(ایس اونیوز؍عبدالحلیم منصور) نجی اسپتالوں کو اپنی گرفت میں کرنے کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے قانون مرتب کرنے کی تجویز کی مخالفت میں نجی ڈاکٹروں کی ہڑتال کے نتیجہ میں آج بھی مریضوں کی پریشانیوں کا سلسلہ برقرار رہا۔ اور ریاست کے مختلف اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے سبب مزید تین لوگوں کی موت ہوگئی۔بلگاوی کے سورنا سودھا کے روبرو ہڑتال میں مصروف ڈاکٹروں کی طرف سے ریاست بھر کے نجی اسپتالوں میں مریضوں کی کوئی دیکھ بھال نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے نجی اسپتالوں کا رخ کرنے والے مریضوں کو مایوس لوٹنا پڑ رہاہے۔ کوپل ضلع کے پنچایت ڈیولپمنٹ افیسر این اپا کی علالت کے سبب موت ہوگئی۔نجی اسپتال میں ان کی کوئی دیکھ بھال نہیں کی گئی۔ہاسن میں سانس میں تکلیف کی شکایت کے سبب نجی اسپتال پہنچنے والا تین ماہ کا بچہ فوت ہوگیا۔ ٹپٹور میں کلینک بند ہونے کے سبب اس بچے کو اس کے والد ندیم ہاسن لے گئے وہاں بھی علاج نہ ہونے کے سبب اس بچے کی موت ہوگئی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے نجی اسپتالوں پر گرفت مضبوط کرنے اور لاپرواہی کیلئے ذمہ دار ڈاکٹروں کی باز پرس کیلئے لائے جارہے قانون کی مخالفت کرتے ہو ئے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں۔ ریاست کے بیشتر اضلاع میں مریضوں کو علاج نہ ملنے کے سبب پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ ڈاکٹروں کی قلت کے سبب بنگلور کی کمس ، اپولو ، ایم ایس رامیاوغیرہ اسپتالوں میں آؤٹ پیشنٹ شعبہ بند کردیا گیا ہے۔ کرناٹکا میڈیکل اسٹا بلشمنٹ قانون میں 2017کی ترمیم کی مخالفت میں کل بیس ہزار سے زائد ڈاکٹر بلگاوی کے سورنا سودھا کے روبرو جمع ہوکر احتجاج کیا۔ ریاستی حکومت کا یہ موقف ہے کہ اسپتالوں میں غریبوں کو بہتر علاج یقینی بنانے کیلئے یہ قانون لایا جارہاہے۔ جبکہ ان ڈاکٹروں کا الزام ہے کہ حکومت جان بچانے کیلئے جدوجہد کرنے والے ڈاکٹروں کی جدوجہد کی پرواہ کئے بغیر مریض کی موت کی صورت میں ان ڈاکٹروں کو قید میں ڈالنے یا جرمانہ لاگو کرنے کی کوشش کررہی ہے۔جسے قبول نہیں کیاجاسکتا۔ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کی حمایت سے یہ ڈاکٹر بلگاوی میں ہڑتال پر ہیں۔ عوام کاکہنا ہے کہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ان ڈاکٹروں کی طرف سے کی گئی ہڑتال کی وجہ سے عوام کو ہمہ قسم کی پر یشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ نجی اسپتالوں میں علاج دستیاب نہ ہونے کے سبب سرکاری اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں ، یہاں بھی ڈاکٹروں کو اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کا علاج کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ یہاں تک کہ نجی اسپتالوں کی حمایت میں مختلف امراض کی جانچ کرنے والی لیباریٹریوں نے بھی اپنا کاروبار بند کردیاہے، جس کی وجہ سے امراض کی تشخیص میں بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

زوردار بارش کے نتیجے میں مینگلور سے بنٹوال کو جوڑنے والا مُلار پٹنہ بریج ٹوٹ گیا؛ عوام نے ریت کی غیر قانونی کان کنی کو بتایا ذمہ دار

گذشتہ کئی دنوں سے جاری زوردار بارش کے نتیجے میں  مینگلور تعلقہ کو بنٹوال سے جوڑنے والا ایک بریج آج پیر کو بالاخر ٹوٹ گیا جس کے ساتھ ہی  دونوں علاقوں کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ یہ پل مُلار پٹنہ میں  فالگونی ندی پر سے گذرتا تھا۔

نریگا منصوبہ کے تحت مرکز سے 1050 کروڑ روپئے باقی بقایاجات کی ادائیگی کیلئے مرکزی حکومت سے اپیل کی گئی ہے : کرشنا بائرے گوڈا

روزگار ضمانت اسکیم کے تحت نریگامزدوروں کو مرکزی حکومت سے 1050 کروڑ روپئے ادا ہونے باقی ہیں ۔ جلد از جلد رقم جاری کرنے کیلئے مرکز سے مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ریاستی وزیر دیہی ترقیات و پنچایت راج کرشنا بائرے گوڈا نے یہ بات بتائی ۔

بیرونی ریاستوں کے ادویات پر نگاہ رکھی جائے ڈرگس کنٹرول آفس کے دورہ کے دوران شیوا نند ایس پاٹل کی افسروں کو ہدایت

ریاستی وزیر صحت شیوانند ایس پاٹل نے جمعہ کے دن اچانک شہر کے ڈرگس کنٹرول کے دفتر کا دورہ کرکے وہاں موجود ایچ پی ایس سی لیابریٹری، اینٹی بائیوٹک، اسٹیریلٹی ٹسٹنگ سنٹر کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پر انہوں نے بیرونی ریاستوں سے درآمد ہونے والی دوائیوں پر کڑی نظررکھنے اور میعاد ختم ...

حج بھون کو نام رکھنے کے سلسلہ میں ابھی فیصلہ نہیں ہوا:پرمیشور

حج بھون کو ٹیپو سلطان سے منسوب کرنے کے سلسلہ میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ، یہ بات ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشورنے کہی ۔ شہر میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیپوسلطان کے سلسلہ میں بی جے پی کے قائدین پہلے بھی تنازعہ کھڑا کرچکے ہیں ،

ناراض سابق وزیر اعلیٰ کا اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ اجلاس سدارامیا کو کابینہ درجہ کا عہدہ دینے مخلوط حکومت کافیصلہ

ریاستی اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس پارٹی اکثریت سے جیت درج نہیں کرپائی تو ریاست میں مخلوط حکومت تشکیل پائی ۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا پانسالہ انتہائی مشغول ترین ایام سے فراغت حاصل کرکے میسور،باگل کوٹ اور بادامی کا دورہ کرتے ہوئے تازہ دم ہونے کے لئے قدرتی جڑی بوٹیوں کا ...