کانگریس سب سے بڑی پارٹی بی جے پی کا بھی بہتر مظاہرہ، بطوروزیراعلیٰ سدارامیا پہلی پسند

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th April 2018, 11:17 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی،13؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس کے ہاتھ میں تقریباً 5سال سے کرناٹک کی کمان ہونے سے حکومت مخالف رجحان کے باوجود سب سے پرانی پارٹی جنوب کی اس ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے طورپر ایک بار پھر ابھرنے جارہی ہے ۔ حالانکہ ریاست کرناٹک میں سہ رخی اسمبلی انتخابات کے آثار نظر آرہے ہیں ۔’’انڈیا ٹوڈے۔کاروی انسٹائینز‘‘اوپنئن پول کے مطابق کانگریس جہاں اکثریت کے عدد سے کچھ ہی سیٹ پچھڑتی نظر آرہی ہے ۔وہیں اس بار 2013 اسمبلی انتخابات کے مقابلہ میں بی جے پی، پارٹی میں اتحاد کی بنیاد پر کچھ بہتر مظاہرہ کرتی نظر آرہی ہے ۔ بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے موضوعات پر لوگوں کے غصہ سے جو نقصانات کانگریس کو ہورہے تھے ، اس کی کافی حد تک بھرپائی وزیراعلیٰ سدارامیا نے اپنے موجودہ دور حکومت کے آخری دور میں کئی اہم اقدامات کے ذریعہ کردی ہے ۔سدارامیا کو ریاست کے عوام نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنی پہلی پسندبھی تسلیم کیا ہے ۔ انڈیا ٹوڈے کاروی کی جانب سے 17مارچ اور15 اپریل کے درمیان کرناٹک کے سبھی 224 سیٹوں کے لئے کرائے گئے اوپنئن پول کے مطابق کانگریس 90 سے 101 سیٹوں پر جیت کا پرچم لہرانے جارہی ہے ۔ اس پول کا اندازہ ہے کہ کانگریس کو 2013 میں ہوئے ریاستی اسمبلی انتخابات میں 37 فیصد ووٹ ملے تھے ۔اس بار بھی اتنے ہی ملنے کا امکان ہے ۔اس کے باوجود کانگریس ریاست میں اکثریت کیلئے ضروری 113 سیٹوں کے جادوئی ہدف سے کچھ پیچھے رہ جائے گی۔ جبکہ کانگریس نے 2013 انتخابات میں 122 سیٹوں پر جیت درج کرکے اکثریت حاصل کی تھی ۔ اوپنئن پول کے مطابق ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی بھی 2013 کے مقابلہ میں کہیں بہتر مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کو کڑی ٹکر دیتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ مذکورہ پول کے مطابق کرناٹک میں بی جے پی کے کھاتے میں 78 سے 86 سیٹیں جاتی دکھ رہی ہیں۔ جبکہ 2013 میں اسے 40 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی ۔ حالانکہ اس وقت بی جے پی کا اپنا گھر ہی پورے طورپر منقسم تھا ۔اس وقت ایڈی یورپا نے اپنی الگ پارٹی بناکر انتخابات میں حصہ لیا تھا اور 6سیٹیں جیتی تھیں ۔اسی طرح سری راملو نے بھی بی جے پی سے الگ ہوکر بی ایس آر کانگریس پارٹی تشکیل دے کر انتخاب لڑا تھا جسے 4سیٹوں پر کامیابی ملی۔اس تناظر میں 2018 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی متحد نظر آرہی ہے ۔ اوپنئن پول کے مطابق بی جے پی کو 2013 کے 32.6 فیصد ووٹ شیئر(کے جے پی اور بی ایس آر سی بی ووٹ شیئر ملاکر) کے مقابلہ میں اس بار 35 فیصد ووٹ شیئر ملنے جارہا ہے ۔ جہاں تک ریاست میں تیسری طاقت مانی جانے والی پارٹی جنتادل سکیولر (جے ڈی ایس) کا سوال ہے، اوپنئن پول کے مطابق یہ پارٹی بی ایس پی جیسی اتحادی پارٹیوں کے ساتھ مل کر 34 سے 43 سیٹوں پر جیت حاصل کرنے جارہی ہے ۔2013 اسمبلی انتخابات میں جے ڈی ایس کو 40 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی ۔پول کے مطابق جے ڈی ایس /اتحادی کاووٹ شیئر گذشتہ اسمبلی انتخابات کے 21 فیصد سے گھٹ کر 19 فیصد ہونے کا امکان ہے ۔ 29 فیصد ووٹر مانتے ہیں کہ جے ڈی ایس کو کانگریس کے ساتھ مل کر ریاست میں حکومت بنانی چاہئے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ سہ رخی مقابلہ میں جے ڈی ایس کنگ میکر کے طورپر سامنے نظر آسکتا ہے ۔ اوپنئن پول کے مطابق ریاست میں دیگر کو 4 سے 7 سیٹیں ملنے کا امکان ہے ۔جہاں تک وزیر اعلیٰ کی پسند کا معاملہ ہے تو ریاست کے 33 فیصد ووٹروں نے سدارامیا کو ہی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے پسند کیا ہے جبکہ بی جے پی کے ایڈی یورپا کو 26 فیصد ۔ نصف سے زائد ووٹرمانتے ہیں کہ سدارامیا نے ریاست میں سوکھے کی پریشانیوں کو اچھے طریقہ سے نمٹایا ہے ۔مذکورہ پول کے مطابق 73 فیصد ووٹروں نے اسکولوں میں کنڑا زبان کو لازم بنانے کی حمایت کی ہے ۔ اسی طرح کرناٹک کے علاحدہ جھنڈکی حمایت میں 59 فیصد افراد نے ووٹ دیا ہے ۔کرناٹک کے ووٹروں کی ایک اچھی خاصی تعداد یہ مانتی ہے کہ کاویری آبی تنازع پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ سے کانگریس کو اچھا خاصہ فائدہ ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

ہندو لیڈر سورج نائک سونی نے اننت کمار ہیگڈے کو کہا،مودی حکومت کا داغدار وزیر؛ اُس کی مخالفت میں کام کرنے کے لئے نوجوانوں کی ٹیم تیار

ضلع شمالی کینرا میں ایک نوجوان ہندو لیڈر کے طور پر اپنی پہچان رکھنے والے کمٹہ کے سورج نائک سونی نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں چل رہی مرکزی حکومت میں اننت کمار ہیگڈے کی حیثیت ایک داغداروزیر کی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں ...

کرناٹک میں نوٹیفکیشن کے پہلے دن 6؍امیداروں کی نامزدگیاں داخل 

ریاست میں لوک سبھا الیکشن کے پہلے مرحلہ میں 14؍سیٹوں پر 18؍اپریل کو ہونے والے الیکشن کے لئے پرچہ نامزدگی کرنے کا آغاز ہوگیا ۔ پہلے دن چار حلقوں میں6؍ امیدواروں کی جانب سے 11؍ مزدگیاں داخل کئیں۔ یہ اطلاع ریاستی الیکشن افسر سنجیو کمار نے دی۔

بنگلورو کے تینوں پارلیمانی حلقوں میں ڈی سی پیز کی زیرنگرانی سخت بندوست لائسنس یافتہ 7؍ہزار ہتھیارات تحویل میں :پولیس کمشنر ٹی۔ سنیل کمار

پولیس کمشنر ٹی۔ سنیل کمار نے بتایا کہ بنگلور سنٹرل ،بنگلور نارتھ اور بنگلور ساؤتھ لوک سبھا حلقوں میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سطح کے پولیس افسروں کی نگرانی میں پولیس کا سخت بندوبست کیاگیا ہے۔

کرناٹک میں انتخابات متحد ہوکر لڑنے کانگریس جے ڈی ایس کا فیصلہ 

اگلے لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کے درمیان کانگریس اور جے ڈی ایس کو مقامی سطحوں پر جن مشکلوں کاسامنا کرنا پڑرہاہے ان سے نپٹنے اور متحد ہوکر انتخابات لڑنے کے ساتھ ریاست میں زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے آج کانگریس اور جے ڈی ایس قائدین کااعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ ...

دھارواڑمیں زیر تعمیر عمارت گر گئی ، 2افراد ہلاک ، کئی زخمی 

دھارواڑ میں زیر تعمیر 5منزلہ عمارت بیٹھ گئی جس کے سبب 2افراد ہلاک اورکئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے ۔ اس حادثے میں سلیم مکاندار (28)ہلاک ہوگئے ہیں ۔ دھارواڑ کے کمار میشورنگر میں زیر تعمیر کامپلکس گرگیا۔ ملبے کے نیچے دبے ہوئے افراد کو باہر نکالنے کے لیے محکمۂ پولیس ، فارئر ...

پربھنی میں جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ کی ورکنگ کمیٹی میں اہم امور طے ہوئے

جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ کے اراکین عاملہ کا ایک اہم اجلاس مفتی مرزا کلیم بیگ ندوی صدر جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ کی صدارت میں سٹی فنکشن ہال ،پربھنی میں منعقد ہوا ،جس میں حالات حاضرہ اور دیگر چند اہم امور پر تبادلہ خیال کے بعد فیصلہ لیا گیا ۔مجلس عاملہ جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ کے اس اجلاس ...